ممبئی: کرناٹک کے وزیر شیوکمار، ملند دیوڑا اور نسیم خان پولس حراست میں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 11:21 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

ممبئی،11؍جولائی(ایس اونیوز؍یو این آئی) کرناٹک کے کانگریس و جنتا دل حکومت کو بچانے کے لئے آج جب یہاں کرناٹک کے وزیر شیوکمار ممبئی کے مضافات میں واقع ایک ہوٹل جہاں کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی قیام پذیر ہیں، انہیں منانے کے لئے ہوٹل پہنچے تو پولس کی بھاری جمعیت نے شیوکمار سمیت سابق مرکزی وزیر ملند دیوڑا، کانگریس کے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محد عارف نسیم خان کو حراست میں لے لیا اور انہیں ممبئی یونیورسٹی کے گیسٹ ہاوس میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق آج علی الصبح شیوکمار جب پوائی علاقہ میں واقع ریننسن ہوٹل پہنچے تو یہ علاقہ پولس چھاونی لگ رہا تھا۔ مقامی ڈپٹی کمشنر آف پولس اور اعلی پولس افسران نے شیو کمار کو ہوٹل میں جانے سے روک دیا جس کے بعد انہوں نے اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ آمد باغی اراکین اسمبلی کے مدعو کیے جانے پر ہی عمل میں آئی تھی نیز ان کا اسی ہوٹل میں کمرہ بھی بک تھا لیکن پولس نے نظم و نسق کا بہانہ بنا کر انہیں اس ہوٹل میں قیام کرنے سے روک دیا۔

اس موقع پر باغی اراکین اسمبلی کے کئی ایک حمایتی بھی موجود تھے جنہوں نے شیوکمار واپس جانے کے نعرے بھی لگائے۔ اسی درمیان باغی اراکین اسمبلی نے ممبئی پولس میں شکایت درج کرائی ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لئے انہیں بھرپور تحفظ فراہم کیا جائے۔ شیو کمار کو جب ہوٹل میں جانے سے روک دیا گیا تو وہ ہوٹل کے روبرو ہی ملند دیوڑا، سنجے نروپم اور نسیم خان کے ہمراہ سڑک پر احتجاج کرنے بیٹھ گئے جس کے بعد پولس نے انہیں اور دیگر کانگریسی لیڈران و کارکنان کوحراست میں لے لیا۔

اس موقع پر اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ کرناٹک میں جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی کانگریس و جنتادل کی حکومت کو گرانے کے لئے بی جے پی کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں اور جس کے لئے مرکزی حکومت سے لے کر دیگر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کی مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے بی جے پی کی جانب سے جمہوریت کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آمرانہ ذہنیت رکھنے والی بی جے پی لیڈران کا واحد ایجنڈا حزبِ مخالف کی حکومت نہ چلنے دینے کا ہے۔ اس کے لئے سام، دام، ڈنڈ، بھید کا استعمال اور حکومتی مشینری کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ گوا، منی پور، اروناچل پردیش وبہار میں اسی کا استعمال کرتے ہوئے بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ہے اوراب مغربی بنگال وکرناٹک میں بی جے پی کی وہی کوشش شروع ہے۔

سابق مرکزی وزیر ملند دیوڑا نے کہا کہ کرناٹک حکومت گرانے کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ مہاراشٹر کی فڑنویس حکومت بھی کوششیں کر رہی ہے۔ ریاست کے وزراء عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے کرناٹک حکومت گرانے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران کے ذریعے کانگریس کے ممبران اسمبلی کو ذاتی طیارے سے ممبئی لاکر فائیواسٹار ہوٹلوں میں انہیں رکھا جا رہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو۔بنگلوروٹریک پرچٹان توڑنے کا کام مسلسل جاری۔ دن کے وقت چلنے والی ریل گاڑیاں 24جولائی تک کے لئے منسوخ

انی بندا کے قریب سبرامنیا سکلیشپور ریلوے ٹریک پر ایک بڑی چٹان لڑھکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس حادثے کو روکنے کے لئے پہاڑی تودے کو دھماکے سے توڑنے کاکام پچھلے دو تین دن سے جاری ہے جس کے لئے ہیٹاچی مشین کے کامپریسر اور بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تیز برسات کی وجہ سے دن ...

کرناٹک: بی ایس پی ارکان اسمبلی کمارسوامی کے حق میں ووٹ کریں گے:مایاوتی

کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس کی مخلوط حکومت رہے گی یا جائے گی اس کا فیصلہ آج ہو جائے گا ۔ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی ٹوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بیچ بی ایس پی سپریموں نے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی کمارسوامی حکومت کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ ...

مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔