کورونا وائرس؛ اُترکنڑا ایس پی کی بھٹکل آمد، کہا؛ حکام اور عوام کے درمیان کورونا وائرس جنگ نہیں ہے؛ ہم آپ کی مدد کے لئے سب کچھ کررہے ہیں

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 9th May 2020, 1:32 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 8/مئی (ایس او نیوز) کورونا وائرس حکام اور عوام کے درمیان جنگ نہیں ہے، بلکہ ہم اس وائرس کو بھگانے کے لئے آپ کی مدد کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ لوگ صحت مند رہیں، آپ سے دوسروں تک یہ وائرس نہ پھیلے  اور اس وباء پر جلد سے جلد ہم قابوپاسکیں، مگر اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ آپ پولس کو اپنا ہمدرد اور دوست سمجھیں اورہمارے ساتھ تعاون کریں۔یہ بات ضلع اُترکنڑا کے ایس پی شیوپرکاش دیوراج نے کہی۔

بھٹکل میں جمعہ کو ایک ساتھ کورونا کے 12 معاملات سامنے آنے پر وہ کاروار سے خصوصی طور پر بھٹکل تشریف لائے تھے اور حالات کا جائزہ لینے اور حفاظتی انتظامات کا معائنہ کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کررہے تھے۔

ایس پی نے کہا کہ کورونا کے معاملات کا آنا ہمارے اختیار  میں نہیں ہے، البتہ اُسے مزید پھیلنے سے روکنا ہمارے اختیار میں ہے، ڈپٹی کمشنر ہوں، اسسٹنٹ  کمشنر ہوں، ڈی وائی ایس پی یا انتظامیہ کے دیگر آفسران ہوں ، بھٹکل میں کورونا وباء پر قابو پانے کے لئے اچھا کام کیا ہے، اب آئندہ بھی وہ مزید بہتر خدمات پیش کریں گے۔ اب بارہ نئے معاملات سامنے آنے کے بعد بھٹکل ٹاون اور ضلع اُترکنڑا کی صورتحال کیا ہےاور اس وباء کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہے، ہم نے اس تعلق سے مکمل خاکہ تیار کیا ہے، ہمیں صرف عوام کی طرف سے تعاون کی ضرورت ہے۔

ایس پی نے کہا کہ جب کوویڈ۔19 کے کیسس سامنے آتے ہیں تو ہم کلسٹر یا ہاٹ اسپاٹ کے طور پر اُن علاقوں کی نشاندہی کرتے ہیں، مثال کے طور پر ابھی مدینہ کالونی سے معاملات سامنے آئے ہیں تو مدینہ کالونی کورونا کا ایک ہاٹ اسپاٹ بن گیا ہے، جبکہ مدینہ کالونی کے اطراف کے جو علاقے ہوتے ہیں وہ کنٹیمنٹ زون کے زمرے میں آتے ہیں۔ علاقوں کی نشاندہی ہونے کے بعد ہمارے لئے  وہاں کورونا پر قابو پانے کے لئے ہرممکن اقدامات کرنا ضروری ہوجاتا  ہے، اسی کے مدنظربھٹکل اے سی اور ڈی وائی ایس پی کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد ہم کچھ اقدامات کررہے ہیں،  اس کے لئے ہم سب سے پہلے مدینہ کالونی میں داخل ہونے کے لئے جتنے بھی راستے ہیں، اُن تمام راستوں کو بند کررہے ہیں ہم اب  صرف ایک داخلہ کا راستہ کھلارکھیں گے،جس کے بعد جس کو بھی مدینہ کالونی میں جانا ہویا وہاں سے باہر آنا ہو تو وہ صرف ایک ہی راستے کا استعمال کرسکے گا اور ہم اُسی راستے پر پولس کا چیک پوسٹ قائم کریں گے اور جو بھی اندر یا باہر جائے گا اُس کااندراج کیا جائے گا۔ ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کہ عوام غیر ضروری طور پر اپنے علاقہ سے باہر نہ نکلیں یا غیر ضروری طور پر متاثرہ علاقہ میں نہ جائیں، اگر کسی کو ایمرجنسی میں جانا یا آنا ہوگا تو پھر اُسی ایک راستے پر واقع  چیک پوسٹ پر پولس آفسر سے اجازت لینا ہوگا۔

مدینہ کالونی کی طرح ہم بھٹکل ٹاون میں بھی الگ الگ حلقے بنائیں گے اور وہاں پر بھی اسی طرح ایک ہی داخلی راستہ قائم کرکے وہاں پولس چیک پوسٹ قائم کرکے  علاقوں میں لوگوں کے جانے اور آنے پر پابندی عائد کریں گے۔ایس پی نے ایسا کرنے کا مقصد بتاتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں پتہ چلے گا کہ کون علاقہ میں داخل ہورہا ہے یا علاقہ سے باہر جارہا ہے۔ ایسا کرنے سے سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہوگااور پولس ایمرجنسی یا شدید ضرورت کو دیکھتےہوئے فیصلہ لے گی کہ کس کو چھوڑنا ہے اور کس کو نہیں ۔

ایس پی نے بتایا کہ کنٹنمنٹ زون میں  دی گئی ہدایات کے مطابق وہاں کوئی دکان کھلی نہیں رہے گی ، کسی بھی طرح کی لوگوں کی چہل پہل نہیں ہوگی،کوئی بھی اجازت نامہ (پاس) نہیں چلے گا۔ تمام اجازت نامے رد کردئے گئے ہیں۔ اگر کسی علاقے مثال کے طور پر مدینہ کالونی میں اگر کسی کو  کچھ ضروری چیز بھلے دوائی کی ضرورت ہو یا اسپتال جانے کی  ضرورت ہو تو تعلقہ انتظامیہ خود گاڑیوں پر مطلوبہ چیزیں آپ کے گھر کے دروازے تک پہنچائیں گے۔ اور علاقہ کے لئے جو آفسر نامزد ہوگا وہ آپ کی مدد کرے گا، لیکن کسی بھی عوام کو باہر جانے نہیں دیا جائے گا۔

ایس پی نے اس بات کی وضاحت کی کہ کنٹنمنٹ زون میں رہنے والے عوام کو صرف شدید ضروری چیزیں ہی فراہم کی جائے گی۔ جس میں اناج، دوائیاں، ترکاری ، فروٹ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ پورے  ملک میں جہاں جہاں کنٹنمنٹ زون بنائے گئے ہیں، منسٹری آف ہیلتھ کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق ملک کے مختلف  علاقوں میں جو کچھ بھی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں، بھٹکل میں بھی ہم ویسا ہی کررہے ہیں، ہم بھٹکل میں کچھ مختلف کرنے نہیں جارہے ہیں۔

ایس پی نے بتایا کہ کنٹمنٹ زون میں آگے سے کوئی بھی فارمیسی کی دکان کھلی نہیں رہے گی، سب کو بند کیا جائے گا، اگر کسی کو دوائی یا علاج کرنے کی ضرورت ہوتو سرکاری نوڈل آفسر یا پھر اسسٹنٹ کمشنر کو فون کرکے مدد لے سکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایس پی نے یہ بات بھی صاف کردی کہ آئندہ کوئی بھی بائک، اسکوٹر یا کار پر باہر نہیں جاسکے گا، سب کچھ سرکاری اہلکار ہی عوام کی شدید ضروری کاموں کو پورا کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آگے سے پٹرول پمپ بھی کھلے نہیں رہیں گے اور اسے بھی بند کیا جارہا ہے۔ اگر کسی کو پٹرول یا ڈیزل کی ضرورت ہوتو اُنہیں چاہئے کہ وہ اسسٹنٹ کمشنر سے اجازت لے، اُنہیں بتانا پڑے گا کہ اُسے پٹرول یا ڈیزل کس کام کے لئے چاہئے، اگر اسسٹنٹ کمشنر کو لگے گا کہ آپ کو واقعی اس کی ضرورت ہے تو پھر وہ اجازت نامہ (پاس) دے گا۔

ایس پی نے کہا کہ ہماری سوشیل میڈیا پر بھی نظر ہے، سوشیل میڈیا پر بعض لوگ مسیجس پوسٹ کررہے ہیں کہ بھٹکل میں ایسی سختی کیوں کی جارہی ہے، ایک کورونا کا کیس آیا ہے تو کیا ہوا ، کیا کہیں دوسری طرف کیسس نہیں آرہے ہیں کیا،  بخارآیا  تو کیوں بتائیں، اس طرح کے پیغامات وائرل ہورہے ہیں۔

ایس پی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کوئی جنگ نہیں کررہے ہیں ، سرکار یا انتظامیہ آپ لوگوں پر کوئی ظلم نہیں ڈھا رہے ہیں،ہم آپ پر زور زبردستی کرکے آپ کو گھر سے اُٹھاکر نہیں لے جارہے ہیں۔ آپ کا زبردستی ٹیسٹ نہیں کررہے ہیں یا آپ کے تھوک کے سیمپل زبردستی لے رہے ہیں، ایس پی نے کہا کہ ہم جو کچھ بھی کررہے ہیں ،  اس میں ہمارا اپنا کوئی ذاتی مفاد  پوشید ہ نہیں ہے ، یہ سب کچھ ہم اپنے عوام کی بھلائی کے لئے آپ کے اچھے کے لئے اور آپ کی صحت کو بنائے رکھنے کے لئے کررہے ہیں اور اپنے عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنا ہمارا فرض ہے اور یہ  ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر  آپ اپنے تھوک کا سیمپل دیتے ہیں تو آپ اس میں شرم محسوس نہ کریں، انہوں نے کہا کورونا ایک ایسی وباء ہے جو کسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، انہوں نے اخباری نمائندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کورونا آپ کو بھی آسکتی ہے، آپ کے گھر میں بھی آسکتی ہے،  ایسی صورت میں جانچ کرنے کے لئے ہمیں اپنے تھوک کے سیمپل دینے ہی پڑیں گے۔ انہوں نے عوام الناس کے ساتھ ساتھ لیڈران سے بھی درخواست کی کہ وہ پہلے اس وباء کو سمجھیں، اس کے اثرات کو سمجھیں اور کسی بھی طرح  کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ بھٹکل کے عوام نے ہمیں بہت اچھا تعاون دیا ہے، پوری ڈسپلن کے ساتھ ہمارا ساتھ  دیا ہے، آفسران کے ساتھ بہت ہی اچھا برتاو کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ بھی اسی طرح اپنا تعاون جاری رکھیں۔ آپ پولس  کو اور دیگر  آفسران کو اور ڈاکٹرس و  ہیلتھ کے اہلکاروں کو اپنا دوست، اپنا  مددگار سمجھیں، خدارا یہ سمجھنے کی کوشش کریں  کہ   ہم آپ کے دشمن  نہیں ہیں ہم آپ کی مدد کررہے ہیں،لہٰذا آپ  ہمارے ساتھ تعاون کریں اور سوشیل میڈیا کے ذریعے غلط سلط پیغامات پوسٹ نہ کریں۔

ایس پی نے کہا کہ بھٹکل میں حفاظتی انتظامات کو سخت کرنے کے لئے دو سو سے ڈھائی سو کی زائد پولس فورس تعینات کی جارہی ہے،  انہوں نے متنبہ کیا کہ کنٹیمنٹ زون میں عوامی چہل پہل کو قابل جرم مانا جاتا ہے اس لئے ایسا کرنے پر کرائم کا معاملہ درج کیا جائے گا۔ ایس پی نے مزید کہا کہ بھٹکل میں تین سرکل پولس انسپکٹر، دس پی ایس آئی، 30 اسسٹنٹ پی ایس آئی اور دو  سو ہیڈ کانسٹیبل کو فی الحال تعینات کیا گیا ہے۔ مزید پولس فورس بھی یہاں منگوائی جارہی ہے۔ 

پریس کانفرنس میں بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر بھرت، ڈی وائی ایس پی گوتم و دیگر آفسران موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

منشیات مخالف مہم: منگلورو میں ڈانسر کشور کا ایک او رساتھی گرفتار 

ریاست میں   اینٹی نارکوٹکس ڈپارٹمنٹ اور پولیس کی طرف سے چلائی جا رہی منشیات مخالف مہم کے دوران منگلورو پولیس  کی سٹی کرائم برانچ نے مشہور ڈانسر  اور فلم ایکٹرکشور شیٹی ، اس کے ساتھی امن شیٹی اور عقیل نوشیل کو ایم ڈی ایم  جیسی نشہ آور اشیاء کے استعمال اور ان کی فروخت کے سلسلے ...

منی پال میں چاقو کی نوک پر لوٹنے کا معاملہ پولیس نےحل کرلیا۔ ایک ملزم گرفتار، دوسرے کی تلاش جاری

پچھلے دنوں صبح کی اولین ساعتوں میں منی پال میں چاقو کی نوک پر ایک شخص کو لوٹنے کی جو واردات انجام دی گئی تھی اس پر کارروائی کرتے ہوئے اڈپی پولیس  ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اوراب اس کے دوسرے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔

’کسان مخالف‘ پالیسیوں کے خلاف کل 28ستمبر کومنایا جائے گا مکمل’ کرناٹکابند ‘ مینگلور اور اڈپی میں بھی احتجاجی مظاہرہ ہوگا، بعض جگہوں پر راستہ روکو کا پلان

’رعیت سنگھا ‘اور ’ہسیرو سینا‘کے ریاستی صدر کوڈیہلّی چندرا شیکھر کے بیان کے مطابق مرکزی اور ریاستی حکومت کی ’کسان مخالف‘پالیسیوں کے خلاف کل 28 ستمبر کو ’مکمل  کرناٹکابند ‘منایا جائے گا۔

کمٹہ :بیچ سڑک پرالٹ گیاگیس ٹینکر ۔ ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا۔گیس اخراج کے پیش نظر اطراف کے مکانات کیے گئے خالی 

کمٹہ تعلقہ کے ہندیگون علاقے میں نیشنل ہائی وے 66 پر ایک گیس سے بھرا ہوا ٹینکر الٹ گیا جس کے بعد گیس کے اخراج کا خطرہ دیکھتے ہوئے موٹر گاڑیوں کی آمد وفت کا رخ موڑنے کے علاوہ اطراف میں موجود مکانات سے  100سے زائد خاندانوں کو دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل کروایا گیا۔