مکہ، مدینہ اور ریاض میں مکمل لاک ڈاؤن؛ سعودی عرب میں ایک اور ہلاکت کی تصدیق، کورونا ماٹرین کی تعداد 900 سے متجاوز

Source: S.O. News Service | Published on 26th March 2020, 6:36 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،25؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے بدھ کو کرونا وائرس سے متاثرہ ایک اور مریض کی موت کی تصدیق کی ہے۔اس طرح مملکت میں اس مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد دو ہوگئی ہے اور اس کا شکار افراد کی تعداد 900 سے متجاوز ہوگئی ہے۔

سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد عبدالعالی نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس سے فوت ہونے والی شخص کی عمر 46 سال تھی۔انھوں نے مزید 133 متاثرین کی تصدیق کی ہے۔

کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 18 افراد نے حال ہی میں بیرون ملک سفر کیا تھا اور انھیں سعودی عرب میں واپسی پر قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ صحت کے ترجمان نے منگل کو کرونا وائرس سےایک غیرملکی کی موت کی تصدیق کی تھی۔اس کو مدینہ منورہ میں ایک اسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا تھا جہاں اس کی حالت تیزی سے بگڑ گئی اور وہ سوموار کی شب جان کی بازی ہار گیا تھا۔

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کرونا وائرس کی مہلک وبا کو مملکت میں پھیلنے سے روکنے کے لیے سوموار کی شب سے گیارہ گھنٹے کا کرفیو نافذ کردیا ہے اور بدھ کو تین شہروں مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور الریاض میں لاک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔

مملکت میں شام سات بجے سے صبح چھے بجے تک نافذ اس کرفیو کے دوران میں دارالحکومت الریاض اور دوسرے شہروں میں منگل کی شب بھی بڑی شاہراہیں سنسان نظرآ رہی تھیں اوربعض علاقوں میں ایک طرح سے تو ہُو کا عالم تھا۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس کرفیو کی جو کوئی بھی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا،اس پر 10 ہزار ریال (2663 ڈالر) جرمانہ عاید کیا جائے گا اور اگر کسی نے دوبارہ اس کی خلاف ورزی کی تو اس کو جیل کی ہوا کھانا پڑے گی اور ساتھ دُگنا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

سعودی پریس ایجنسی (واس) کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے شاہی فرمان جاری کرتے ہوئے نئے اقدامات کی منظوری دی ہے۔ شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب کے 13 ریجنوں کے رہائشی اپنے اپنے ریجن میں رہیں گے، ایک ریجن کا رہائشی دوسرے ریجن میں نہیں جائے گا‘۔ شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی ریجن میں کسی دوسرے ریجن کے رہائشی کے داخلے پر مکمل طور پر پابندی ہے‘۔

شاہی فرمان میں ریجنوں میں آنے جانے کی پابندی کے علاوہ خاص طور پر الریاض، مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ کے لیے خصوصی اقدامات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’الریاض، مکہ المکرمہ اور مدینہ آنے جانے پر مکمل پابندی ہوگی، تینوں شہروں کے رہائشی شہر سے باہر نہیں جا سکتے نہ کوئی باہر سے شہر میں داخل ہو سکتا ہے‘۔

شاہی فرمان کے مطابق ’مذکورہ شہروں کے حدود کا تعین جہاں فیصلے کا نفاذ ہوگا متعلقہ ادارہ کرے گا جس کے ذمہ شہروں کے حدود کا تعین ہے‘۔ شاہی فرمان میں کہا ہے کہ ’مذکورہ تینوں شہروں ( ریاض، مکہ اور مدینہ ) میں کرفیو دوپہر 3 بجے سے لاگو ہوگا‘۔ شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ ’مذکورہ فیصلے پر نفاذ جمعرات 26 مارچ سے سابقہ شاہی فرمان میں مقرر کیے گیے وقت تک ہوگا جس کا تعین 27 رجب تک کیا گیا ہے‘۔

شاہی فرمان کے مطابق ’کرفیو سے استثنی انہی لوگوں کو ہوگا جنہیں سابقہ شاہی فرمان میں استثنی دیا گیا ہے تاہم اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کرفیو سے استثنی انتہائی محدود اور ناگزیر حالات میں ہی دیا جائے گا‘۔  فرمان میں کہا گیا ہے ’الریاض، مکہ المکرمہ اور جدہ میں کرفیو کی مدت میں توسیع وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کے حکام کی تجویز پر کی جا رہی ہے، حالات کے مطابق وہ کرفیو کے وقت میں مزید توسیع یا دن بھر مکمل کرفیو لاگو کرنے کا بھی اختیار رکھتے ہیں‘۔

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ عرب امارات: مدت ختم ہو جانے والے اقاموں میں 3 ماہ کی توسیع کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات میں کابینہ نے متعدد نئے فیصلوں کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلے ملک میں مختلف سیکٹروں کو کرونا وائرس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں۔ اس کا مقصد شہریوں ، غیر ملکی مقیمین اور امارات کا دورہ کرنے والوں کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی عرب میں کرونا وائرس سے چوتھی موت کی تصدیق، مزید 99 افراد کے ٹیسٹ مثبت

سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز کرونا وائرس سے چوتھی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں مزید 99 افراد کے اس مہلک وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور اس کے مریضوں کی تعداد 1203 ہوگئی ہے۔

سعودی عرب میں کرونا متاثرین کی تعداد 1104 ہوگئی، امتحانات وقت پر کرانے کا اعلان

سعودی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ جمعہ کی شام تک مملکت میں کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں 92 نئے کیسوں کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد کرونا کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 1104 ہوگئی ہے۔ نئے سامنے آنے والے مریضوں میں 10 غیر ملکی شامل ہیں۔