بنگلہ دیش: شدید بارش سے 50 ہزار روہنگیا متاثر، 5 ہزار پناہ گاہیں تباہ، 10 ہلاکتیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th July 2019, 4:57 PM | عالمی خبریں |

ڈھاکہ،15؍جولائی (ایس او نیوز؍یواین آئی) بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع کاکس بازار میں شدید مانسونی بارش اور اس کی وجہ سے تودے گرنے سے اب تک 50 ہزار روہنگیا متاثر ہوئے ہیں اور جھونپڑی نما 5000 پناہ گاہیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ اس کی وجہ سے اب تک کم از کم 10 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات نے کہا کہ کاکس بازار ضلع میں دو جولائی سے اب تک کم از کم 58.5سینٹی میٹر(تقریباً دو فٹ)بارش درج کی گئی ہے۔اس ضلع میں میانمار میں فوج کی کارروائی کے بعد 10لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین مختلف راحت کیمپوں میں رہ رہے ہیں اور زیادہ تر نے رہنے کےلئے جھوپڑی نما گھر بنا رکھا ہے۔

انٹرنیشنل آرگینائزیشن فار مائگریشن (آئی او ایم)کے ترجمان نے کہا کہ جولائی کےپہلے دو ہفتوں میں پناہ گزین کیمپوں میں شدید بارش سے تودے گرنے کے واقعات پیش آئے جس میں تقریباً 4،889ترپال اور باسوں سے بنائےگئےگھر تباہ ہوگئے۔پناہ گزینوں کے زیادہ راحت کیمپ پہاڑی ڈلانوں پر بنے ہوئےہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ میانمار کی سرحد کے پاس بنے کیمپوں میں اپریل سے 200سے زیادہ مرتبہ تودے گرنے کے حادثے ہوئےہیں اور کم از کم 10 لوگ مارے گئےہیں جبکہ اس دوران کل 50ہزار پناہ گزین متاثر ہوئے ہیں۔ پچھلے ہفتے شدید بارش کی وجہ سے دو روہنگیا نابالغوں کی مو ت ہوگئی،جبکہ 6000 دیگر پناہ گزین بے گھر (راحت کیمپوں کے بغیر)ہوگئے۔اقوام متحدہ نے کہا کہ پانچ اسکول بری طرح اور 750سے زیادہ تعلیمی مراکز جزوی طورپر تباہ ہوگئےاور اس سے تقریباً 60ہزار بچوں کی اسکولی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔

بے گھر پناہ گزینوں نے کہا کہ وہ بارش سے متاثر ہیں کیونکہ اس سے روزانہ کے استعمال کا سامان راحت کیمپوں تک پہنچانے میں دقت ہورہی ہے۔ایک روہنگیا پناہ گزین نورین جان نے کہا کہ مٹی کے دلدل سے ہوکر کھانا تقسیم کرنے والے مراکز تک جانا مشکل ہے۔بارش اورتیز ہوا نے ہماری زندگی اور زیادہ مشکل بنا دی ہے۔پناہ گزینوں نے پینے کے پانی کی کمی اورصحت سے متعلق ایک بھیانک بحران پیدا ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام(ڈبلیو ایف پی)کی ترجمان گوما سنوڈن نے کا کہ مانسون سے نمٹنے کےلئے انہیں کیمپوں میں مدد میں اضافہ کرنا پڑا۔شدید بارش کی وجہ سے اب تک 11ہزار 400لوگوں کو اور زیادہ کھانے کی مدد کی ضرورت ہے جبکہ پچھلے سال پوری جولائی میں صرف 7000لوگوں تک ہی یہ مدد پہنچائی گئی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا گیا، چین میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 56 ہوگئیں ؛ چین سے دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے کا خدشہ

چین کی حکومت نے کہا ہے کہ 25 جنوری تک 1975 افراد کے 'کورونا' وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہوئی ہے اور اس وائرس سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔دوسری طرف 'کورونا' وائرس کو عالمی وباء قرار دیتے ہوئیاس کے انسداد کے لیے عالمی سطح پر مزید اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔یہ وائرس گذشتہ ...

ترکی میں زلزلے کے باعث ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری طاقت ور زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوگئی، 1400 زخمی

ترکی میں جمعہ کی شام آنے والیطاقت ور زلزلے کے نتیجے میں اب تک 29 افراد جاں بحق جب کہ 1400 زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیاداوں پر امدادی کام جاری ہے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ مشرقی ترکی کے علاقوں میں آنے والے اس تباہ کن زلزلے کیباعث دسیوں افراد لاپتا ...

آپ کا شکریہ... ٹرمپ نے مذاکرات سے متعلق ایران کی مشروط پیش کش مسترد کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ وہ پابندیاں اٹھائے جانے کی شرط کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی حالیہ تجویز کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ایرانی وزیر ...

امریکی ڈیموکریٹس پرصدر ٹرمپ کے خلاف من گھڑت معلومات فراہم کرنے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر ری پبلیکنز کی طرف سے شدید تنقید کرتے ہوئے ان معلومات کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کے رکن سینیٹر رِک اسکاٹ نے کہا ہے کہ 'ڈیموکریٹس نے صدر کے ...

اردغان کی معاہدے کی خلاف ورزی، ترک فوجیوں کی لیبیا آمد جاری

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے لیبیا میں عدم مداخلت سے متعلق طے پائے برلن معاہدے کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ ترکی کی طرف سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے مسلسل فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔کل جمعہ کو ترک صدر نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں فائز السراج کی قیادت میں ...