ریاستی کانگریس میں داخلی اختلافات پھوٹ پڑے پارٹی میٹنگ میں سدارمیا اور دنیش گنڈو راؤ سینئر رہنماؤں کے نشانے پر، استعفیٰ دینے گنڈوراؤ کا اعلان

Source: S.O. News Service | Published on 27th September 2019, 2:29 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،26؍ستمبر(ایس او نیوز) کرناٹک کانگریس میں شدید اختلافات جمعرات کے روز اس وقت کھل کرسامنے آگئے جب ضمنی انتخابات کے لئے کانگریس کے امیدواروں کے انتخاب کے لئے منعقدہ ریاستی الیکشن کمیٹی میٹنگ کے دورا ن سابق مرکزی وزیر کے ایچ منی اپا اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری بی کے ہری پرساد نے سابق وزیراعلیٰ سدارامیا اور کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ پر راست حملہ کردیا اور سدارامیا کو ریاست میں کانگریس پارٹی کو منظم طریقے سے کمزور کرنے اور کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے گرجانے کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ کے ایچ منی اپا اور بی کے ہری پرساد نے قدیم کانگریسیوں کی طرف سے کانگریس کے تمام امور پر سدارامیا کے غلبے پر اپنی شدید برہمی ظاہر کی اور ساتھ ہی کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ کو اس بات کے لئے آڑے ہاتھوں لیا کہ وہ سدارامیا کے ہر حکم کوبجالانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ضمنی انتخابات کے لئے پارٹی کے امیدواروں کے انتخاب کے لئے شہر کی ایک اسٹار ہوٹل میں منعقدہ میٹنگ کے دوران پھوٹ پڑنے والے ان اختلافات کے سبب سدارامیا اور دنیش گنڈو راؤ کو شدید دھکا پہنچا۔ دنیش گنڈو راؤ اس حملے سے اس قدر ناراض ہوئے کہ انہوں نے میٹنگ کے دوران کے پی سی سی صدارت سے استعفیٰ دینے کا بھی اعلا ن کردیا تاہم اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے انہیں مناکر خاموش کردیا۔الیکشن کمیٹی میٹنگ سے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی میٹنگ میں اٹھایاگیا اور لیڈروں نے کہا کہ کسی کو بھی اعتماد میں نہ لے کر جس طرح کی اجارہ داری سدارامیا کررہے ہیں اس سے پارٹی کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ بی کے ہری پرساد نے دنیش گنڈو راؤ پر الزام لگایا کہ وہ پارٹی کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنے کی بجائے گروپ بندی کو ہوا دے رہے ہیں جو درست نہیں ہے۔اس پر ناراض دنیش نے کے پی سی سی صدارت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔ اس وجہ سے میٹنگ میں کچھ دیر کے لئے افرا تفری مچ گئی۔اسی میٹنگ کے دوران سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا اور سابق مرکزی وزیر کے ایچ منی اپا کے درمیان بھی زبردست نوک جھونک کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ایچ منی اپا نے ریاست میں کانگریس کو کمزور کرنے کے لئے سدارامیا کو راست طور پر ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ سابقہ مخلوط حکومت کو بھی سدارامیا نے محض اپنی انانیت کی وجہ سے گرادیا۔ کولار پارلیمان حلقہ کے حالیہ انتخابات میں انکی ہار کے لئے سدارامیا کے حامی اور سابق اسپیکر رمیش کمار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے منی اپا نے کہا کہ سدارامیا کے خلاف بیان دینے پر سابق وزیر روشن بیگ کو کانگریس سے نکال دیا گیا۔ جبکہ کولا ر میں ان کی کھل کر مخالفت کرنے پر بھی اسمبلی کے سابق اسپیکر رمیش کمار پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ منی اپا نے سدارامیا کے دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رمیش کمار کے خلاف انہوں نے پارٹی اعلیٰ کمان سے شکایت کی ہے اس کے باوجود سدارمیا ان کو اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔ اسی بات کو لے کر سدارامیا اور منی اپا کے درمیان زبردست تکرار ہوئی اور دونوں نے ایک دوسرے کو صیغہ واحد میں مخاطب کیا۔ضمنی انتخابات کے لئے بھی پارٹی کے امیدواروں کے انتخاب کے طریقے کو لے کر منی اپا اور ہری پرساد نے سدارامیا اور دنیش گنڈو راؤ کو آڑے ہاتوں لیا اور کہا کہ کسی سے مشورہ کئے بغیر کیسے ان دونوں نے امیدواروں کا انتخاب طے کردیا۔بتایا جاتا ہے کہ اس میٹنگ میں بیشتر لیڈروں نے سدارامیا اور دنیش گنڈو راؤ کے کام کرنے کے طریقے پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے یہ دونوں پارٹی کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش میں ہیں۔ اسی ہنگامہ آرائی کے دوران انہوں نے میٹنگ سے باہر چلے جانے کا اعلان کیا تو کے سی وینو گوپال نے منا کر انہیں بٹھا لیا۔ اس دوران میٹنگ کے بعد سپریم کورٹ کی طرف سے کرناٹک کے 15حلقوں میں ضمنی انتخابات پر روک لگا دی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے بھی ان انتخابات کو ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔تاہم الیکشن کمیٹی میٹنگ کے بعد اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی قائدین کے درمیان اختلافات ہیں اور کہا کہ سب کے سب پارٹی کی کامیابی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں میٹنگ کے دورا ن بعض امور پر کھل کر بحث ہوئی ان کو اختلافات سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس میٹنگ کے دوران سدارامیا نے جس طرح کا رویہ اپنایا اس پر کانگریس کے دیگر سینئر لیڈروں نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جس طرح سدارمیا نے زور دار لہجے میں منی اپا کو جھڑک دیا اس پر منی اپا میٹنگ کے دوران رو پڑے۔ سات بار لوک سبھا کے لئے منتخب پارٹی لیڈر کے ساتھ سدارمیا کا یہ رویہ پارٹی کے دیگر لیڈروں پر بھی گراں گزرا جس کے بعد ان تمام نے سدارمیا کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس میٹنگ کے بعد تقریباً ایک گھنٹے تک سدارامیا میٹنگ ہال میں اکیلے بیٹھے رہے اور انہوں نے کسی سے بات نہیں کی۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹکا اسمبلی کے سابق باغی اراکین کی نااہلیت برقرار۔ لیکن انتخاب لڑ نے پر نہیں ہوگی پابندی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ

سابقہ اسمبلی میں جن 17 کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین نے بغاوت کی تھی، انہیں سپریم کورٹ سے تھوڑی سے راحت ملی ہے جس کا اثر ریاستی بی جے پی حکومت پر بھی پڑنے والا ہے۔

نا اہل اراکین اسمبلی کے مستقبل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، نااہلی کا فیصلہ درست قرار پائے گا یا معاملہ دوبارہ اسمبلی اسپیکر کے حوالے ہوگا؟

ریاستی اسمبلی سے نا اہل قرار پانے والے 17اراکین اسمبلی کے متعلق سپریم کورٹ چہارشنبہ کے روز اپنا فیصلہ سنائے گی۔اسمبلی اسپیکر رمیش کمار کی طرف سے نا اہل قرار دئیے جانے کے فیصلے کو ان 17اراکین نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں اس عرضی کی سماعت پوری ہو چکی ہے اور عدالت ...

بھٹکل شرالی کی دختر انجمن ڈاکٹر انیسہ شیخ کو ملی ڈینٹل شعبہ میں اعلیٰ ترین کامیابی : جملہ مضامین کے علاوہ مینگلور کالج کی بہترین طالبہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا

دختر ِ انجمن  کاگولڈ میڈل اور رابطہ گولڈ میڈل ایوارڈ سے سرفراز  بھٹکل  کی  ڈاکٹر انیسہ شیخ طبی میدان میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے اے جے اسپتال مینگلورو میں بھی  امتیازی نمبرات سے کامیاب  ہونے کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور کالج کی بہترین طالبہ کا ایوارڈ حاصل ...