کووڈ۔19 کے خلاف جنگ: دہلی حکومت جاری کرے گی ہیلپ لائن نمبر ، ضروری ہونے پر دئیے جائیں گے ای پاس

Source: S.O. News Service | Published on 25th March 2020, 5:16 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،25؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی حکومت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی قسم کی دہشت میں نہ آئیں اور دارالحکومت میں لاک ڈاؤن کے دوران ضروری اشیا کی سپلائی برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔

لیفٹننٹ گورنر انل بیجل اور وزیراعلی اروند کیجریوال نے بدھ کو سینئر افسران کے ساتھ بیٹھ کر لاک ڈاؤن کا جائزہ لیا۔ بیجل اور کیجریوال نے میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ دہلی میں ضروری اشیا کی کسی قسم کی کمی نہیں ہونے دی جائےگی اور ریاستی حکومت کی پوری کوشش رہے گی کہ 21 دن کی لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران کوئی بھی بھوکا نہ سوئے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دقتیں ہوں گی لیکن سبھی لوگوں کو اس کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

بیجل نے کہا کہ دارالحکومت میں ضروری خدمات مسلسل چلتی رہیں گی اور انہیں روکا نہیں جائےگا۔حکومت نے حالات پر نظر رکھنے کے لئے نوڈل افسر بھی مقرر کئے ہیں۔

کیجریوال نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بالکل باہر نہ نکلیں ورنہ لاک ڈاؤن کا کوئی مطلب نہیں رہ جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لاک ڈاؤن کے دوران سبزی اور کھانے کے سامان کی سپلائی بنائے رکھنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائےگی۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں سبزی سمیت ضروری اشیا پہنچانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن ضروری خدمات کو لاک ڈاؤن کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ ان کے ملازمین اپنا شناختی کارڈ دکھاکر دفتر آجا سکتے ہیں۔ ضروری اشیا کی خدمات میں لگے ملازمین کو ای پاس دینے کا انتظام کیاجا رہا ہے اور اسے بنوانے کےلئے جلد ہی ہیلپ لائن نمبر جاری کردیا جائے گا۔

وزیراعلی نے کہا کہ منگل کو  وزیراعظم نریندرمودی کے لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے بعد جس طریقے سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا کرنے پر لاک ڈاؤن کا کوئی مطلب نہیں رہے گا۔ میری لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ ڈریں نہیں اور حکومت جائزے کے بعد جو بھی قدم اٹھانے کی ضرورت ہوگی اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

کیجریوال نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ پولیس کو اس کی اطلاع دے سکتا ہے۔ پولیس کمشنر ایس این شریواستو نے اس کے لئے ہیلپ لائن نمبر 23469536 جاری کیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون روبہ صحت ہوکر ہسپتال سے رخصت

وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافے کے بیچ سری نگر کے خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والی وادی کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون مکمل طور پر صحت یاب ہوئی ہے اور اس کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ سے ڈسچارج بھی کیا گیا ہے۔

تبلیغی جماعت کے خلاف کیس واپس لینے کا مطالبہ تبلیغی مرکز سے متعلق پیدا شدہ حالات پر سرکردہ مسلم دانشوروں کا بیان

 تبلیغی مرکز سے متعلق پیداشدہ صورتحال پر سرکردہ دانشوروں اور صحافیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ہم حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس سے یہ اپیل بھی کرنا چاہتے ہیں