کرناٹک معاملہ پر لوک سبھا میں مسلسل تیسرے دن ہنگامہ، کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کا واک آؤٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th July 2019, 11:35 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

نئی دہلی 10جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں کانگریس نے بدھ کو مسلسل تیسرے دن کرناٹک کے سیاسی ’ناٹک‘ کا مسئلہ اٹھایا اور بی جے پی پر کرناٹک میں جنتا دل  ایس- کانگریس مخلوط حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش اور مہاراشٹر میں ’مارشل لاء‘ نافذ ہونے کا الزام لگایا۔ کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کرناٹک کے آبپاشی وزیر ڈی کے شیو کمار کو ممبئی میں غیر مطمئن ممبران اسمبلی سے ملنے سے روکے جانے اور ممبران اسمبلی کی خرید فروخت کرنے کا الزام لگایا۔ اس معاملے میں حکومت کے جواب سے مطمئن کانگریس، ڈی ایم، ترنمول کانگریس، این سی پی سمیت اپوزیشن جماعتوں نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کانگریس کے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اپنے ممبران اسمبلی کو ساتھ رکھنے میں ناکام رہنے کی وجہ سے ایسے الزامات لگا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس سے استعفیٰ دینے والے ممبران اسمبلی نے ڈی کے شیو کمار سے خطرہ ہونے کے بارے میں ممبئی کے پولیس کمشنر کو خط لکھا تھا اور اس شکایت کی بنیاد پر ان ممبران اسمبلی کو پولیس تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ جوشی نے کہا کہ ممبئی میں جن ممبران اسمبلی کے ہوٹل میں رکنے کی بات کی گئی ہے، وہ کانگریس سے رکن اسمبلی ہیں۔ انہوں نے پارٹی سے استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے ممبئی کے پولیس کمشنر کو خط لکھا کہ انہیں ڈی کے شیو کمار سے خطرہ ہے۔ ایسے میں پولیس انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے تو اس میں کیا غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک اراکین اسمبلی کے استعفے کی بات ہے، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ راہل گاندھی نے استعفیٰ کا جو سلسلہ شروع کیا، اسی لنک میں ان ممبران اسمبلی نے استعفیٰ دیا ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو۔بنگلوروٹریک پرچٹان توڑنے کا کام مسلسل جاری۔ دن کے وقت چلنے والی ریل گاڑیاں 24جولائی تک کے لئے منسوخ

انی بندا کے قریب سبرامنیا سکلیشپور ریلوے ٹریک پر ایک بڑی چٹان لڑھکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس حادثے کو روکنے کے لئے پہاڑی تودے کو دھماکے سے توڑنے کاکام پچھلے دو تین دن سے جاری ہے جس کے لئے ہیٹاچی مشین کے کامپریسر اور بارود کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن تیز برسات کی وجہ سے دن ...

کرناٹک: بی ایس پی ارکان اسمبلی کمارسوامی کے حق میں ووٹ کریں گے:مایاوتی

کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس کی مخلوط حکومت رہے گی یا جائے گی اس کا فیصلہ آج ہو جائے گا ۔ برسر اقتدار اتحاد کے ارکان اسمبلی کو بی جے پی ٹوڑنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس بیچ بی ایس پی سپریموں نے کہا ہے کہ اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی کمارسوامی حکومت کے حق میں ہی ووٹ ڈالیں گے ۔ یہ ...

مخلوط حکومت کی بقا کا سسپنس برقرار آج بھی اسمبلی میں تحریک اعتماد پر ووٹنگ کا امکان،باغیوں کو واپس لانے کیلئے سدارامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے کی پیش کش

ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کوبچانے کے لئے اتحادی جماعتوں کے قائدین کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بی جے پی اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح پیر کے روزتحریک اعتماد پر اسمبلی میں ووٹنگ ہو جائے لیکن خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔