یوپی:403 میں سے 143 اراکین اسمبلی پرفوجداری مقدمات درج، بی جے پی کے 61 لوک سبھا اراکین پارلیمنٹ میں سے 35 کے خلاف کیس

Source: S.O. News Service | Published on 9th July 2020, 9:45 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی9جولائی(آئی این ایس انڈیا) دہشت گرد وکاس دبے کو جمعرات کے روز پولیس نے اجین سے گرفتار کیا ہے۔ کان پور کے گاؤں میں وکاس نے 8 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔

اس واقعے کے بعدبہت سارے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں نے یوگی حکومت کے سسٹم پرگھیرا۔عام بات ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات میں مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ کھلے عام امیدوار کھڑا کرتی ہیں۔ ان میں سے بہت سے امیدوار جیت کرلوک سبھا اور اسمبلی تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن جب ایک ہی مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے سیاستدان کہیں اور سے ایم ایل اے یا ایم پی ایز بن جاتے ہیں تو وہ مجرموں کے خلاف سخت الفاظ میں بات کرتے ہیں۔22 کروڑ سے زیادہ آبادی والااترپردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ ایسی آبادی پاکستان کے برابرہے۔ اس میں سب سے زیادہ اسمبلی اور لوک سبھا نشستیں ہیں۔

یہاں سے لوک سبھا کے 80 ممبران پارلیمنٹ اور403 ممبران اسمبلی آتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ممبران اسمبلی اور ممبران اسمبلی کے پاس بھی مجرمانہ ریکارڈموجودہیں۔

ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمزکی رپورٹ کے مطابق 2019 میں یہاں منتخب ہونے والے لوک سبھا کے80 اراکین پارلیمنٹ میں سے 44 کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔ جبکہ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں منتخب 403 ارکان اسمبلی میں سے،147 ارکان اسمبلی پر مجرمانہ مقدمات درج کیے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

راجستھان: ’جے شری رام‘ نہ کہنے پر بزرگ مسلم ڈرائیور کے ساتھ مار پیٹ، پاکستان جانے کو کہا!

 راجستھان کے سیر میں ایک 52 سالہ آٹو رکشہ ڈرائیور غفار احمد کچاوا کو ’مودی زندہ آباد‘ اور ’جے شری رام‘ نہ بولنے پر بے رحمی سے پیٹا گیا۔ پولیس نے ہفتہ کے روز یہ اطلاع دی۔ متاثرہ ڈرائیور نے بتایا کہ ان پر حملہ کرنے والے دو لوگوں نے ان کی داڑھی کھینچی اور پاکستان جانے کو کہا۔

ہندوستان: کورونا کے نئے معاملہ ایک دن میں65 ہزار سے پار، اب تک کے سب سے زیادہ

ملک میں کورونا وائرس کی دن بدن خراب ہوتی صورتحال کے درمیان سنیچر کی دیر رات تک65,156نئے معاملے سامنے آنے سے متاثرین کی تعداد 21.50لاکھ سے زیادہ ہوگئی اور 875مزید لوگو کی موت سے مرنے والوں کی تعداد 43,446تک پہنچ گئی لیکن راحت کی بات یہ ہے کہ مریضوں کے صحت یاب ہونے کی شرح 69فیصد کے قریب پہنچ ...

ایئر انڈیا کا طیارہ گرنے کی ایک نہیں کئی وجوہات

ماہرین کا ماننا ہے کہ کیرالہ کے کوزی کوڈ میں جمعہ کی رات ہوئے جہاز حادثے میں تیز بارش کے ساتھ کئی وجوہات رہی ہوں گی۔ائر انڈیا ایکسریس کا بوئنگ 737-800 جہاز جب کوزی کوڈ پہنچا اس وقت وہاں تیز بارش ہورہی تھی۔ جب رن وے گیلا ہوتا ہے تو جہاز کو اترنے کے بعد رکنے کے لئے رن وے پر معمول کے ...