کورونا وباء بھٹکل والوں کے لئے بن گئی ایک آفت۔فرقہ پرست نہیں چھوڑرہے ہیں مخصوص فرقے کو بدنام کرنے کا موقع، ہاتھ ٹوٹنے کی وجہ سے بچی کو منگلورو لے جانے پر گودی میڈیا نے مچایا واویلا

Source: S.O. News Service | Published on 13th May 2020, 3:58 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 13/مئی (ایس او نیوز) بھٹکل کے مسلمانو ں کے لئے بیماری بھی فرقہ وارانہ رنگ و روپ لے کرآتی ہے اورانہیں ہر مرحلے پر نئی ہراسانیوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔کورونا کی وباء ایک طرف مرض کے طور پر مصیبت بن گئی ہے تو کچھ فرقہ پرستوں کی طرف سے اس کو متعصبانہ رنگ دیا جارہا ہے اور یہ دوسری مصیبت بن گئی ہے۔

اس کی تازہ مثال بھٹکل کے ایک معروف شخص  جناب ثناء اللہ گوائی کے ساتھ پیش آئی ہے۔ جب10/مئی کو ان کی نواسی(عمر6سال) رات کے وقت گھر میں کھیلتے ہوئے نیچے گرگئی اور اس کے ہاتھ میں تین جگہ ہڈیا ں ٹوٹ گئیں۔ اسے ایمرجنسی علاج کی ضرورت تھی تو انہوں نے میڈیکل ایمرجنسی کا پاس لے کر کنداپور جانے کا منصوبہ بنایا۔ ثناء اللہ  کا کہنا ہے کہ رات کافی ہوجانے کی وجہ سے ڈی وائی ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنر سے بات چیت کرکے زبانی طور پر اجازت نامہ  حاصل کرنے کے بعد وہ کنداپور پہنچے اور پھر وہاں پر بچی کی حالت بہت نازک ہونے کی وجہ کنداپور اسپتال سے اس کو منگلورو منتقل کیاگیا اور وہاں ا س کا فوری طور پر آپریشن کیا گیا۔

بھٹکل کا فرقہ وارانہ میڈیا:لیکن اس واقعے کو لے کر بھٹکل کے کچھ فرقہ پرست عناصر نے میڈیا میں ایک ہنگامہ کھڑا کردیا کہ تعلقہ انتظامیہ یا پولیس سے مناسب اجازت نامہ حاصل کیے بغیر اور کنداپور جانے کی بات کہہ کر وہ منگلورو چلے گئے اور اس کے لئے انہوں نے جھوٹی کہانی گھڑی ہے۔اس طرح کورونا کے پس منظر میں ایک مخصوص طبقے کونشانہ بنانے اور مزید تنگ کرنے کا موقع نکالا گیا ہے۔

گھر والوں کی وضاحت:اپنی طرف سے کنڑا اخبار میں وضاحت شائع کرنے والے بچی کے گھر والوں نے بتایا کہ بچی کے ساتھ حادثہ رات 9 بجے کے قریب پیش آیا تھامگر کنداپور جانے کے لئے ڈیزل حاصل کرنے اور دیگر تیاریاں کرنے تک رات کے تقریبا12بج گئے۔ پاس نہ ہونے کی وجہ سے ڈی وائی ایس کی زبانی اجازت پر وہ سفر پر نکلے تو شیرور چیک پوسٹ پر انہیں روکا گیا۔ وہاں سے زبانی اجازت کی تصدیق کے لئے ڈی وائی ایس پی سے رابطہ کرنے کی کوشش ناکام رہی۔ پھر وہاں پر موجود خاتون پولیس آفیسر نے بچی کا لٹکتا ہوا ہاتھ اور بچی کی پریشانی دیکھ کر ترس کھایااور اس نے اپنے اعلیٰ آفیسر سے ان لوگوں کے لئے سفر کی اجازت مانگی۔ اس طرح وہ لوگ کنداپور تک پہنچے۔

کنداپور اسپتال سے منگلورو کی طرف:کنداپور کے ماہر ڈاکٹر نے بچی کی حالت، اس کی عمر اور فریکچر کی پوزیشن دیکھ کر یہ رائے دی کہ کنداپور میں ایمرجنسی آپریشن کرنا ممکن نہیں ہے اور تاخیر سے بچی کی حالت اور بگڑ سکتی ہے۔ اس نے منگلورو کے لئے کیس ریفر کردیا اور کسی بھی چیک پوسٹ پر بچی کو نہ روکنے کی درخواست کرنے والی ایک تحریر بھی دے دی۔جب وہ منگلوروکے ایک نجی اسپتال میں بچی کو داخل کرنے لگے تو انہوں نے آدھار کارڈ وغیرہ مانگااور گھر والوں نے بچی اور اس کی والدہ کا آدھار کارڈ بھی دے دیا۔ 

بھٹکل نام سے اسپتال میں تشویش: ایک طرف بچی کا ایمرجنسی کا آپریشن ہورہاتھا تو دوسری طرف بچی اور اس کی ماں کے کارڈ پر بھٹکل مدینہ کالونی کا پتہ درج ہونے سے اسپتال اسٹاف میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔معلوم ہوا ہے کہ جب بچی کا داخلہ کیا جارہاتھا تو گھر والوں نے بتایا کہ کنداپور اسپتال سے یہاں ریفر کیا گیا ہے۔ مگر اسپتال والے سمجھے تھے کہ مریض اور اس کے گھر والے کنداپور کے رہنے والے ہیں۔ بعد میں شناختی کارڈ میں بھٹکل کا پتہ دیکھ کر انہیں خواہ مخواہ ہی شبہ ہوا کہ گھروالوں نے غلط بیانی کرکے بچی کو اسپتال میں داخل کروایا ہے۔

کھانسنا بن گیا مصیبت: اسی دوران ایک اور مصیبت یہ ہوئی کہ بچی کی حالت دیکھ کر اس کی ماں کمرے میں آنسو بہا رہی تھی۔ اس وقت دو تین بار اس نے کھانس کراپنا گلا صاف کیا۔ کھانسی کی آواز سن کر ہاسپٹل اسٹاف بدک گیا۔ اور ا ن پرکورونا سے متاثر ہونے کے شکوک شبہات کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔فوری طور پر بچی اور اس کی ماں کے گلے سے تھوک کے نمونے حاصل کرکے جانچ کے لئے بھیج دئے گئے۔ بچی کا آپریشن مکمل ہونے کے بعدصحت میں کافی سدھار آیا ہے ۔ ڈاکٹر نے بتایا  تھا کہ کورونا کی جانچ رپورٹ ملنے کے بعد بچی کو ڈسچارج کردیا جائے گا اور ثناء اللہ صاحب نے بتایا کہ آج کورونا رپورٹ بھی آگئی ہے اور وہ نیگیٹو ہے۔

فرقہ پرست ذہنیت سے اذیت: مگر پریشانی اور تشویش کی بات یہ ہے کہ آدھی رات سے صبح تک بچی حادثے کی وجہ سے بڑی سنگین حالت سے گزر رہی تھی۔ اس کے گھر والے انتہائی ذہنی پریشانی کا شکار تھے۔مگر اس مرحلے میں بھی صبح ہوتے ہوتے بھٹکل کے ایک اخباری نمائندے نے اپنی متعصبانہ سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سارے واقعے کو ایک جھوٹی کہانی قرار دیا اور پولیس اور انتظامیہ کو اندھیرے میں رکھ کر کنٹینمنٹ ایریا سے باہر دوسرے اضلاع کا سفر کرنے اور اسپتال میں بچی کوداخل کرنے کے لئے جھوٹی معلومات دینے کا الزام ان لوگوں کے سر رکھ دیا۔ اس کے بعد دیگر الیکٹرانک میڈیا میں بھی اس کو اچھالا گیا۔گھر والوں کا الزام ہے کہ ڈپٹی کمشنر ضلع شمالی کینرا کو بھی جھوٹی اطلاعات فراہم کرتے ہوئے غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

کیا فرقہ واریت کی اور کوئی مثال ہوسکتی ہے؟:حالانکہ گھروالوں کی طرف سے پولیس او رانتظامیہ کو اصل صورت حال سے پوری طرح باخبر کردیا گیا ہے اور ایک اطلاع کے مطابق محکمہ کی طرف سے اپنے طور پر اس کی تحقیق بھی کرلی گئی ہے، مگر بچی کے گھر والے کچھ نام نہاد میڈیا والوں یا نفرت کی سیاست کرنے والوں کی طرف سے ہونے والی ذہنی اذیت اور کوفت سے حیران ہوگئے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ بھٹکلی مسلمان ہونا کیا واقعی کوئی گناہ ہے، جس کی وجہ سے کورونا جیسے مرض کے لئے بھی  انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جائے یا کسی حادثے کو بھی سازش قرار دیا جائے؟کیا فرقہ وارانہ سوچ اور تعصب کی اس سے بڑی مثال کچھ اور ہوسکتی ہے؟!

تعلقہ انتظامیہ اور مینگلور میں جماعت کے ذمہ داران نے دیا ساتھ:   بچی کے علاج کو لے کر ویسے تو  پریشان کن حالات سامنے آئے، لیکن تعلقہ انتظامیہ بالخصوص بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر، ڈی وائی ایس پی  سمیت  شیرور  چیک پوسٹ پر تعینات پولس اہلکار اور اُڈپی  تعلقہ انتظامیہ سمیت مینگلور میں بھٹکلی جماعت المسلمین کے صدر جناب ارشد محتشم اور ان کی فیملی اور ڈاکٹر سراج محتشم وغیرہ نے  بھرپور ساتھ دیا  جس کی بنا پر بچی کا بروقت علاج ممکن ہو سکا۔ جناب ثنا ء اللہ نے  اس موقع پر  ان تمام لوگوں کا شکریہ   ادا کیا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا سے متاثرہ لوگوں کو بھٹکل ویمن سینٹر کیا گیا شفٹ؛ مزید بستروں کی ہوگی ضرورت

بھٹکل ویمن سینٹر کو کوویڈ۔19 سینٹر میں منتقل کرنے کے بعد  آج اتوار کو بھٹکل سرکاری اسپتال سے تمام کورونا سے متاثرہ لوگوں کو منتقل کیا گیا۔ اس موقع پر قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم  بھٹکل کی جانب سے محمد صادق مٹا  موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کل سنیچر رات کو سونارکیری ...

سنڈے لاک ڈاون؛ بھٹکل میں مکمل خاموشی، راستوں کی چہل پہل مکمل بند؛ بازاراور دکانوں پر نظر آئے تالے

ریاست کرناٹک میں  کورونا کے  معاملات میں  روز بروز اضافہ کو دیکھتے ہوئے  ریاستی حکومت نے سنڈے لاک ڈاون کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت کل سنیچر شام پانچ بجے سے کل پیر صبح پانچ بجے تک  مکمل لاک ڈاون  نافذ کیا گیا ہے، جس کے دوران آج بھٹکل  کی سڑکیں خاموش رہیں، عوامی چہل پہل مکمل بند ...

مینگلور کے قریب بنٹوال میں مکانوں پر پہاڑی کھسک گئی؛ دو معصوم جاں بحق

گذشتہ دس دنوں سے جاری موسلادھار بارش کے دوران آج اتوار کو  قریبی علاقہ بنٹوال کے بنگلاگُڈے میں  ایک پہاڑی کھسک کر تین   مکانوں پر گرنے سے تینوں  مکان زمین بوس ہوگئے  بتایا گیا ہے کہ دوپہر کو جس وقت یہ حادثہ پیش آیا،  ایک مکان میں دو  بچے آرام کررہے تھے، مکان  گرنے سے دونوں ...

اُترکنڑا میں بھٹکل کے 9لوگوں سمیت 23 لوگوں کی رپورٹ آئی پوزیٹیو؛ مینگلور اسپتال میں بھی بھٹکلی خاتون کی رپورٹ پوزیٹیو آنے کی خبر

ضلع اُترکنڑا میں کورونا کے مزید معاملات آج اتوار کو بھی سامنے آئے ہیں جس میں بھٹکل کے بھی 9 معاملات شامل ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  کمٹہ سے 5، منڈگوڈ  اور ہلیال سے 3، 3، انکولہ، کاروار، سرسی سے ایک ایک کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آئی ہے۔

بھٹکل:کورونا سے متاثرہ لوگ سونارکیری اسکول سے ویمن سینٹر منتقل؛ جےڈی نائیک سمیت کئی لیڈران کی رپورٹ آنی باقی

بھٹکل میں  کورونا کے تیسرے حملے میں جہاں ایک طرف دو لوگ جاں بحق ہوگئے وہیں   اب تک  بھٹکل میں 63 لوگ کورونا سے متاثر پائے گئے ہیں، بھٹکل کی ایک معروف  شخصیت مینگلور اسپتال میں ایڈمٹ ہیں تو دیگر لوگ بھٹکل سونارکیری اسکول اور بھٹکل تعلقہ سرکاری اسپتال میں داخل کئے گئے تھے ۔ اب ...

آج 16 پوزیٹیو آنے والوں میں تین دبئی سے اور آٹھ وجے واڑہ سے لوٹے لوگ شامل

بھٹکل کے آج جن 16 لوگوں کی رپورٹ کورونا  پوزیٹیو آئی ہے، اُن میں سے تین لوگ دبئی سے آئے ہوئے لوگ ہیں، آٹھ لوگ وجئے واڑہ ،  تین لوگ  اُترپردیش  اور مہاراشٹرا سے لوٹا ہوا ایک شخص بھی آج کی لسٹ میں شامل ہیں۔

کورونا سے متاثر ہو کرمرنے والوں کی تدفین میں رکاوٹ درست نہیں، لاک ڈاؤن ہو یا نہ ہو اپنے آپ احتیاط برت کر وائرس سے بچنے کی کوشش کریں: ضمیر احمد خان

شہر بنگلورو میں کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں جس طرح کا بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار سے اس مہلک وباء کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو تا جارہا ہے۔ اس وباء کا شکار ہو کر مرنے والے افراد کی تدفین اور دیگر آخری رسومات کے لئے عالمی صحت تنظیم کی طرف سے جو ...

کوروناکاقہر جاری،کرناٹک میں ایک ہی دن 21اموات، 24گھنٹوں کے دوران بنگلورومیں 994سمیت جملہ 1694کووڈکاشکار

ریاست میں آج ایک ہی دن کوروناوائرس کی زدمیں آکر21مریض ہلاک ہوگئے جبکہ 1694 کووڈمعاملات کا پتہ چلاہے۔ کرناٹک میں بھی کوروناوائر س کاخوفناک پھیلاؤ رکنے اورتھمنے کا نام نہیں لے رہاہے،ہرگزرتے لمحے اوردن کے ساتھ کوروناوائرس کے نئے معاملات میں اضافہ ہی ہوتاجارہاہے،

کانپور انکاؤنٹر: وکاس دوبے کادوست گرفتار، کہا تھانے سے فون آنے کے بعدہوئی واردات

کانپور میں 8 پولیس اہلکاروں کے قتل کے معاملے میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ قتل کیس کے مرکزی ملزم گینگسٹر وکاس دوبے کے ایک انعامی ساتھی کوکلیان پور میں تصادم کے بعد پولیس نے گرفتار کرلیا۔

بھٹکل میں ہیسکام کے بجلی بل کی ادائیگی کو لے کر تذبذب : حساب صحیح ہے، میٹر چک کرلیں؛افسران کی گاہکوں کو صلاح

تعلقہ میں لاک ڈاؤن کے بعد  ہیسکام محکمہ کی طرف سے جاری کردہ بجلی بلوں  کو لے کر عوام تذبذب کا شکار ہیں۔ ہاتھوں میں بل لئے ہیسکام دفتر کاچکر کاٹنے پر مجبور ہیں، کوئی مطمئن تو کوئی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے پلٹ رہاہے۔ بجلی بل ایک  معمہ بن گیا ہے نہ سمجھ میں آر ہاہے نہ سلجھ ...

”مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے“ ۔۔۔۔۔ از:مولانا محمدحسن غانم اکرمیؔ ندوی ؔ

   اگر تمھارے پاس کوئی شخص اپنی امانت رکھوائے،اورایک متعینہ مدت کے لئے وہ تمھارے پاس رہے،کیا اس دوران اس چیز کا بغیر اجازت اور ناحق تم استعمال کروگے،کیا ا س میں اپنی من مانی کروگے؟یا چند دن آپ کے پاس رہنے سے وہ چیز تمھاری ہو جائے گی کہ جب وقت مقررہ آجائے اور مالک اس کی فرمائش ...