دہلی کے نظام الدین واقع مرکز ی مسجد کی عمارت پر کارروائی کی تیاری:دانشوران خاموش کیوں؟

Source: S.O. News Service | Published on 6th April 2020, 11:58 AM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی،6؍اپریل(ایس اوایجنسی) کورونا وائرس کے زبردست پھیلاؤ سے جہاں پورا ہندوستان متاثر ہوکر خوف زدہ ہوگیا ہے وہیں ایک طاقت ایسی بھی ہے جو مخصوص طبقے کے خلاف زبردست مہم چلانے میں مصروف ہے-

22/مارچ کو جنتا کرفیو کے اعلان پر جہاں ہندو اورمسلمانوں نے مل کر وزیراعظم کی ہدایت پر مکمل طورپر عمل کرکے یہ ثابت کیا کہ وہ ہندوستان کو بچانے ہمیشہ تیار ہے وہیں 25مارچ سے 21 دن کیلئے ملک گیر لاک ڈاؤن کے فیصلے پر بھی تمام نے سر جھکا دیا-

اچانک اور پیشگی اطلاع کے بغیر اتنابڑا فیصلہ لینا کیا ملک کے وزیراعظم کیلئے مناسب تھا یہ سوال شروعاتی دور سے ہورہا ہے- اس اچانک فیصلے نے منادر،مساجد، خانقاہوں اور دیگر عبادت گاہوں میں عقیدت مندوں کو قید کردیا- ایسے میں ان پر الزام لگانا یہ کہاں تک صحیح ہوگا کہ یہیں سے وائرس پھیلا - جب کہ عالمی صحت تنظیم(WHO) نے مارچ کے اوائل میں ہی ہندوستان کو متنبہ کردیا تھا کہ وہ سماجی فاصلے (سوشیل ڈسٹینس) کا نفاذ کرے -

لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورہ کی وجہ سے ہندوستان نے یہ قدم نہیں اٹھایا- تاخیر سے اٹھے قدم کے بعد کورونا وائرس پھیلتا رہا- آہستہ آہستہ لوگوں کی موت ہوتی رہی، سوال کرنے والوں نے سوال کیا، امریکی صدر کے ساتھ آنے والے 75 لوگوں کی جانچ کیوں نہیں ہوئی؟ ممکن ہے کہ یہ وائرس انہی کے ذریعہ پھیلا ہو-

بہرحال ملک کورونا وائرس کی زد میں ہے،حالات انتہائی سنگین ہوتے جارہے ہیں، اس کے خاتمے کیلئے کوشش کرنے کی بجائے تبلیغی جماعت کا ایشو چھیڑ کر شرپسندوں نے نہ صرف یہ کہ ہندوستان میں ایک طبقے کے خلاف بہتر نہیں کیا ہے بلکہ ہندوستان کی سا لمیت کے ساتھ بھی اس نے کھلواڑ کیا ہے -جب سے تبلیغی جماعت کا معاملہ آیا ہے اس وقت سے ہی ماضی کی طرح مسلم سیاسی لیڈروں، دانشوروں اور علمائے کرام نے مسلمانوں سے ہی تحمل کی اپیل کی ہے لیکن کسی نے بھی سرکار کی طرف سے ہورہی کوتاہی اوربدنظمی پر سوال اٹھاتے ہوئے میمورنڈم پیش نہیں کیا ہے -

جب بھی مسلم جماعتوں اور مسلمانوں میں سے کسی فرد پر حکومت کی طرف سے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس وقت مذکورہ تمام لوگ اسٹیج سجا کر اور پریس ریلیز جاری کرکے یہ پیغام دینا شروع کردیتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکومت کی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے- لیکن جن پریشانیوں سے مسلمان گزررہے ہوتے ہیں ان کے تعلق سے کوئی آواز نہیں اٹھتی-

وزیراعظم کے دفترکو بذریعہ میل یا بذریعہ ٹیلی فون خبر نہیں کی جاتی کہ مخصوص طبقے کے خلاف اس طرح کی مہم چلائی جارہی ہے اور نہ یہ بتایا جاتا کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں ایک عقیدے کو 130 کروڑ لوگوں پر تھوپا نہیں جاسکتا- انہی خاموشی اور غلط حکمت عملی کی وجہ سے آج دہلی میں اوردہلی سمیت ملک کی دیگر ریاستوں میں جماعت کے خلاف ایک مہم چلائی جاچکی ہے -اسی کے پیش نظر جہاں ایک طرف پکڑ پکڑ کر اسے میڈیا کے سامنے پیش کرکے کورونا وائرس کے پھیلنے کا سبب بناکر پیش کیا جارہا ہے وہیں اب شرپسند عناصر کے حوصلے اتنے بلند ہوگئے ہیں کہ وہ تبلیغی مرکز کو ہی ختم کرنے پر تل گئے ہیں -مرکز کی عمارت پر اب جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے-

دراصل مرکز کی عمارت دو پلاٹ جوڑ کربنائی گئی ہے یہ کل سات منزلہ عمارت ہے- جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے مطابق اس عمارت کے صرف دو فلور کا نقشہ پاس ہے- اس عمارت کا کبھی ہاؤس ٹیکس نہیں بھرا گیا ہے- فی الحال جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کے مطابق پہلے اس جگہ صرف ایک مسجد تھی اور اس کے بعد یہاں ایک مدرسہ بنایا گیا- لیکن بعد میں یہاں تقریباً 70 فیصد غیر قانونی تعمیر کرکے مرکز کی عمارت بنائی گئی-

اب جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن اس عمارت کی تمام دستاویزیں چیک کر رہا ہے اور اس عمارت کی غیر قانونی تعمیر کو توڑنے کی تمام کاغذی کارروائی شروع ہو چکی ہے- جنوبی دہلی میونسپل اسٹانڈنگ کمیٹی کے چیئرمین راج پال سنگھ کا کہنا ہے کہ مرکز کی فائل انہوں نے منگوائی ہے، جلد ہی اس پر کارروائی ہوگی-

 

ایک نظر اس پر بھی

 کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔

مرڈیشور میں سیاحوں کی آمد ورفت میں اضافہ :افسران کی غفلت سے مین روڈ کا تعمیری کام برسوں سے  تعطل کا شکار

مرڈیشور ایک سیاحتی مرکز کے طور پر بہت مشہور ہے ،ملک و بیرونی ملک اور ریاستوں کے سیاح جب مرڈیشور کے مین روڈ سے گزرتے ہیں تو خستہ سڑک کی بدولت سر شرم سے جھک جاتاہے۔ مرڈیشورکے عوام اس حالت کے لئ ے  افسران کی لاپرواہی  کو ذمہ دار مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  مشہور سیاحتی مقام کی اہم ...

رام مندر کی بنیادیں کیوں لرز رہی ہیں؟ ... معصوم مرادآبادی

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر جس ’ عظیم الشان‘رام مندر کی تعمیر ہورہی ہے ، اس کا خمیر ظلم اور ناانصافی سے تیار ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی تعمیرمیں ایسی دشواریاں حائل ہورہی ہیں ، جن کا تصور بھی مندر تعمیر کرنے والوں نے نہیں کیا ...

گرام پنچایت انتخابات  کے نتائج: ریاست کے مختلف مقامات سےکچھ اہم اور دلچسپ جھلکیاں

ریاست کرناٹک  میں گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوچکا ہے جس میں ایک طرف بی جےپی حمایت یافتہ امیدوار وں نے سبقت حاصل کی ہے تو دوسری طرف کچھ اہم اور دلچسپ قسم کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں ساس نے بہو کو ہرایا ہے، کچھ میں شوہر کو جیت اور بیوی کو شکست ہوئی ہے تو ...