امیٹھی میں راہل گاندھی کو جتانے کے لیے ایس پی اور بی ایس پی لیڈروں سے بھی رابطہ: ذرائع

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 26th April 2019, 8:07 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی: 26 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) بی جے پی کی طوفانی انتخابی مہم کا سامنا کر رہی کانگریس امیٹھی میں پارٹی صدر راہل گاندھی کوفرق سے جیت دلانے کے لیے پوری طاقت جھونک رہی ہے۔یہاں مسئلہ 2014 عام انتخابات میں اس وقت پیدا ہوا جب بی جے پی نے امیٹھی میں راہل کے خلاف اسمرتی ایرانی کو اتارا۔نئی امیدوار نے اس وقت کے کانگریس کے نائب صدر کو چیلنج اور 2009 میں ان کے جیت کے 3.7 لاکھ فرق کو کم کرکے صرف ایک لاکھ ووٹوں تک پہنچادیا۔یہ کانگریس مینیجرز کے لئے آنکھ کھول دینے والا تھا، جس کے بعد وہ راہل کی جیت کے فرق کو برقرار رکھنے کے لئے تیزی سے کام میں لگ گئے۔اس کے بعد ایک منصوبہ بندی کے تحت ٹیموں کو بھیجا گیا اور آن لائن ایپ شکتی کے ذریعے مسلسل نگرانی رکھی گئی۔شکتی ایسا آن لائن پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعہ ملک بھر میں بوتھ سطح گروپوں کی کارکردگی کو ٹریک کیا جاتا ہے۔امیٹھی میں پارٹی رابطہ کاروں نے ایک خاص کوشش بھی کی ہے، جہاں راہل کو پارٹی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔پارٹی کے نظام کو درست کرنے کے علاوہ، کارکنوں سے جیت کا فرق پانچ لاکھ ووٹ کویقینی بنانے کے لئے کہا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نام نہاد مخالف سماج وادی پارٹی کے بااثر لیڈروں کی بھی اس کام میں مدد لی جا رہی ہے۔ایس پی-بی ایس پی اتحاد نے عام انتخابات میں کانگریس سے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے لیکن اکھلیش یادو کی پارٹی سماجوادی پارٹی کا 2017 اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ انتخاب سے قبل اتحاد تھا اور دونوں پارٹیوں میں امکانات مکمل طورپر ختم نہیں ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کے سینئر کانگریس لیڈر پرمود تیواری کی ایس پی اور بی ایس پی کے مقامی لیڈروں سے راہل کو حمایت دینے کے لئے کئی بار بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے ساتھ ہی پارٹی کارکنوں سے مقصد متحد ہوکر کام کرنے کی اپیل کی۔

ایک نظر اس پر بھی