بیلگام میں سیلاب راحت کاری میں ناکام مرکزی وریاستی حکومتوں کے خلاف کانگریس کا زبردست احتجاج

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 24th September 2019, 7:36 PM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بیلگام:24؍ستمبر(ایس اؤ نیوز)سیلاب سےمتاثرہ عوام کے مسائل کی طرف توجہ نہ دیتے ہوئے ان کے حل کی ذرہ برابر کوشش نہ کئے جانےپر کانگریس پارٹی  کے سیکڑوں کارکنان و لیڈران نے سنگولی رائینا سرکل سے کتوررانی چنما سرکل تک احتجاجی ریلی کا اہتمام کرتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کے خلاف احتجاج کے ذریعے اپنی قوت کا مظاہرہ کیا۔

کانگریس سی ایل پی لیڈر ، سابق وزیرا علیٰ سدرامیا نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب آکر 50دن ہوگئے ابھی تک متاثرین کو کوئی راحت کاری کے کاموں میں مکمل ناکام ہوئی ہے۔ ہماری جدوجہد اب شروع ہوئی ہے۔ ریاست میں جو سیلاب آیا ہے وہ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہواتھا۔ 22اضلاع کے 103تعلقہ جات کے عوام سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں8لاکھ عوام کی زندگی سڑک پر آگئی ہے۔ ڈھائی لاکھ خاندان اپنے گھروں کو کھویاہے۔ 20لاکھ ہیکٹر کی فصل بربادہوئی ہے۔ جائیداد برباد ہوئی ہے، 88لوگ فوت ہوئے ہیں، کسان خود کشی کررہے ہیں، اتنا سب ہونے کے باوجود حکومت اپنی جگہ بالکل خاموش  رہنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتےہوئے سدرامیا نے عوام سے سوال پوچھا کہ  کیا ان کی چمڑی انسانوں کی نہیں ہے ؟ انہیں انسانیت نہیں ہے؟ غریبوں کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو اقتدار پر کیوں ہیں؟ اگر نہیں ہوتاہے تو اترجائیں۔ کیا تم بیمار ہو؟ کس کا پیسہ خرچ کررہےہو، عوام کے ٹیکس کا پیسہ ،عوام کودینےمیں کیا حرج ہے؟ تمہیں کیا تکلیف ہورہی ہے؟عوا م سڑک پر ہیں  یہاں کی خبر لینے کے بجائے ٹرمپ کے حق میں انتخابی مہم کی تشہیر میں حصہ لینے پر کیا تمہیں شرم نہیں آئی ؟

احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے  کانگریس لیڈر ایشور کھنڈرے نےکہاکہ بی جے پی حکومت کسان اورعوام دشمن ہے، سیلاب سے 1لاکھ کروڑ روپیوں کا نقصان ہواہے ، اس کے باوجود ادھر کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ یڈیورپا متاثرین میں حوصلہ پیدا کرنےکے بجائے اپنی کرسی بچانےمیں مصروف رہنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کو  عوام کے متعلق کوئی فکر نہیں ہےعوام بہت جلد اس حکومت کو بے دخل کرنے  کی بات کہی۔ انہوں نے مرکزی وزیر خزانہ سیتارامن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ نرملا سیتارامن برائے نام سیلاب متاثرہ مقامات کادورہ کرکے چلی گئیں۔ کیا انہوں نے راحت کاری کے لئے ایک پیسہ تک دیاہے عوام اس تعلق سے غور کریں۔ وزیرا عظم بنگلورو کا دورہ کیا مگر سیلاب متاثرین کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں عوام سے پوچھا کہ تیجسوی سوریا رکن پارلیمنٹ ہے یا راکشش ہے؟ ایسے لوگوں کو سرحد پار کرنا چاہئے نا؟انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ضمنی انتخاب میں بی جے پی کو سبق سکھائیں اور مطالبہ کیا کہ جو گھر کھوچکے ہیں انہیں 10لاکھ روپیوں کامعاوضہ دیں۔

سابق وزیر داخلہ ،کانگریس لیڈر ایم بی پاٹل نے قومی آفت قرار دینے کے لئے مرکزی حکومت کو سفارش کرنے پر زور دیا۔ متاثرین سے ڈر کر بنگلورو میں ودھان سبھا اجلاس منعقد کرنے پر سخت تنقید کی۔ رکن اسمبلی ستیش جارکی ہولی نے بات کرتےہوئے کہاکہ سیلاب میں پھنس کر عوام پچھلے دو مہینوں سے تڑپ رہے ہیں ابھی تک انہیں کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ کم ازکم اب تو وزیر اعلیٰ سیاست کو چھوڑ کر راحت کاری کےکاموں کوانجام دینے کامطالبہ کیا۔

سابق وزیر ایچ کے پاٹل نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ مودی کے پاس ہر ایک کے لئے وقت ہے لیکن سیلاب متاثرین کے آنسو پونچھنےکے لئے وقت نہیں ہے۔ بی جےپی ایم پی تیجسوی سوریا متاثرین کی توہین کرتےہوئے انہیں دکھ دیاہے، انہوں نے عوام سے پوچھا کہ ایم پی کا  سر خراب ہواہےیا انہیں بہت غرور ہے ؟ کیا کہیں اس کو۔ وہ متاثرین کے پیر چھو کر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

رکن اسمبلی لکشمی ہیبالکر  نے بھی مرکزی و ریاستی حکومتوں کے خلاف تنقید کرتےہوئے کہاکہ حکومت کے سامنے بھیک مانگنے پر بھی ان کی آنکھ نہیں کھلی ، عوام کے ساتھ دھوکہ کیا ہے، ارکان اسمبلی کو خریدنے پیسہ تھا متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے پیسہ نہیں ہے ؟ انہوں نے سوالوں کی بوچھار کرتے ہوئے کہاکہ  کیا حکومت کی آنکھ اور کان نہیں ہیں؟تیجسوری سوریا کو بھاشن دینے آتاہے عوام کی مشکلات کے متعلق انہیں کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔امریکن صدر کی بیوی سےمعافی مانگنے والے مودی  کو لاکھوں عوام کی تکالیف پرتوجہ دی ہے؟ اس تعلق سے ایک بھی ٹویٹ کیا ہے؟ پرکاش ہوکیری،اوما شری ، ایس آر پاٹل، ڈاکٹر ایچ سی مہا دیوپا ،کے پی سی سی صدر دنیش گنڈوراؤ ،سی ایم ابراہیم وغیرہ نے بھی اپنے خطاب میں مرکزی و ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک کے وجیا پور میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ۔سیاسی و سماجی لیڈروں نے کیا 2لاکھ سے زائد افرادسے خطاب 

شہریت سے متعلقہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر قوانین کے خلاف”دستور بچاؤ“ عنوان کے تحت ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ وجیاپور میں منعقد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے کہا کہ ایسے قوانین کا نفاذ کرتے ہوئے مرکزی حکومت ملک کے آئین کی دھجیاں اڑانے کا کام ...

کرناٹک کے اقلیتی بجٹ میں 40فیصد تک کٹوتی کے آثار،2019/20کے 2950کروڑ کے مقابلے 2000کروڑ بھی مل گئے تو غنیمت

ایسے مرحلے میں جبکہ وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے ریاستی بجٹ کی تیاری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ مختلف سرکاری محکموں کے افسروں سے وزیر اعلیٰ کی میٹنگوں کا سلسلہ بھی تکمیل کی طر ف گامزن ہے۔

انڈر ورلڈ ڈان روی پجاری کو بنگلورو لایا گیا؛ عدالت میں پیش ، 14؍ دنوں تک پولیس کی حراست میں

متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب انڈرورلڈ ڈان روی پجاری کو پیر کی صبح اولین ساعتوں میں کرناٹکا پولیس کی ٹیم سنیگیل سے بنگلورو لے آئی۔ بنگلورو آمد کے بعد اسے شہر کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے 14؍ دن کی پولیس حراست میں دیا گیا۔

ٹرمپ کے بھارت دورے سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں : حزب مخالف لیڈر سدرامیا

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت دورے سے ہمارے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ مودی بھی جب امریکہ کا دورہ کئے تھے تو  کیا ہمارے ملک کو فائدہ ہواتھا ؟ ۔ ودھان سبھا میں حزب مخالف لیڈر سدرامیا نے ٹرمپ کے دورے کو لے کر سوال کیا۔

آئین نے ہی ایک چائے بیچنے والے کو وزیر اعظم کا عہدہ دیا؛ بیدر ضلع کے بسواکلیان میں سیاہ قوانین کے خلاف جلسہ عام ۔ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا و دیگر کا خطاب

بیدر شہر کے تعلقہ اسٹیڈیم میں کل شام جوائنٹ ایکشن کمیٹی بسواکلیان کے زیر اہتمام مرکزی حکومت کی جانب سے نافذ کئے گئے سیاہ قوانین سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کے خلاف جلسہ عام منعقد ہوا۔جس میں بسواکلیان کے علاوہ ضلع بیدر ، کلبرگی ، عمرگہ ، سولہ پور، لاتو، نیلنگہ سے بھی عوام ...

منگلورو: جعلی کرنسی چھاپنے اور بازار میں چلانے والے دو ملزمین گرفتار 

بجپے پولیس اسٹیشن کے افسرا ن نے جعلی نوٹ چھاپنے اور اسے بازار میں چلانے کی کوشش کرنے والے دو ملزمین کو گرفتار کیا ہے اور ان کے قبضے سے جعلی نوٹ، کلر پرنٹر، موبائل فونس اور موٹر سائیکل ضبط کرلیے گئے ہیں۔

کوسموس اسپورٹس سنٹر بھٹکل کے زیراہتمام تعلیمی و تہنیتی ایوارڈ پروگرام کا شاندار انعقاد :وہی علم ،علم ہے جو اللہ سے جوڑے

کوسموس اسپورٹس سنٹر بھٹکل کے زیر اہتمام کوسموس تعلیمی و تہنیتی ایوارڈ کی تقریب بروز جمعرات کی رات 27فروری 2020کو مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل کے قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی ندوی مدنی کی زیر سرپرستی  خلیفہ محلہ میں کامیابی کے ساتھ  منعقد ہوا۔

کیا مسلمان بھی ہندوستانی شہری حقوق کے حق دار ہیں؟           از :سیدمنظوم عاقب لکھنو

پچھلے٩دسمبرسےحکوت ہنداورہندوستانی شہریوں کےبیچ ایک تنازعہ چل رہاہےجسکاسردست کوئی حل نظرنہیں آرہاہے،کیونکہ ارباب اقتدارسی اےاےکیخلاف احتجاج اوراعتراض کرنےوالوں کویہ باورقراردیناچاہتی ہیں کہ آپکااعتراض اوراحتجاج ہمارےلئے اہمیت کاحامل نہیں ہےاوراحتجاج اورمخالفت ...