کورونا کی دوسری لہر کی زد میں دنیا، کئی ممالک میں دوبارہ لاک ڈاؤن

Source: S.O. News Service | Published on 19th September 2020, 2:18 PM | عالمی خبریں |

لندن،19؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) برطانوی حکومت نے کورونا کیسز کی دوسری لہر کے پیش نظر دوبارہ ملک گیر لاک ڈاؤن پر غور شروع کر دیا جبکہ اسرائیل نے جمعہ کے روز ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ یہاں تین ہفتوں تک سخت پابندیاں عائد رہیں گی۔ لوگ اپنے گھروں سے ایک کلومیٹر کے دائرے سے باہر نہیں جا سکیں گے۔ اسرائیل دوبارہ ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کرنے والا پہلا ملک ہے، جبکہ کئی دوسرے ممالک بھی لاک ڈاؤن کے بارے میں غور و خوض کر رہے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بارس جانسن نے کہا ہے کہ برطایہ می کورونا کی دوسری لہر آتی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے 6 مہینے تک پابندیوں کی ضرورت کا اظہار کیا۔ بورس جانسن نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کے معاملہ میں برطانیہ اسپین اور فرانس سے 6 ہفتے پیچھے ہے، یقینی طور پر برطانیہ میں بھی دوسری لہر آنے والی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکریٹری صحت میٹ ہینکوک نے میڈیا بریفنگ کے دوران برطانیہ میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ملک گیر لاک ڈاؤن کا امکان ظاہر کیا۔ برطانوی سکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ کورونا کے بڑھتے کیسز کے خلاف آخری آپشن کے طور پر ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا جاسکتا ہے۔

وہیں، عالمی ادارہ صحت نے یورپ میں کورونا کی دوسری لہر کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ یورپ میں کورونا کیسز خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر ہنس کلوز نے کہا کہ اس معاملے میں اضافہ کو ایک انتباہ کے طور پر لیا جانا چاہیے کہ آگے کیا ہوگا!

ہنس کلوز نے یہ بھی کہا کہ جب کورونا وائرس عروج پر تھا تو یورپ میں ایک ہفتے میں کیسز کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ یوروپی خطے میں ایک ہفتے میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

یورپ کے آدھے ممالک نے اپنے پچھلے دو ہفتوں میں نئے کیسز میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ ان میں سے سات میں کورونا کے نئے کیسز دوگنے ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد تین کروڑ 69 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ کورونا سے 9 لاکھ 56 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

انتخابی اشتہارات: ٹرمپ اور بائیڈن کی مہمات کیسے مختلف ہیں؟

امریکہ میں ری پبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حریف جو بائیڈن نے فیس بک اور انسٹا گرام پر اشتہارات چلانے کے لیے 100 ملین ڈالر استعمال کیے ہیں۔ یہ رقم تین نومبر کے صدارتی انتخاب کے لیے دونوں جانب سے جون سے اب تک خرچ کی گئی ہے۔