کورونا بحران میں ہندوستانی معیشت کو لگا جھٹکا، ترقیاتی شرح نمو کم ہو کر 4.2 فیصد رہ گئی

Source: S.O. News Service | Published on 30th May 2020, 12:10 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،30؍مئی (ایس او نیوز؍یو این آئی)  مینوفیکچرنگ اور کنسٹرکشن شعبے کے کمزور مظاہرے کے سبب مالی برس 20-2019 میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 19-2018 کے 6.1 فیصد سے کم ہو کر 4.2 فیصد رہ گئی۔ سینٹرل اسٹیٹِسٹِک آفس (مرکزی شماریاتی دفتر) کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 31 مارچ 2020 کو ختم گزشتہ مالی سالی کی چوتھی سہ ماہی میں شرح نمو 3.1 فیصد تھی۔ کورونا وائرس یعنی ’کووڈ-19‘ کے سبب نافذ لاک ڈاؤن کے سبب چوتھی سہ ماہی کے پورے اعداد و شمار یکجا نہیں کیے جا سکے ہیں۔ فی الحال دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر رپورٹ تیار کیا گئی ہے اور بعد میں پورے مالی سال اور چوتھے سہ ماہی کے اعداد و شمار میں ترمیم کی جائے گی۔

مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی 145.66 لاکھ کروڑ سے 4.2 فیصد زیادہ ہے۔ چوتھے سہ ماہی میں جی ڈی پی 38.04 لاکھ کروڑ تھا جو 19-2018 کی آخری سہ ماہی کے 36.90 لاکھ کروڑ سے 3.1 فیصد زیادہ ہے۔ پورے مالی سال کے دوران مینوفیکچرنگ شعبے کا مظاہرہ سب سے کمزور رہا۔ اس کی شرح نمو سنہ 19-2018 کے 5.7 فیصد سے کم ہو کر 20-2019 میں 0.03 فیصد رہ گئی تھی۔ کنسٹرکشن شعبے کی شرح نمو بھی 6.1 فیصد سے کم ہوکر 1.3 فیصد پر آگئی۔ کانکنی میں سب سے زیادہ بہتری دیکھی گئی۔ اس میں 19-2018 میں 5.8 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی تھی جبکہ گذشتہ مالی سال میں اس کی شرح ترقی 3.1 فیصد رہی۔

زراعت کے شعبے کا مظاہرہ بھی مضبوط رہا۔ اس کی شرح ترقی ایک سال سے پہلے کے 2.4 فیصد سے بڑھ کر 20-2019 میں چار فیصد پر پہنچ گئی۔ عوامی انتظامیہ ، دفاع اور دیگر خدمات کے شعبے کی شرح نمو 9.4 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہوگئی۔ بجلی ، گیس ، پانی کی فراہمی اور دیگر افادی (یوٹیلِٹی) خدمات کے شعبے کی شرح نمو 8.2 فیصد سے گھٹ کر 4.1 فیصد ہوگئی۔ کاروبار، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور نشریاتی خدمات کی شرح نمو 7.7 فیصد سے کم ہوکر 3.6 فیصد ہوگئی اور مالیاتی، رئیل اسٹیٹ اور پیشہ ورانہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 6.8 فیصد سے کم ہوکر 4.6 فیصد رہ گئی۔

چوتھی سہ ماہی میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 1.4 فیصد اور تعمیرات میں 2.2 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بھی دوسری اور تیسری سہ ماہی میں بالترتیب 0.6 فیصد اور 0.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔ تیسری سہ ماہی میں تعمیراتی شعبہ میں 0.04 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ انڈر ریویو (زیر جائزہ) سہ ماہی میں زراعت ، جنگلات اور ماہی گیری کے شعبے میں 5.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس شعبے کی شرح نمو میں مسلسل چوتھی سہ ماہی میں بہتری آئی ہے۔ یہ پہلی سہ ماہی میں 3 فیصد، دوسری سہ ماہی میں 3.5 فیصد اور تیسری سہ ماہی میں 3.6 فیصد تھی۔

کان کنی کے شعبے کی شرح نمو 5.2 فیصد؛ بجلی ، گیس ، پانی کی فراہمی اور دیگر افادیت خدمات کی 4.5 فیصد۔ تجارت، ہوٹلوں، نقل و حمل، مواصلات اور نشریاتی خدمات کی 2.6 فیصد؛ مالیاتی، رئیل اسٹیٹ اور پیشہ ورانہ خدمات 2.4 فیصد اور عوامی انتظامیہ ، دفاع اور دیگر خدمات 10.1 فیصد رہی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا انفیکشن: ہندوستان ہوا بے حال، مریضوں کی تعداد تقریباً 7.5 لاکھ، مہلوکین 20642

 ہندوستان میں کورونا کا قہر لگاتار بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے روزانہ 20 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آ رہے ہیں اور مہلوکین کی تعداد میں بھی 400 سے 500 کے درمیان درج کی جا رہی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ہندوستان میں کورونا متاثرہ افراد کی کل تعداد 7.42 لاکھ اور ہلاکتوں ...