اگر آپ عزت دار ماہی گیر ہیں تو آننت کمار ہیگڈے کو ہرگز ووٹ نہ دیں؛ بھٹکل میں ماہی گیروں سے پرمود مدھوراج کی اپیل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 20th April 2019, 10:20 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 20/اپریل (ایس او نیوز) اگر آپ عزت دار ماہی گیر ہیں تو  آپ کو چاہئے کہ  ماہی گیروں کی پرواہ نہ کرنے والے بی جے پی اُمیدوار آننت کمار ہیگڈے  کو ہرگز ووٹ  نہ دیں۔ ملپے سے نکلی سات ماہی گیروں پر مشتمل بوٹ لاپتہ ہوکر  پانچ ماہ ہوچکے ہیں مگر مرکزی وزیر آننت کمار ہیگڈے کو ماہی گیروں کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ یہ بات  ماہی گیرلیڈر اور سابق ماہی گیر وزیر  پرمود مدھوراج نے کہی۔ وہ یہاں بھٹکل میں کانگریس۔جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدوار آنند اسنوٹیکر  کے حق میں  انتخابی پرچار چلانے  پہنچے تھے۔

اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرمود مدھوراج نے بتایا کہ  ہیگڈے کو  اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ   لاپتہ ماہی گیروں کا پتہ لگائیں،اتنا ہی نہیں افسوس اس بات کا بھی ہے کہ موصوف وزیر نے ابھی تک اُترکنڑا کے  اُن ماہی گیروں کے گھروالوں سے جاکر بھی  ملاقات تک نہیں کی ہے حالانکہ لاپتہ ہونے والوں میں پانچ ماہی گیروں کا تعلق ضلع اُترکنڑا سے ہے۔ ایسے حالات میں ہیگڈے مودی کا نام لے کر لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔

ملپے سے لاپتہ ہونے والی بوٹ کے تعلق سے پرمود مدھوراج نے شک ظاہر کیا کہ  نیوی کی بوٹ نے ہی  لاپتہ ہونے والی ماہی گیروں کی بوٹ کو ٹکر دی ہے،  انہوں نے کہا "میرے خیال میں یہ ہِٹ اینڈ رن کا معاملہ ہے، مگر یہ بات وزیردفاع کے علم میں لانے کے باوجود  مرکزی حکومت اس پورے معاملے کو چھپانے میں لگی ہوئی ہے اور یہی حال ہے کہ ضلع کے رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے لاپتہ ماہی گیروں کا پتہ لگانے میں دلچسپی نہیں دکھارہے ہیں"۔ پرمود  مدھوراج نے سوال کیا کہ  ایسے لیڈر کو  کیسے  ووٹ دے سکتے ہیں، عوام کو چاہئے کہ ایسے لوگوں کو  اس بار سبق سکھائیں۔

آننت کمار ہیگڈے پر مسلسل وار کرتے ہوئے پرمود مدھوراج نے کہا کہ ہیگڈے خود کہتے ہیں  کہ وہ عوام کی سیوا کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ وہ صرف سیاست کرنے کے لئے آئے ہیں۔ پرمود مدھوراج نے خیال ظاہر کیا کہ ایسے رکن پارلیمان سے ایک گرام پنچایت ممبر بہتر ہے۔

سابق وزیر برائے مچھلی پالن پرمود مدھوراج جو اس وقت  اُڈپی۔چکمنگلور سے کانگریس۔جے  ڈی ایس کے مشترکہ اُمیدوار ہیں نے  اخبارنویسوں کو بتایا کہ  ماہی گیروں کو  مرکزی حکومت کی جانب سے کسی بھی طرح کی کوئی سہولت نہیں ہے، صرف ریاستی سرکار کی طرف سے ہی ماہی گیروں کے ڈیزل میں سبسیڈی دی جارہی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے  چھوٹی کشتیوں کے لئے  مٹی کا تیل  دینے کی سہولت بھی ختم کردی گئی ہے۔

پرمود مدھوراج نے مزید بتایا کہ گذشتہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر آننت کمار ہیگڈے  ہوناور کے پریش میستا کی موت کو لے کر  پورے ساحلی کرناٹکا میں گھوم گھوم کر ووٹ مانگ رہے تھے ، جب یہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کیا گیا تو اب پارلیمانی انتخابات کے موقع پر  مودی کا نام لے کر ہیگڈے  لوگوں کے پاس  ووٹ مانگ رہے ہیں۔  اب پریش میستا کا معاملہ  ان کی زبان پر بھی نہیں آرہا ہے، اسی طرح اب شری رام کا نام بھی ان کی زبان پر نہیں آرہا ہے۔ پرمود مدھوراج کے مطابق   ہر انتخابات کے موقع پر ہیگڈے کسی نے کسی  کا نام لے کر اور نیا نیا بھس بدل کر عوام کے سامنے آتے ہیں۔

سابق بھٹکل ایم ایل اے منکال وئیدیا، بھٹکل بلاک کانگریس صدر سنتوش نائک، ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، تعلقہ پنچایت صدر ایشور نائک، ایف کے موگیر، نارائن بی نائک، پُنڈلک ہیبلے، ویٹھل نائک، ٹی ڈی نائک، ستیش اچاریہ، ناگیش دیوڑیگا، سچن نائک سمیت کافی دیگر لوگ اس موقع پر موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔