ملک مخلوط حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے،یوپی اے کی حکومت بنے گی: سدارمیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th April 2019, 11:28 PM | ریاستی خبریں |

میسورو ، 15 اپریل(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کرناٹک کے سابق وزیر اعلی سدارمیانے پیر کو کہا کہ ملک مخلوط حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ سیاسی قیادت کے دعووں کے باوجود نہ تو کانگریس اور نہ ہی بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل دکھائی دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا مزاج واضح طور پر فرقہ وارانہ اور تقسیم قوتوں کو مسترد کرکے یو پی اے حکومت کو واپس لانے کے حق میں ہے۔سینئر کانگریسی لیڈر نے کہا کہ دونوں ہی قومی جماعتوں میں سے کوئی بھی 543 میں سے 150 سیٹ کے اعداد و شمار کے پار پہنچنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی لیڈروں کے دعوے اس الگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس کے اپنے اتحادی جنتا دل (ایس) کے ساتھ مل کر ریاست کی 28 پارلیمانی سیٹوں میں سے 20 سیٹوں پر جیت حاصل کرنے کی امید ہے۔ریاست میں 18 اپریل کو پہلے مرحلے کی پولنگ ہونا ہے۔انتخابی مہم کے دوران ایک خاص بات چیت میں سدارمیا نے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی اپنے طور پر مکمل اکثریت حاصل نہیں کر پائیں گے۔یو پی اے کو اگرچہ واضح اکثریت ملے گی۔دعووں اور حقیقت کو دو الگ الگ چیز بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی مودی لہر نہیں ہے۔اس کے برعکس ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو تقسیم اور فرقہ وارانہ طاقتوں پر لگام لگانا چاہتے ہیں۔یہ این ڈی اے کی دوسری مدت پر فل اسٹاپ لگا دے گا۔انہوں نے کہاکہ میرے مطابق یو پی اے کو کافی سیٹیں ملیں گی اور وہ سب سے بڑے ایک محاذ کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔قدرتی طور پر دوسرے علاقائی پارٹیاں ساتھ آئیں گی۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ مہاگٹھ بندھن اس لئے بنا کہ فرقہ وارانہ ووٹوں کی تقسیم نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ یہ مہم بی جے پی کے خلاف ہے جو ایک فرقہ وارانہ پارٹی ہے،تمام سیکولر پارٹی جو ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے، ساتھ آئے ہیں جس سے سیکولر جماعتوں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کو روکا جا سکے،ہم فرقہ وارانہ پارٹی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔سدارمیا ریاست میں کانگریس جد (ایس) اتحاد کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔انہوں نے تاہم اس بات پر یقین ظاہر کیا کہ کانگریس کرناٹک میں جنتا دل (ایس) کے ساتھ مل کر اچھا کرے گی اور بی جے پی کو یہاں آٹھ سے 10 سیٹوں کے درمیان سمیٹ دے گی۔انہوں نے دعوی کیا کہ ریاست میں 21 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی کانگریس کو 13 سے 14 سیٹوں پر جیت حاصل ہوگی جبکہ اس کے اتحادی جنتا دل (ایس) کے ساتھ مل کر یہ اعداد و شمار 20 سیٹوں کے ارد گرد ہوگی۔

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-