جن اضلاع میں کورونا نہیں وہاں لاک ڈاؤن میں رعایت کا امکان؛ 11/اپریل کو وزیر اعظم مودی کی ویڈیو کانفرنس کے بعد ریاستی حکومت کی طرف سے اعلان متوقع 

Source: S.O. News Service | Published on 9th April 2020, 9:38 AM | ریاستی خبریں |

بنگلوو،9/اپریل (ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے اشارہ دیا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے منظوری ملنے کی صورت میں ان اضلاع میں لاک ڈاؤن ختم کیا جاسکتا ہے جہاں کورونا وائرس کے واقعات بہت کم ہیں یا نہیں ہیں۔ 

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی منظوری ملنے پر حکومت کرناٹک لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار ہٹانے کے لئے تیار ہے۔ 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے 30/ میں سے 12/اضلاع ایسے ہیں جہاں کورونا وائرس کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ممکن ہے کہ ان اضلاع میں 14/ اپریل کے بعد لاک ڈاؤن کے نفاذ میں نرمی برتی جائے۔ البتہ اضلاع میں جہاں کورونا وائرس کے واقعات کے سامنے سلسلہ جاری ہے۔ وہاں لاک ڈاؤن برقرار رکھا جائے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ 14/ اپریل کو جب 21/ روزہ ملک گیر لاک ڈاؤن ختم ہوجائے گا اس کے بعد ریاستی حکو مت کی طرف سے ممکن ہے کہ شراب کی فروخت کے لئے اجازت دے دی جائے۔ 

انہوں نے کہا ریاستی حکومت نے طے کیا ہے کہ ریاست کو ایکسائز کے شعبے سے ہونے والی آمدنی کو بڑھانے اور موجودہ حالات میں ریاست کی مالی حالات کو مستحکم کرنے کے لئے 14/ اپریل کے بعد شراب کی فروخت کی اجازت دے دی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت نے یہ طے کیا ہے کہ اراکین اسمبلی اور اراکین کونسل کی تنخواہوں میں 30/ فیصد کٹوتی کی جائے۔

 انہوں نے بتایا کہ چہارشنبہ تک کرناٹک میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 5ہوگئی ہے جبکہ 6نئے معاملات سامنے آئے ہیں جس سے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 181ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی کورونا وائرس کا شکار ہو کر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 28ہوچکی ہے۔ 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے واضح طور پر ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے واقعات اگر قابو میں ہیں تو وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے۔ 14/ اپریل تک جو لاک ڈاؤن جاری ہے وہ برقرار رہے گا البتہ اس کے بعد جن اضلاع میں حالات قابو میں ہیں وہاں لوگوں کو تجارتی سرگرمیوں حسب معمول چلانے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ نے ریاست میں کورانا وائرس سے متعلق واقعات میں بے تحاشہ اضافہ کے پیش نظر کس طرح کی حکمت عملی اپنائی جائے اس پر تبادلہ خیال کے لئے جمعرات کے روز کابینہ کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اب تک لاک ڈاؤن کی وجہ سے ضلعی سطح پر جو نقصانات ہوئے ہیں کل کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ اضلاع کے انچار ج وزراء کے ذریعہ ان کا جائزہ لیں گے اس کے ساتھ ہی ریاست کے چیف سکریٹری وجئے بھاسکر کی طرف سے بھی تمام اضلاع کے دپٹی کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ اضلاع کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی رپورٹ کل صبح تک انہیں روانہ کی جائے تا کہ اس بات پر غور کیا جاسکے کہ 14/ اپریل کے بعد لاک ڈاؤن کے متعلق کیا قدم اٹھائے جائیں۔ 

بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے 11/ اپریل کو تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امکان ہے کہ اس کانفرنس کے دوران لاک ڈاؤن کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکے گا۔  

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹکا میں آج پھر 257 کی رپورٹ کورونا پوزیٹو؛ اُڈپی میں پھر ایک بار سب سے زیادہ 92 معاملات؛ تقریباً سبھی لوگ مہاراشٹرا سے لوٹے تھے

سرکاری ہیلتھ بلٹین میں پھر ایک بار  کرناٹک میں آج 257 لوگوں میں کورونا  کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ معاملات پھر ایک بار ساحلی کرناٹک کے ضلع اُڈپی سے سامنے آئے ہیں۔ بلٹین کے مطابق آج  اُڈپی سے 92 معاملات سامنے آئے ہیں اور یہ تمام لوگ مہاراشٹرا سے لوٹ کر اُڈپی پہنچے تھے۔

یڈیورپا کا اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس؛ بعض سرکاری دفاتر کو اندرون ایک ماہ بیلگاوی کے سورونا ودھان سودھا منتقل کرنے وزیر اعلیٰ کی ہدایت

وزیر اعلیٰ بی ایس یڈی یورپا نے حکام کو اندرون ماہ ریاست کے بعض سرکاری دفاتر کی نشاندہی اور ان کی بیلگاوی کے سورونا و دھان سودھا منتقلی کی ہدایت دی جس کا مقصد علاقائی توازن قائم کرنا ہے۔

اُڈپی میں کورونا وائرس کے معاملات کو لے کر ریاستی وزیر اور محکمہ صحت کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق؛ کہیں رپورٹ کو چھپایا تو نہیں جارہا ہے ؟

اُڈپی ضلع میں کورونا وائرس کے معاملات کی تعداد کو لے کر ریاستی وزیر برائے محصولات آر اشوک اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری اطلاع میں فرق کی وجہ سے اُڈپی ضلع کے عوام تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں۔

کوویڈ۔ 19 : کمس اسپتال ہبلی میں ریاست کا پہلا پلازمہ تھیراپی تجربہ کامیاب ؛ بنگلور میں تجربہ ناکام ہونے کے بعد ہبلی ڈاکٹروں کو ملی زبردست کامیابی

ورونا وائرس وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے۔ اس کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی چاہتے  یا  نا چاہتے ہوئے بھی اس خطرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ پوری دنیا بھر کے ممالک بھی اس کا ٹیکہ دریافت کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔