کشمیرمیں اہم رہنماؤں کونظربند رکھنے کی وجہ بتائے حکومت: کانگریس

Source: S.O. News Service | Published on 15th November 2019, 11:39 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،15/نومبر(ایس او نیوز/یو این آئی) کانگریس نے کہاہے کہ جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہونے کے بارے میں پوری دنیا میں شور مچارہی مودی حکومت کوبتانا چاہیے کہ کشمیر کو ملک کا اٹوٹ حصہ بنائے رکھنے میں تعاون کرنے والے مرکزی دھارے کے رہنماؤں کو حراست میں کس وجہ سے رکھاگیاہے۔

کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہاکہ جموں کشمیر میں مرکزی دھارے کے سبھی رہنما حراست میں ہیں ۔ان رہنماؤں نے کشمیر کو ملک کا حصہ بنائے رکھنے کے لیے مسلسل کام کیاہے اور اپنا اہم تعاون دیاہے ۔ان رہنماؤں کو حراست میں رکھنے کا کوئی جوازنہیں ہے اور حکومت کو بتانا چاہئے کہ انھیں کس وجہ سے نظر بند کیا گیا ہے۔

انھوں نے دعوی کیاکہ جموں کشمیر میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔وہاں فون کی گھنٹی نہیں بج رہی ہے ،اسپتالوں میں دوائیاں نہیں ہیں اور بجلی نہیں ہونے سے لوگ پریشان ہیں ۔موبائل خدمات ار موبائل ڈاٹا وہاں بندہیں ۔لوگ اپنے عزیزوں سے بات نہیں کرپارہے ہیں۔ یوروپ کے ارکان پارلیمنٹ کووہاں بھیجاجارہاہے لیکن ملک کے ارکان پارلیمنٹ کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ مرکزی دھارے کے رہنماؤں کوحراست میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ جیسے لوگ بندہیں ۔یہ وہی ڈاکٹر عبداللہ ہیں جومسٹر اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی حکومت میں مرکز ی وزیر رہے ہیں۔

وہ لوک سبھا رکن ہیں اور پیر سے پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہورہاہے ۔ڈاکٹر عبداللہ منتخب نمائندہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کے لوگوں کی آواز اٹھاتے لیکن نہیں اٹھاپائیں گے ۔انھیں علیحدگی پسندوں کی صف میں شامل کرکے حراست میں رکھا گیاہے ۔انکا ایک بھی ٹوئیٹ اشتعال انگیز نہیں ہے پھر بھی وہ حراست میں ہیں ۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں کورونا انفیکشن نے پھر بنایا ریکارڈ، 24 گھنٹوں میں ملے 22,771 نئے کیس، 442 لوگوں کی موت

ملک میں کورونا وائرس روز بروز شدید شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے ریکارڈ 22،771 نئے کیسز سامنے آئے ہیں ، جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر 6.48 لاکھ ہوچکی ہے۔

ممبئی میں موسلا دھار بارش، 38 مقامات پر پانی بھرگیا، ٹریفک جام سے عوام کو پریشانی

گزشتہ روز صبح ممبئی میں تین گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید بارش کے بعد کم سے کم 38 مقامات پر پانی بھرگیا، جس سے اندھیری اور سائن میں تین مقامات پر بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا اور ٹریفک کا رخ موڑنا پڑا۔

دہلی میں کورونا کے معاملات 94000سے زیادہ، 2900سے زیادہ لوگو ں کی موت

کورونا وائرس (کووڈ۔19) کا قہر رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور راجدھانی میں کل 2520نئے معاملے سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد جمعہ کو بڑھ کر 94000سے زیادہ ہوگئی ہے اور 59مزید لوگوں کی موت کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد 2923ہوگئی ہے۔