کورونا وائرس کی سنگینی کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے؛ بازاروں میں غیر ضروری گھومنے سے پرہیز اور سرکاری ہدایات پر سختی سے عمل کریں

Source: S.O. News Service | Published on 27th March 2020, 8:59 PM | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بنگلورو،27؍مارچ (ایس او نیوز؍خصوصی رپورٹ) ہندوستان میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس وقت اس خطرناک وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد کے حساب سے مہاراشٹرا نمبر ایک کیرالہ نمبر2 جبکہ کرناٹک نمبر 3 پر ہے۔

حالانکہ پورے ملک میں 14؍اپریل تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی مدت میں آئندہ اضافہ بھی ہوسکتا ہے، لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے سے منع کیا جارہا ہے اس کے باوجود شہر بنگلورو کے مسلم اکثریت والے اکثر علاقوں میں گلی کوچوں اور بازاروں میں لوگوں کی بھیڑ عام دنوں سے زیادہ دیکھی جارہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے مسلمان اس وائرس کی سنگینی کو محسوس نہیں کررہے ہیں۔ یہ لوگ بازاروں میں گھومنے پھرنے کے دوران انجانے میں کسی کو کووڈ۔19 سے متاثرہ شخص سے ہاتھ ملالیا اس سے کچھ خرید لیا تو اس کا انفکیشن یا جراثیم ضرور آپ میں منتقل ہوسکتے ہیں۔

اس حالات میں آپ جب اپنے گھرواپس جاتے ہیں تو وہ جراثیم آپ کے ننھے منے بچوں اور اہل خانہ میں آسانی سے منتقل ہوسکتے ہیں۔ سخت ہدایت کے باوجود غیر ضروری بازاروں اور بھیڑ بھاڑ کے مقامات پر گھومنے والے لوگ خود کے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے اہل خانہ کے لئے بھی خطرہ پیدا کررہے ہیں۔ اس بیماری میں مبتلا مریض کس کو فت اور مشکل سے گذرتے ہیں اس کے مناظر سوشیل میڈیا پر پوسٹ کئے جارہے ہیں۔ یہ مناظر دیکھیں تو غیر ضروری طور پر آزادی سے بازاروں میں گھومنے والے لوگ اپنے گھروں سے بھی باہر نکلنا بند کردیں گے۔

 بنگلورو ساؤتھ کے چند مسلم اکثریت والے علاقے میں جیسے گروپن پالیہ، بی ٹی ایم فسٹ اسٹیج، بسم اللہ نگر، تلک نگر، یارب نگر، الیاس نگرمیں آپ کے نمائندہ نے دیکھا کہ لوگ بلاخوف آزادی سے غیر ضروری بازاروں ، بھیربھاڑ میں گھوم پھررہے ہیں۔ گویا ایسا لگ رہا تھا کہ کسی عید اور چھٹیوں کے موقع پر اس طرح آزادی سے گھوم پھر کر وقت ضائع کیا جاتا ہے۔

اُسی دن ہم ایک سرکاری کام کے سلسلہ میں بنگلورو پولیس کمشنر کے دفتر گئے۔ داخلہ میں ہر فرد کا الیکٹرانک آلہ کے ذریعہ ٹمپریچر کی جانچ کے بعد سینٹائرر سے دونوں ہاتھ صاف کئے جاتے ہیں۔ اگر منہ پر ماسک نہ ہو تو کم از کم اپنی دستی سے چہرہ کور کرنے کیلئے کہا جاتا ہے ۔ اتنی احتیاط کے باجود ہم دفتر میں کسی افسر یا ملازم سے ملاقات کرنے جاتے ہیں تو وہ پہلے ہی بلند آواز سے ہدایت دیتے ہیں کہ دور ہی کھڑے رہیں، دو تین میٹرس کی دور سے ہی ہمیں جو کہنا ہے وہ کہنا پڑتا ہے ۔ اگر کوئی عرضی ہم اُنہیں دینا چاہیں تو ایک ٹرے رکھا ہے اس میں ڈالنے کے لئے کہتے ہیں۔ راست کوئی کاغذ بھی وصول نہیں کیا جاتا۔ یہ سب اگر ہم مسلمان بھائی بہنوں سے کہتے ہیں تو وہ کہیں گے کیوں اللہ کی ذات پر یقین نہیں ہے۔ حالانکہ اللہ نے بھی کہا کہ کہ ایسی وبائی بیماریوں سے احتیاط برتنی چاہئے اور ضرورت پڑنے پر مناسب علاج بھی کروانا چاہئے۔ اس وباء کی زد میں آنے سے پہلے اس مرض کی سنیگنی کو محسوس کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کرنی چاہیئں۔ اللہ نہ کرے کسی مسلم اکثریت والے علاقہ میں اس وائرس سے متاثر چار پانچ معاملے نکل آئے تو موجودہ حکومت اس علاقہ پر توجہ دینے سے بھی منہ موڑ سکتی ہے، اس وقت کیا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ طبی امداد اور میڈیکل ٹکنالوجی میں دنیا بھر میں اٹلی کو دوسرا مقام حاصل ہے۔ وہاں کے لوگوں نے ابتدائ میں غفلت برتی، احتیاطی اقدامات نہیں کئے، نتیجتاً ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں، انہیں غسل دینے اور دفن کرنے کوئی آگے نہیں آرہا ہے۔

سرکاری کارندے انہیں ایک پلاسٹک بورے میں لپیٹ کر کسی ٹرک میں لاد کر جنگل لے جاکر ایک بڑے کھڈے میں دھکیل کر ان پر مٹی نہیں بلکہ پٹرول چھڑک کر آگ لگارہے ہیں تا کہ ان فوت ہونے والوں سے وائرس دوسروں تک منتقل نہ ہوسکے۔

الیکٹیو سرجریز کیلئےآلات اور میڈیسن دستیاب نہیں: ریاست کرناٹک کے ایک نامور سرجن ڈاکٹر ایف صدر الدین شریف نے گفتگو کے دوران بتایا کہ بشمول شہر بنگلوو کے جئے دیوا اسپتال اکثر اسپتالوں میں صرف ایمرجنسی معاملوں کی سرجری اور علاج ہورہا ہے۔ کوئی الیکٹیو سرجری نہیں کی جارہی ہے۔ اس کی وجہ دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ کل ہی سے امیزان اور فلپ کارٹ نے اپنی سروس بند کردی ہے۔ ایلکٹیو سرجریز کیلئے میڈیکل ساز و سامان کہیں بھی دستیاب نہیں یہاں تک کہ بلڈ بینکوں سے مریض کو درکار خون بھی مشکل سے دستیاب ہورہا ہے۔ اگر یہی صورتحال اگلے دو تین ماہ تک جاری رہی تو کورونا کے علاوہ مختلف سرجریوں جن میں امراض قلب کی سرجریز بھی شامل ہیں کا انتظار کررہے کرناٹک کے سینکڑوں مریض بروقت سرجریزنہ ہونے کی وجہ سے فوت ہوسکتے ہیں، اس لئے کورونا وائرس پر جلداز جلد قابو پانا اشد ضروری ہے۔ اس کیلئے احتیاط اور سرکاری اعلانات پر سختی سے عمل کرنا بے حد ضروری ہے۔ 

(بشکریہ : روزنامہ سالار، بنگلووو؍بتاریخ 27؍مارچ 2020)

ایک نظر اس پر بھی

یڈیورپا کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس؛ بعض سرکاری دفاتر کو اندرون ایک ماہ بیلگاوی کے سورونا ودھان سودھا منتقل کرنے وزیر اعلیٰ کی ہدایت

وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے حکام کو اندرون ماہ ریاست کے بعض سرکاری دفاتر کی نشاندہی اور ان کی بیلگاوی کے سورونا و دھان سودھا منتقلی کی ہدایت دی جس کا مقصد علاقائی توازن قائم کرنا ہے۔

اُڈپی میں کورونا وائرس کے معاملات کو لے کر ریاستی وزیر اور محکمہ صحت کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق؛ کہیں رپورٹ کو چھپایا تو نہیں جارہا ہے ؟

اُڈپی ضلع میں کورونا وائرس کے معاملات کی تعداد کو لے کر ریاستی وزیر برائے محصولات آر اشوک اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری اطلاع میں فرق کی وجہ سے اُڈپی ضلع کے عوام تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں۔

کوویڈ۔ 19 : کمس اسپتال ہبلی میں ریاست کا پہلا پلازمہ تھیراپی تجربہ کامیاب ؛ بنگلور میں تجربہ ناکام ہونے کے بعد ہبلی ڈاکٹروں کو ملی زبردست کامیابی

ورونا وائرس وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے۔ اس کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی چاہتے  یا  نا چاہتے ہوئے بھی اس خطرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ پوری دنیا بھر کے ممالک بھی اس کا ٹیکہ دریافت کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

کرناٹک میں کورونا کے 24 گھنٹوں میں 267 نئے معاملات ، داونگیرے میں مریض کی موت سے مرنے والوں کی تعداد 53

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران منگل کی شام 5 بجے تک ریاست میں 267 نئے کو رونا مریض پائے جانے سے ریاست میں کووڈ۔19 سے متاثر مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2494 تک پہنچ گئی اور داونگیرے میں مزید ایک مریض کے ریاست میں فوت ہونے سے ریاست میں اس وبائ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 53 ہوگئی۔

اللہ یہ کیسی عید، پروردگار ایسی عید پھر کبھی نہ آئے۔۔۔۔ از:ظفر آغا

اللہ، یہ کیسی عید آئی پروردگار! نہ مسجد میں نماز، نہ بازار میں خریداری، نہ چاند رات کی بے چینی، نہ وہ گلے ملنا اور نہ ہی وہ گلے مل کر عطر سے معطر ہو جانا... کچھ بھی تو نہیں۔ گھروں میں بند، سیوئیاں بھی بے مزہ۔ وہ شام کی دعوتیں، وہ گھر گھر جا کر عید ملنا، سب خواب ہو گیا۔ ارے رمضان بھی ...

کووِڈ کے علاج میں ایک نئی پیش رفت۔ کینسر اسپتال کے ڈاکٹروں نے تلاش کیا ایک نیا طریقہ۔ تجرباتی مرحلے پر ہورہا ہے کام!

سر اور گلے کے کینسر اورروبوٹک سرجری کے ماہر ڈاکٹر وشال راؤ کا کہنا ہے کہ ایچ سی جی کینسر اسپتال میں کووِڈ 19کے علاج کے لئے ڈاکٹروں نے ایک نئے طریقے پر کام کرنا شروع کیا ہے جس میں خون کے اندر موجود سائٹوکینس نامی ہارمون کا استعمال کیا جائے گا۔

کورونا وباء بھٹکل والوں کے لئے بن گئی ایک آفت۔فرقہ پرست نہیں چھوڑرہے ہیں مخصوص فرقے کو بدنام کرنے کا موقع، ہاتھ ٹوٹنے کی وجہ سے بچی کو منگلورو لے جانے پر گودی میڈیا نے مچایا واویلا

بھٹکل کے مسلمانو ں کے لئے بیماری بھی فرقہ وارانہ رنگ و روپ لے کرآتی ہے اورانہیں ہر مرحلے پر نئی ہراسانیوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔کورونا کی وباء ایک طرف مرض کے طور پر مصیبت بن گئی ہے تو کچھ فرقہ پرستوں کی طرف سے اس کو متعصبانہ رنگ دیا جارہا ہے اور یہ دوسری مصیبت بن گئی ہے۔

بھٹکل میں کووِڈ کے تازہ معاملات: کیا جنوبی کینرا اور شمالی کینرا ضلع انتظامیہ کی کوتاہی نے بگاڑا سارا کھیل؟ ۔۔۔۔۔۔ سینئر کرسپانڈنٹ کی خصوصی رپورٹ

بھٹکل میں خلیجی ملک سے کورونا وباء آنے اور پھر ضلع انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت اور عوام کے تعاون سے اس پر تقریباً قابو پالینے کے بعد اچانک جو دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے اور بڑی سرعت کے ساتھ انتہائی سنگین موڑ پر پہنچ گیا ہے اس پر لوگ سوال کررہے ہیں کہ کیا ا س کے لئے ضلع جنوبی کینرا ...