عوام کو گھروں سے باہر نکلنے سے روکنے کیلئے ریاستی حکومت کا سخت اقدام؛ کرناٹک فوج کے حوالے کیا جاسکتا ہے؟

Source: S.O. News Service | Published on 29th March 2020, 11:44 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،29؍مارچ(ایس او نیوز) کرناٹک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں روز افزوں اضافے اور حکومت کی طرف سے نافذ لاک ڈاؤن کی پابندی کو توڑے جانے کے واقعات کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت لاک ڈاؤن کو مؤثر طور پر نافذ کرنے کیلئے فوج کو اتار نے کی تیاری کررہی ہے -

کرناٹک میں چکبالا پور ضلع کے گوری بدنور شہر میں ہفتے کے روزکورونا وائرس کے انفکشن کے پانچ نئے معاملے سامنے آنے کے بعد ضلع میں متاثرہ مریضوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہوگئی ہے- جبکہ ریاست میں جملہ معاملوں کی تعداد 74ہو گئی ہے -اس ضلع میں کورونا کی زد میں آنے کی وجہ سے 24مارچ کو 70سالہ خاتون کی موت ہوگئی تھی-

ڈپٹی کمشنر آر لتا نے بتایا کہ کل 22 لوگوں کو الگ تھلگ رکھا گیا ہے جن میں سے تین وائرس سے متاثرہ لوگوں کے رابطے میں آئے تھے -سبھی متاثرہ مریضوں کوپرانے ضلع اسپتال کے آئیسولیشن وارڈ میں منتقل کیاگیاہے -

ریاست میں کورونا کا پہلا پازیٹیو معاملہ 21مارچ کو آیا تھا،جبکہ دوسرا اور تیسرا 23اور 24مارچ کو سامنے آیا-وہ تینوں سعودی عرب سے لوٹے تھے-

بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی طرف سے ملک بھر میں 21روزہ لاک ڈاؤن نافذ کئے جانے کے بعد جہاں ملک بھر میں اس کا اثر بڑے پیمانے پر دیکھا جا رہاہے وہیں کرناٹک میں اس کو مؤثر طور پر نافذ کرنے میں حکومت کی ناکامی پر خود وزیر اعظم مودی نے گزشتہ روز برہمی کا اظہار کیا اور وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا سے کہا کہ لاک ڈاؤن کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کے لئے ضروری قدم اٹھائے جائیں -

لاک ڈاؤن کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے فوج کو اتار نے کی تیاری کی جا رہی ہے اور کرناٹک بالخصوص شہر بنگلور میں موجود فوج کی تمام یونٹوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بنگلورو سمیت ریاست کے دیگر مقامات پر لاک ڈاؤن کو سختی سے نافذ کرنے کیلئے تیار رہیں -

پولیس کی طرف سے لاک ڈاؤن کے نفاذ میں سختی اور گھروں سے بے وجہ باہر آنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی-اس کے نفاذ کے لئے پولیس کا لاٹھی چارج بھی بے اثر رہاہے- اس دوران وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے ایک ویڈیو جار ی کر کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ لاک ڈاؤن میں سختی کے باوجود اشیائے ضروریہ کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں کی جائے گا-انہوں نے کہا کہ عوام اپنے گھروں کے آس پاس ہی اشیائے ضروریہ خرید لیں اس کیلئے تمام انتظامات کئے گئے ہیں -

85ہزار نمونوں کی جانچ ابھی نہیں ہوئی: اس دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے سماجی شکل اختیار کرنے کے تیسرے مرحلے میں داخلہ کی نشاندہی کرنے کے معاملہ میں ریاستی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے- بیرون ممالک سے آنے والوں کو کوارنٹائن کرنے اور عوامی مقامات پر تھرمل ٹیسٹنگ کے علاوہ عوامی سطح پر روزانہ 7سے 8ہزار لوگوں کی اچانک جانچ کا منصوبہ بنایا گیا تھا- لیکن اس کا نفاذ نہیں ہو سکا اس کے ساتھ ہی جن لوگوں کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے شبہ میں الگ تھلک کیا گیا ہے ان میں سے جانچ کے لئے جو نمونے لئے گئے ہیں ان میں سے 85ہزار نمونو ں کی جانچ اب تک نہیں ہو سکی ہے-

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹکا میں آج پھر 257 کی رپورٹ کورونا پوزیٹو؛ اُڈپی میں پھر ایک بار سب سے زیادہ 92 معاملات؛ تقریباً سبھی لوگ مہاراشٹرا سے لوٹے تھے

سرکاری ہیلتھ بلٹین میں پھر ایک بار  کرناٹک میں آج 257 لوگوں میں کورونا  کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ معاملات پھر ایک بار ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی سے سامنے آئے ہیں۔ بلٹین کے مطابق آج  اُڈپی سے 92 معاملات سامنے آئے ہیں اور یہ تمام لوگ مہاراشٹرا سے لوٹ کر اُڈپی پہنچے تھے۔

یڈیورپا کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس؛ بعض سرکاری دفاتر کو اندرون ایک ماہ بیلگاوی کے سورونا ودھان سودھا منتقل کرنے وزیر اعلیٰ کی ہدایت

وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے حکام کو اندرون ماہ ریاست کے بعض سرکاری دفاتر کی نشاندہی اور ان کی بیلگاوی کے سورونا و دھان سودھا منتقلی کی ہدایت دی جس کا مقصد علاقائی توازن قائم کرنا ہے۔

اُڈپی میں کورونا وائرس کے معاملات کو لے کر ریاستی وزیر اور محکمہ صحت کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق؛ کہیں رپورٹ کو چھپایا تو نہیں جارہا ہے ؟

اُڈپی ضلع میں کورونا وائرس کے معاملات کی تعداد کو لے کر ریاستی وزیر برائے محصولات آر اشوک اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری اطلاع میں فرق کی وجہ سے اُڈپی ضلع کے عوام تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں۔

کوویڈ۔ 19 : کمس اسپتال ہبلی میں ریاست کا پہلا پلازمہ تھیراپی تجربہ کامیاب ؛ بنگلور میں تجربہ ناکام ہونے کے بعد ہبلی ڈاکٹروں کو ملی زبردست کامیابی

ورونا وائرس وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے۔ اس کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی چاہتے  یا  نا چاہتے ہوئے بھی اس خطرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ پوری دنیا بھر کے ممالک بھی اس کا ٹیکہ دریافت کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔