جے این یو میں سب کے لیے قابل رسائی تعلیمی نظام بحال کیا جائے: سی پی ایم

Source: S.O. News Service | Published on 12th November 2019, 7:33 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 12 نومبر (آئی این ایس انڈیا) سی پی ایم نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فیس اضافہ کو لے کر طالب علموں کے احتجاج کو صحیح ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں مداخلت کرکے ہر آمدنی والے طبقے کے طالب علموں کے لئے قابل رسائی تعلیمی نظام بحال کرنی چاہیے۔سی پی ایم پولٹ بیورو نے ایک بیان جاری کرکے فیس اضافہ کی مخالفت میں پراحتجاج طالب علموں کے خلاف پیر کو ہوئی مبینہ پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹل فیس میں بے تحاشہ اضافہ کرکے ملک کے معروف تعلیمی ادارے کواعلی طبقے سے تعلق رکھنے والے طالب علموں تک محدود کر دیا ہے۔پارٹی نے کہا کہ اب تک جے این یو کی تصویر معاشرے کے تمام طبقات کے طالب علموں کے لئے قابل رسائی تعلیم سہولت مہیا کرانے والے تعلیمی ادارے کی تھی۔اس کی وجہ سے 2017 کے تعلیمی سیشن میں جے این یو میں 40 فیصد ایسے طالب علموں کو داخلہ مل سکا تھا جن کے لواحقین کی ماہانہ آمدنی 12 ہزار روپے تک تھی۔پولٹ بیورو نے کہا کہ فیس اضافے کے بعد اب کم آمدنی والے طبقہ کے طالب علموں کو جے این یو میں داخلہ نہیں مل پائے گا،یہ ملک کی نوجوان قابلیت پر سخت حملہ ہے۔پارٹی نے کہا کہ جے این یو کے وائس چانسلر نے اس معاملے میں طالب علم یونین کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے تنازعہ اور زیادہ گہرا ہوگیا۔پولٹ بیورو نے فروغ انسانی وسائل کے وزیر رمیش پوکھریال نشنک سے وائس چانسلر کو طالب علموں سے فوری بات چیت کرنے کے لئے کہنے کی مانگ کی ہے۔پارٹی نے کہا کہ نشنک نے اس معاملے میں پیر کو طالب علموں سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔قابل ذکر ہے کہ پیر کو جے این یو کے کنووکیشن کے دوران طلبہ نے نشنک کا گھیراؤ کرتے ہوئے فیس اضافے کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔پروگرام کے مہمان خصوصی نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو تھے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

غیر ملکی تبلیغی جماعتیوں کی عرضی پر سماعت 10 جولائی تک ملتوی

سپریم کورٹ نے تبلیغی جماعت کے پروگرام میں حصہ لینے والے 34غیر ملکی جماعتیوں کی عرضیوں پر سماعت 10 جولائی تک کے لئے ملتوی کردی اور کہا کہ انہیں اپنے ملک بھیجنے کے معاملے میں وہ مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کے معاملے پر سماعت کرے گا۔

شیوراج کابینہ میں توسیع، 28 وزیروں کی حلف برداری

 بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) کی نائب صدر اور سابق مرکزی وزیر اوما بھارتی نے مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کی کابینہ توسیع کے بالکل پہلے ذات بات تال میل کے سلسلے میں پارٹی قیادت کے سامنے ’اصولی عدم اتفاق‘کا اظہار کیا ہے