’وایو‘ نامی طوفان گجرات کے ساحل سے 175 فی کلومیٹر کی رفتار سے ٹکرانے کا خدشہ؛ چار لاکھ لوگ محفوط مقامات کی طرف منتقل؛ ائرپورٹ بند، ریلوے سروس معطل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th June 2019, 12:44 AM | ملکی خبریں |

نئی د ہلی 12/جون (ایس او نیوز) بحیر عرب میں بنا گردابی طوفان  ' وایو'  نے اب خطرناک روپ اختیار کر لیا ہے اور جمعرات صبح یہ طوفان گجرات کے ساحل سے 175 کلو میٹر کی رفتار سے ٹکرانے کا خدشہ ہے ۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے  کہا کہ حالات سے نپٹنے کے لئے این ڈی آر ایف کی 52 ٹیموں کو تعینات کیا گیا ہے ساتھ ساتھ فوج کے تینوں  شعبوں اور کوسٹ گارڈ کو بھی الرٹ  رکھا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے احمد آباد کے  ڈائریکٹر جینت سرکار نے بتایا کہ وایو طوفان نے  اب توقع سے  زیادہ خطرناک رُخ اختیار کرلیا ہے  اور صبح یہ گجرات کے ویراول ساحل سےکافی تیز رفتاری کےساتھ  ٹکرائے گا۔

اس سے قبل بتایا جارہا تھا کہ یہ طوفان  110 سے  155 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرانے والا ہے  مگر اب بتایا گیاہے کہ یہ اُس سے بھی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور خدشہ ہے کہ  175 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے یہ  گجرات کے ویراول ساحل سے ٹکرانے والا ہے۔

خطرناک طوفان کے پیش نظر  گجرات کے  ساحلی اضلاع پر احتیاط کے  طور پر وسیع اقدامات کیے گئے ہیں۔11ساحلی اضلاع کے اسکولوں میں آج بدھ  اور کل جمعرات کو  چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلی وجے روپانی نے صرف اسی موضوع پر آج کابینہ کی میٹنگ  بھی بلائی  اور تمام حالات کا جائزہ لیا۔  انہوں نے  سبھی انچارج وزرا کو اپنے اپنے   اضلاع میں الرٹ رہنے  کی بھی  تاکید کی۔ اس کے علاوہ سبھی سرکاری افسروں کی چھٹیاں رد کردی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں ماہی گیروں کی کشتیاں واپس لوٹائی گئی ہیں جبکہ گھوگھا اور دہیج کے درمیان کھنبھات کے خلیج میں چلنے والی رو رو فیری کو کل سے تین دن کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

تقریباً 408 ساحلی گاؤں کے  لوگوں کو منتقل کرنے کا کام آج صبح شروع  کیا گیا تھا اور شام تک چار لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف  منتقل کیا گیا ہے۔ راحت اور بچاؤ کے کام کے لئے تینوں افواج کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔ این ڈی آر ایف کی تیس سے زیادہ ٹکڑیاں ان علاقوں میں تعینات ہیں۔ طوفان کے پیش نظر ساحلی علاقوں میں بھاری بارش کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ سمندری ساحلوں پر لوگوں کو نہ جانے کی صلاح دی گئی ہے۔ ادھر ساحلی علاقوں سمیت ریاست کے کئی مقامات پر آج بادل چھائے رہیں گے اور کئی مقامات پر بوندا باندی بھی ہوئی ہے۔ سمندر ی ساحل پر اونچی لہریں اٹھ رہی ہیں۔

ائرپورٹ بند، ریلوے سروس معطل:  خطرناک طوفان کے پیش نظر ریلوے، سڑک اور ہوائی سفر  سبھی معطل کردی گئی ہیں ، پور بندر سمیت متاثرہ علاقوں کے ائرپورٹ سے اُڑانوں کو  بند کردیا گیا ہے۔ بتایا گیاہے کہ ائرپورٹ بند ہوجانے سے چار سو اُڑانوں پر اس کا اثر پڑا ہے۔ مغربی ریلوے نے  گجرات میں 15 ٹرینوں کو  رد کردیا ہے، کئی ایک ٹرینوں کے اوقات میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بندرگاہ پر بھی کام کاج ٹھپ ہے۔

بتایا گیا ہے کہ  احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ارپورٹ سے  جمعرات کو  سو راشٹرا سے پور بندر، دیو، کانڈلا، منڈا، بھاو نگر کی اُڑانیں معطل کردی گئی ہیں۔ سبھی لوگوں کو گجرات کے ساحلی علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے دو بار ایسے طوفانوں کی وارننگ آخر میں غلط ثابت ہوگئی تھی۔ سال 2014 کے اکتوبر میں نیلوفر طوفان اور 2017 کے دسمبر میں اوکھی طوفان گجرات ساحل سے ٹکرانے  کی بات کہی گئی تھی مگر جب طوفان آیا تو  بے حد معمولی طوفان رہا  جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا حالانکہ اُس وقت بھی طوفان   سے نمٹنے کے لئے وسیع تیاریاں کی گئی تھیں اور تینوں افواج کو بھی تیار رکھا گیا تھا۔

 

ایک نظر اس پر بھی

راجیہ سبھا میں کانگریس نے گاندھی خاندان کی ایس پی جی سیکورٹی بحال کا مطالبہ کیا

راجیہ سبھا میں بدھ کو کانگریس نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی، پارٹی کے سابق صدر اور رہنما راہل گاندھی اور پارٹی کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی ایس پی جی سیکورٹی واپس لئے جانے کا معاملہ اٹھایا۔

ہوم گارڈ ڈیوٹی گھوٹالہ: فرضی ڈیوٹی دکھا کروصولی کر رہے تھے ہوم گارڈ افسر،گرفت میں آئے تو جلادئیے دستاویز

گوتم بدھ نگر کے گریٹر نوئیڈا میں ایک بڑے گھوٹالے کے تمام دستاویزات کو جلا کر راکھ کر دیا گیا۔گھوٹالہ یہ تھا کہ ضلع میں ہوم گارڈ کی ڈیوٹی میں فرضی انٹری دکھائی جا رہی تھی،

جے این یو پر بہار کے ڈپٹی سی ایم سشیل مودی بولے، کیمپس میں بیف پارٹی کرنے والے شہری نکسلی غریب طالب علموں کو کررہے ہیں گمراہ

جواہر لالو نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اضافی فیس کے خلاف چل رہے مظاہرے پر بہار کے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے ٹویٹ کر کے مخالفت کا اظہار کیا ہے۔