بھٹکل سمیت دیگر تعلقہ اسپتالوں میں ہی ہوگا اب کورونا کا علاج۔ لاک ڈاؤن قوانین پر ہوگا سختی سے عمل۔کاروار میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار کی پریس کانفرنس

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 20th May 2020, 12:46 PM | ساحلی خبریں |

کاروار 20/ مئی (ایس او نیوز)ضلع شمالی کینرا میں کووِڈ متاثرین کی تعدا د میں اضافہ کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے مریضوں کا علاج انہی تعلقہ اسپتالوں میں کیا جائے گا جہاں کے وہ رہنے والے ہیں۔اس بات کی اطلاع ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے اخباری کانفرنس میں دی۔ انہوں نے کہا کہ کاروار کے کرناٹکا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (کیمس) میں کووِڈ وارڈ قائم کیاگیا ہے اور وہاں پر علاج بحسن وخوبی کیا جارہا ہے۔ اب تک بھٹکل کے متاثرین کا علاج اس اسپتال میں کیا گیا ہے۔ لیکن آئندہ ایسے مریضوں کے علاج کا انتظام ان کے اپنے تعلقہ جات میں کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بھٹکل، ہوناور اور کمٹہ کے تعلقہ اسپتالوں میں جو سہولتیں فی الحال دستیاب ہیں اس کو اور بہتر کیا جائے گا۔ڈانڈیلی میں بھی کیمس اسپتال جیسی سہولتوں کا انتظام اس ہفتے کے آخر تک کیا جائے گا۔جن مریضوں کی لیباریٹری جانچ رپورٹ پوزیٹیو آئے گی اور ان کے اندر مرض کی علامت موجود نہیں ہونگی ان کا علاج اب تعلقہ سطح پر ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 جن مریضوں کی عمر 65سے زیادہ ہوگی، یا جو حاملہ خواتین اور جن کی حالت بہت زیادہ سنگین ہوگی صرف انہی کوآئندہ کاروار کے کیمس میں داخل کیا جائے گا۔ 

 ڈپٹی کمشنر ہریش کمارنے بتایا کہ کووِڈ وباء کے پس منظر میں ہم سب کاطرز زندگی پوری طرح تبدیل ہوجائے گا۔اب عوام کو اس وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے کے لئے ذہنی اور عملی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ ضلع میں کووِڈ 19متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر 31مئی تک لاک ڈاؤن قوانین لاگو رہیں گے۔اس عرصے میں سوائے طبی ضرورت کے کسی اور کام کے لئے لوگ باہر نکل نہیں سکیں گے۔اس کے علاوہ 65 سال اور اس سے زیادہ عمر والے افراد، حاملہ خواتین اور 10سال کی عمر تک کے بچوں کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی رہے گی۔

 انہوں نے کہا کہ عوام کو قانون کی پابندی کرنے کے لئے لاکھ سمجھانے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ کاروار کے ساحل پر شام کے وقت چہل قدمی کے لئے پڑھے لکھے اور جانکار افراد نکل رہے ہیں۔ اب ان پر کیس داخل کیے جائیں گے۔ ڈرون کے ذریعے نگرانی کرکے بھی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے لوگوں پر معاملات درج کیے جائیں گے۔بھٹکل میں سختی کے ساتھ قوانین لاگو کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر معاملات درج کرنے کی وجہ سے صورتحال اب قابو میں آگئی ہے۔اب اسی طرح کی سختی کاروار میں بھی اختیار کی جائے گی۔

شام چھ بجے تک دکانیں کھولنے کی چھوٹ:   ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا کہ   کنٹینمنٹ زون والے علاقوں کو چھوڑ کر ضلع کے دوسرے تمام علاقوں میں  صبح سات بجے سے شام 6 بجے تک دکانوں کو کھولنے کی چھوٹ دی  گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے دیگر اضلاع میں صبح سات بجے سے شام سات بجے تک دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن ضلع اُترکنڑا میں ایک گھنٹہ پہلے ہی یعنی شام چھ بجے ہی دکانوں کو بند کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں۔

 

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی ضلع میں کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لئے کنداپور اور بیندور میں کووِڈ اسپتالوں کا قیام۔ ڈپٹی کمشنر جگدیش کا اعلان

ضلع اُڈپی کے ڈپٹی کمشنر جی جگدیش نے بتایا کہ ضلع میں کووِڈ 19سے متاثرین کی تعداد میں روزبرو ز اضافہ کو دیکھتے ہوئے کنداپور اور بیندو ر میں 400 بستروں کی سہولت کے ساتھ کووِ ڈ اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کرناٹک میں 25 جون سے شروع ہورہے ہیں ایس ایس ایل سی امتحانات؛ ہر امتحان گاہ میں صرف 18 طلبا کو بیٹھنے کی ہوگی سہولت؛ ایک گھنٹہ پہلے امتحان گاہ پہنچنا ضروری

کورونا وباء کے بعد ملک بھر میں لگے لاک ڈاون کے بعد اب ریاست کرناٹک میں 25 جون سے ایس ایس ایل سی امتحانات شروع ہورہے ہیں جو  4 جولائی کو اختتام کو پہنچیں گے۔ امتحانات کو منعقد کرنے کے لئے ہرممکن احتیاطی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ طلبا کویڈ سے  محفوظ رہیں،  طلبا کے درمیان ...

ہوناور: لاری میں بے ہوش پڑے ہوئے ڈرائیور کو پولیس نے عوام کے تعاون سے پہنچایا اسپتال، کورونا کا شبہ

ہوناور کے شراوتی سرکل پر کھڑی ایک لاری  میں ڈرائیور بے  ہوش پائے جانے کےبعد پولس نے اسے مقامی لوگوں کی مدد سے اسپتال پہنچادیا ہے۔ عوام کو شبہ ہے کہ اس پر کورونا وائرس کا حملہ ہوا ہے۔