کرونا وائرس پر کنٹرول کیلئے سرحدیں بند کرنے کو اولیت دی جا رہی ہے

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 15th March 2020, 6:22 PM | عالمی خبریں |

 لندن/15مارچ (آئی این ایس انڈیا)کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دنیا بھر کے ملکوں نے ہفتے کے روز اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ ملک میں داخلے پر سخت بندشیں عائد رہیں، قرنطینہ کی لازمی شرط پر عمل کیا جاتا رہا اور بڑے اجتماعات پر پابندی جاری رہی۔ رائٹرس کی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 27 مارچ تک چین سے باہر کی دنیا میں ایپل کے اسٹوروں کا کاروبار بند رہے گا۔ ادھر چین میں جمعے کے روز سے تمام 42 اسٹور کھول دیئے گئے۔ یہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب چین کی سر زمین پر ڈرامائی طور پر وائرس کے پھیلاؤ میں قدرے کمی نظر آ رہی ہے۔چونکہ دنیا بھر میں 5000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔ تمام ملکوں نے عجائب خانے بند کر دیے ہیں۔ سیاحتی کشش والے مقامات اور تقریبات کا انعقاد روک دیا گیا ہے، تاکہ کرونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ کم سے کم ہو۔کولمبیا نے بتایا ہے کہ وہ ونزویلا کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دے گا اور یورپ یا ایشیا سے واپس آنے والے سیاحوں کو روک دے گا، جب کہ جمعے کی شب سے یورپ سے امریکہ آنے والے زیادہ تر افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ چین میں کرونا وائرس گزشتہ دسمبر میں شروع ہوا۔ یورپ اس وقت وائرس کی وبا کا مرکز بن چکا ہے، جہاں دنیا بھر کے مقابلے میں زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار سے دو ہفتے کے لیے تمام بین الاقوامی پروازوں کو بند کر دے گا۔ یہ بات ملکی تحویل میں کام کرنے والی سعودی پریس ایجنسی نے بتائی ہے۔تائیوان نے کہا ہے کہ یورپ، برطانیہ اور آئرلینڈ سے آنے والے افراد کو 14 دن تک قرنطینہ کی پابندی کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ نیوزی لینڈ نے بھی ملک میں داخل ہونے والے تمام افراد کے لیے اسی قسم کی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔آسٹریلیا میں صرف چھ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔ تاہم، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ادھر، آئندہ ہفتے سے ہنگامی قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے، برطانیہ نے اجتماعات پر بندش کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ ناقدین نے اس پابندی کو بہت ہی نرم قرار دیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی