کرونا وائرس: یو اے ای میں ایک اور موت،گھروں سے باہرتمام افراد کو ماسک پہننے کی ہدایت

Source: S.O. News Service | Published on 4th April 2020, 11:50 PM | خلیجی خبریں |

دبئی،4؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) متحدہ عرب امارات میں گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس سے ایک اور شخص وفات پاگیا ہے۔اس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے۔

یو اے ای کی وزارت صحت کی خاتون ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحسنی نے ہفتے کے روز کرونا وائرس سے متاثرہ 241 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔اس طرح ملک میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 1505 ہوگئی ہے۔ان میں سے 125 علاج کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں۔

انھوں نے شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کریں اور صرف ناگزیر ضرورت کی صورت ہی میں گھروں سے باہر نکلیں۔

خاتون ترجمان نے تمام شہریوں کو تجویز کیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے وقت چہرے پر حفاظتی ماسک ضرور پہنیں، کیونکہ ان کے بہ قول حالیہ تحقیق سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ جن لوگوں میں کرونا وائرس کی کوئی علامات نہیں ہوتی ہیں، وہ بھی وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

انھوں نے ماضی کی تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس میں صرف ان افراد کو ماسک پہننے کا مشورہ دیا گیا تھا جن میں نظام تنفس کی علامات ظاہر ہوں، وہ کھانس رہے ہوں لیکن نئی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے باہر جانے والے تمام افراد کو ماسک پہننا چاہیے۔

گذشتہ ہفتے حکومت نے یو اے ای میں نظامِ تنفس کا شکار افراد کے ماسک نہ پہن کر گھروں سے باہر نکلنے پر جرمانے عاید کرنے کا اعلان کیا تھا۔ڈاکٹر فریدہ الحسنی نے کہا ہے کہ ہرکسی کو ماسک پہن کر گھر سے باہر نکلنا چاہیے۔

وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں سرجیکل ماسک کی عدم دستیابی کی صورت میں مُنھ اور ناک کو ڈھانپنے کے لیے کاغذ کے ماسک یا گھریلو ساختہ نرم کپڑے کے ماسک استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

ڈاکٹر فریدہ الحسنی نے اس بات پر زوردیا ہے کہ ماسک پہن کر کرونا وائرس کی بیماری کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔ دوبارہ استعمال سے قبل ماسک کو دھولیا جائے اور اگر وہ ناقابل استعمال ہوجائے تو اس کو تلف کردیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنی ذمے داری نبھانی چاہیے۔

ایک نظر اس پر بھی