کرونا وائرس کرفیو کے باوجود باہر نکل رہے لوگوں سے سختی سے نمٹ رہی ہے دہلی پولیس

Source: S.O. News Service | Published on 24th March 2020, 8:35 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی میں کرونا وائرس کے سبب دفعہ 144 لگی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود آج دہلی میں جگہ جگہ لوگ باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان لوگوں کو پولیس اہلکار مسلسل روک رہے ہیں۔ دوارکا سیکٹر ایک میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگیں۔ وجہ ہے کہ پولیس اہلکار روک کر کے لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ آخر آپ کہاں جا رہے ہیں؟ کرفیو والے دن ایسا کیا ہوگیا کہ آپ کو نکلنا پڑ رہا ہے؟

لوگوں سے پولیس اہلکار کہہ رہے ہیں کہ کرفیو پاس دکھائیے تب جائیے۔ جن کے پاس باہر نکلنے کے لئے نہ کوئی کرفیو پاس ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس وجہ ان کے چالان کاٹے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ بہانے بنا رہے ہیں تو کچھ لوگ رعب بھی جھاڑ رہے ہیں۔

دہلی پولیس آج سختی سے ان لوگوں کے ساتھ نمٹ رہی ہے۔  بتا دیں کہ دہلی میں کل ہوا لاک ڈاؤن بہت حد تک ناکام رہا کیونکہ جگہ جگہ لوگ باہر نکلے۔ سبزی منڈیوں میں بھیڑ رہی، گاڑیوں سڑکوں پر دوڑتی رہیں۔

جس کے بعد خود وزیر اعظم نے ٹویٹ کر کے لوگوں کی طرف سے سنجیدہ ہونے کی اپیل کی۔ لوگ جس طرح لاک ڈاؤن کو ہلکے میں لے رہے تھے اس کو دیکھتے ہوئے لوگ سڑکوں پر نہ نکلے، جمع نہ ہو اس کے لئے دہلی میں کرفیو لگانا پڑا۔ اس کے بعد بھی آج لوگ اس پر عمل کرتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔  

حکومت کی تمام اپیلیں، میڈیا اور پولیس والوں کی اپیلیں فیل ہوتی ہوتی نظر آرہی ہیں جس کی وجہ سے پولیس اب سختی کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ نہ صرف دوارکا بلکہ دہلی کے اتم نگر میں بھی لوگ پولیس والوں سے بحث کرتے ہوئے دکھائی دیے۔

پولیس والوں نے جگہ جگہ سڑکوں پر بیری کیڈنگ کر دی ہے اور لوگوں سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ لوگوں کا چالان بھی کاٹا جا رہا ہے جس کے بعد سے باہر نکلے ہوئے یہ لوگ الٹے پولیس والوں کے اوپر ناراضگی بھی دکھا رہے ہیں۔ ہر موڑ پر آج پولیس اہلکار ہیں جو کہ لوگوں کو سمجھا رہے ہیں کہ باہر نہ نکلیں۔ ان کے چالان بھی کاٹ رہے ہیں اور سختی کے ساتھ انہیں واپس بھی بھیج رہے ہیں۔ اب ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ راجدھانی دہلی کے لوگ شدید بیماری کے لئے سنگین کیوں نہیں ہیں؟

ایک نظر اس پر بھی

کشمیر کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون روبہ صحت ہوکر ہسپتال سے رخصت

وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافے کے بیچ سری نگر کے خانیار علاقے سے تعلق رکھنے والی وادی کی پہلی وائرس متاثرہ خاتون مکمل طور پر صحت یاب ہوئی ہے اور اس کو شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ سے ڈسچارج بھی کیا گیا ہے۔

تبلیغی جماعت کے خلاف کیس واپس لینے کا مطالبہ تبلیغی مرکز سے متعلق پیدا شدہ حالات پر سرکردہ مسلم دانشوروں کا بیان

 تبلیغی مرکز سے متعلق پیداشدہ صورتحال پر سرکردہ دانشوروں اور صحافیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ہم حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس سے یہ اپیل بھی کرنا چاہتے ہیں