باغی اراکین اسمبلی کو الیکشن لڑنے کی اجازت، مخلوط حکومت گرانے کی سازش کیلئے یڈ یورپا حکومت برخاست کی جائے:کانگریس

Source: S.O. News Service | Published on 14th November 2019, 11:28 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،14/نومبر(ایس او نیوز) سپریم کورٹ نے کرناٹک کے 17باغی اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دئے جانے والے اس وقت کے اسپیکر کے فیصلہ کو آج جائز ٹھہرایا ہے لیکن انہیں اسمبلی کے ضمنی انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی ہے - جسٹس این وی رمن کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے باغی اراکین اسمبلی کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے کہاکہ حالانکہ اس وقت کے اسمبلی اسپیکر رمیش کمار کی طرف سے باغی اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دئے جانے کا فیصلہ درست تھا -تاہم عدالت نے یہ واضح کیا کہ موجودہ اسمبلی کی پوری میعاد کے لئے نااہل قرار دینے کا اسپیکر کا فیصلہ درست نہیں تھا اس طرح عدالت عظمیٰ نے تمام 17 باغی اراکین اسمبلی کو اسمبلی کے ضمنی انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی ہے - عدالت نے اس معاملہ پر 25 اکتوبرکو سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا جس کو آج عدالت میں سنایا گیا - سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے کانگریس کو ایک بڑا جھٹکا لگا ہے - آئندہ 5دسمبرکو ہونے والے ضمنی انتخابات میں کانگریس نے تمام 15 اسمبلی حلقوں میں پارٹی امیدوار کھڑے کرنے کی تیاری تقریباً مکمل کرلی تھی - اب باغی امیدوار بی جے پی کے ٹکٹ پر ان 15 حلقوں میں کھڑے ہونے سے کانگریس کے لئے یہ چناؤ آسان نہیں ہوگا- کیونکہ ان حلقوں کی نمائندگی باغی اراکین اسمبلی کررہے تھے - اس سے قبل بھی تملناڈو ہائی کورٹ نے ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جب تملناڈو میں ششی کلا کے وفادار 18 اراکین اسمبلی ان سے بغاوت کرتے ہوئے دناکرن کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے پارٹی بدلی تو اسپیکر نے انہیں نااہل قرار دے دیا جس کے خلاف وہ تملناڈو ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے اور ہائی کورٹ نے ان 18 باغی اراکین اسمبلی کو ضمنی چناؤ لڑنے کی اجازت دی تھی- اسی حوالہ سے آج سپریم کورٹ نے کرناٹک کے نااہل اراکین اسمبلی کو ضمنی انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی ہے -

کانگریس کا مطالبہ:کرناٹک کے 17 باغی اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کو آج کانگریس نے درست ٹھہرایا اورعدالت کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے - کانگریس نے کہاکہ عدالت کے اس فیصلہ سے واضح ہوگیا ہے کہ بی جے پی نے کرناٹک میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی منتخب حکومت کو آپریشن کنول کے ذریعہ گرایا تھا- اس لئے کرناٹک میں وزیر اعلیٰ بی ایس یڈ یورپا کی قیادت والی حکومت کو فوراً برخاست کیا جانا چاہئے- کانگریس میڈیا سیل کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہاکہ اس فیصلہ سے واضح ہوگیا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی نے مخلوط حکومت کو گراکر غیر آئینی طورپر حکومت سازی کی تھی - انہوں نے مزید کہا کہ قانون اور آئین کے نقطہئ نظر سے کرناٹک میں ایک غیرآئینی حکومت قائم ہے اور اسے فوراً برخاست کیا جاناچاہئے- کرناٹک کانگریس نے بھی یڈ یورپا حکومت کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اس حکومت کو فوراً برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے -سرجے والا نے الزام عائد کیا کہ کرناٹک میں اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کرکے حکومت بنائی گئی تھی-اب اس جوڑ توڑ کی حقیقت طشت از بام ہوچکی ہے لہٰذا یڈ یورپا کی ٹیپ پر ریکارڈ باتوں کی تفتیش ہونی چاہیے -انہوں نے سوال کیا کہ اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت کے لیے کالا دھن کہاں سے آیا؟ بی جے پی کی قیادت نے اس میں کیا کردار ادا کیا تھا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پوری سازش کی تفتیش ہونی چاہیے -ترجمان نے وزیراعظم نریندر مودی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ برابرشفاف سیاست کی دہائی دیتے ہیں اس لیے انہیں ہمت سے کام لیتے ہوئے ایڈی یورپا حکومت کو برخاست کردیناچاہئے-

باغی اراکین اسمبلی کیلئے راستہ ہموار: کانگریس اور جے ڈی ایس کے باغی اراکین اسمبلی کو ضمنی انتخابات لڑنے کیلئے سپریم کورٹ کی اجازت کے ساتھ ہی ان کے لئے بی جے پی میں شامل ہونے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے - کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ سی این اشوتھ نارائن نے آج نئی دہلی میں کہا کہ باغی اراکین اسمبلی نے بی جے پی میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے - 14 نومبر کو وہ بنگلور میں بی جے پی میں شامل ہوں گے - انہوں نے یہ بھی کہاکہ باغی اراکین اسمبلی 5دسمبر کو اسمبلی کی 15 سیٹوں کیلئے ہونے والا چناؤ بی جے پی کی ٹکٹ پر لڑسکتے ہیں - انہوں نے بتایا کہ باغی اراکین اسمبلی نے آج پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ملاقات بھی کی -جن کا پارٹی لیڈروں نے بی جے پی میں خیرمقدم کیا ہے - 

بی جے پی میں شمولیت: نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ کل صبح 10:30بجے بنگلور کی پارٹی آفس میں وزیراعلیٰ یڈ یورپا اور بی جے پی کے ریاستی صدر نلن کمار کٹیل کی موجودگی میں بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے -سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد چندنااہل اراکین اسمبلی نے اشوتھ نارائن کے ساتھ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش سے ملاقات کی-انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پارٹی کی حکمت عملی کا فیصلہ کرنے جمعرات کو بنگلور میں پارٹی لیڈر اور نااہل اراکین اسمبلی وزیراعلیٰ اور پارٹی کے ریاستی صدر سے ملاقات کریں گے -

تمام نااہل اراکین اسمبلی کو ٹکٹ دیا جائے گا: بی جے پی نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ تمام 15 حلقوں سے نااہل اراکین اسمبلی کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا- اگر تمام 15 اسمبلی حلقوں سے صرف نااہل اراکین اسمبلی کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا تو پارٹی کے درمیان بغاوت پھوٹ پڑنے کے آثار صاف نظر آرہے ہیں - اس لئے بی جے پی تمام حلقوں پر نااہل اراکین اسمبلی کو ٹکٹ دینے سے گریز کرسکتی ہے - اشوتھ نارائن سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا پارٹی نے انہیں ضمنی انتخابات کیلئے ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا ہے؟ اس پر انہوں نے واضح جواب نہیں دیا اور کہاکہ فی الحال وہ خوشی خوشی پارٹی میں شامل ہورہے ہیں - وہ تمام ہمارے دوست ہیں ایک اعتماد کے ساتھ پارٹی میں شامل ہورہے ہیں - جب انہیں کوئی اندیشہ نہیں تو آپ لوگ کیوں فکر مند ہیں؟

تمام نااہل اراکین کو بی جے پی ٹکٹ: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بی جے پی دفتر میں منعقدہ میٹنگ میں یہ طے کیا گیا کہ نااہل قرار پانے والے اراکین اسمبلی کو ہی پندرہ اسمبلی حلقوں میں بی جے پی امیدوار کے طورپر میدان میں اتارا جائے -

ایک نظر اس پر بھی

  مسلم متحدہ محاذ، جماعت اسلامی ہند اور کئی تنظیموں کے ایک نمائندہ وفدکا سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات اور شہریت ترمیمی بل   کی مخالفت اور دستور کے تحفظ میں تعاون کرنے کی اپیل

مسلم متحدہ محاذ، جما عت اسلامی ہند، سدبھاؤ نا منچ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کرناٹک، ایف ڈی سی اے، ایس آئی او، اے پی سی آر  اور مومنٹ فار جسٹس جیسے ہم خیال تنظیموں کی قیادت میں مسلم نمائندوں کا ایک وفد 7 / دسمبر 2019  ء  بروز سنیچر، سابق وزیر اعظم شری ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات کرتے ...

ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ...

کاروار:ہائی وے توسیع کے لئے سرکاری زمین تحویل میں لینے پرمعاوضہ کی ادا ئیگی۔ ملک میں قانون وضع کرنے کے لئے ضلع شمالی کینرا بنا ماڈل

نیشنل ہائی وے66 توسیعی منصوبے کے لئے سرکاری زمینات کو تحویل میں لینے کے بعد خیر سگالی کے طورمعاوضہ ادا کرنے کی پہل ضلع شمالی کینرا میں ہوئی جس کی بنیاد پر نیشنل ہائی وے ایکٹ 1956میں ترمیم کرتے ہوئے ملک بھر میں تحویل اراضی پرمعاوضہ ادائیگی کا نیا قانون2017میں وضع کیا گیا ہے۔