کیا 170 ڈالر میں گزارہ ہو سکتا ہے ؟ روسی خاتون کا پوتین سے سوال

Source: S.O. News Service | Published on 21st February 2020, 7:35 PM | عالمی خبریں |

ماسکو،21/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) روسی صدر ولادی میر پوتین کو بدھ کے روز Saint Petersburg شہر میں ایک خاتون کے ہاتھوں غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

روسی صدر اپنے استاد اور شہر کے سابق میئر Anatoli Sobshak کے مزار پر پھول رکھنے کے بعد واپس جا رہے تھے کہ اس موقع پر عام شہری ان کے گرد اکٹھا ہو گئے۔ ان لوگوں میں شامل ایک خاتون نے بنا کسی تمہید کے پوتین سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا کہ "براہ مہربانی آپ مجھے جواب دیجیے .. کیا آپ ماہانہ 10800 روبل (170 امریکی ڈالر) میں زندگی گزار سکتے ہیں" ؟

پوتین نے جواب میں کہا "جہاں تک میں سمجھتا ہوں تو یہ مشکل ہے"۔ سوال پوچھنے والی خاتون نے کہا کہ "میرے خیال میں آپ کی تنخواہ 8 لاکھ روبل (12600 امریکی ڈالر) ہے، کیا ایسا نہیں ہے "؟

روس میں اجرت کی کم از کم حد 190 ڈالر کے مساوی ہے۔

پوتین نے جواب میں کہا " Ok ... مگر بہت سے لوگ ہیں جن کی تنخواہیں اس سے زیادہ ہیں۔ صدر کی تنخواہ سب سے زیادہ نہیں ہے"۔

اس پر سوال پوچھنے والی روسی خاتون نے پوتین سے کہا کہ حالات بڑے دشوار ہیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ "اگر میں گروسری اسٹور جاتی ہوں تو وہاں 1000 روبل خرچ ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ خدمات عامہ کے اخراجات 4000 روبل ہیں"۔ خاتون کے مطابق ان کی آدھی تنخواہ گروسری اور خدمات عامہ کی نذر ہو جاتی ہے۔

پوتین نے جواب میں کہا کہ "یہ بات واضح ہے کہ آپ حق پر ہیں ، حکومت پر لازم ہے کہ وہ بہت سے سماجی مسائل کا حل تلاش کرے"۔ اس پر خاتون سے سوال داغ دیا کہ "پھر ان مسائل کا حل کیوں نہیں پایا جاتا"؟۔

روسی صدر نے کہا کہ "ہم ایسا کر رہے ہیں اور حل بھی پا رہے ہیں"۔

بعد ازاں خاتون نے پوتین کے ساتھ تصویر بنوانے کی درخواست کی جس کو روسی صدر نے قبول کر لیا۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں کوروناوائرس سے 29 اموات،1071 متاثر، کورونا پوری دنیا میں 34,512 جانیں تلف،723,962 متاثرین

پوری دنیا کے زیادہ تر (اب تک 185) ممالک میں کرونا وائرس (کووڈ-19) کی وبا تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اس کے متاثرین سے پوری دنیا میں اب تک34,512لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ تقریباً723,962لوگ اس سے متاثر ہیں -

اٹلی: کورونا پازیٹو مریضوں کا علاج کر رہے 51 ڈاکٹروں کی موت

کورونا وائرس نے اٹلی میں اپنا قہر سب سے زیادہ برپا کر رکھا ہے۔ مہلوکین کی تعداد اٹلی میں چین سے بہت زیادہ ہو چکی ہے اور متاثرین کی تعداد بھی یہاں اتنی زیادہ ہے کہ ڈاکٹروں کو علاج کرنے میں کافی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔