پی ایم سی بینک معاملہ پر ’وہائٹ پیپر‘ جاری کرے حکومت: کانگریس

Source: S.O. News Service | Published on 12th October 2019, 11:11 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍اکتوبر (ایس او نیوز؍یو این آئی)  کانگریس نے پنجاب اور مہاراشٹر کوآپریٹو بینک (پی ایم سی) کے سلسلے میں حکومت سے وہائٹ پیپر (قرطاس ابیض) جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بینک میں جمع پیسہ نکالنے کی حد طے کرنے سے ایک ہفتہ پہلے تک پچاس ہزار روپے سے زیادہ رقم نکالنے والوں کی فہرست جاری کی جانی چاہئے۔

کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے جمعہ کو یہاں پارٹی کی معمول کی پریس بریفنگ میں الزام لگایا کہ کئی لوگوں کو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ پی ایم سی بینک میں گھپلے کی وجہ سے اس میں جمع پیسہ نکالنے میں پابندی لگنے والی ہے۔ ان کی یہ بات درست ثابت ہوئی اور ریزرو بینک آف انڈیا نے 23 ستمبر کو بینک سے پیسہ نکالنے کی حد مقرر کردی۔

انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک پیسہ نکالنے کی شرط لگانے والا ہے اس کی اطلاع کچھ لوگوں کوپہلے سے تھی۔ اس لئے وقت رہتے انہوں نے پیسہ نکال لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بینک میں ہوئے گھپلہ کے ذمہ دار لوگوں کے ساتھ ہی ان لوگوں کی فہرست بھی جاری کرنی چاہئے جنہوں نے بینک سے پیسہ نکالنے کی شرط لگانے سے پہلے ایک ہفتہ کے اندر پچاس ہزار روپے سے زیادہ نکالے ہوں۔ بینک میں گھپلہ کے اسباب کو سامنے لانے کے لئے حکومت سے وہائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل میں کیا ہوا ہے اس کی اطلاع وہائٹ پیپر سے ہی مل سکتی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ صرف پی ایم سی بینک میں نہیں بلکہ کئی دیگر بینکوں کی صورت حال بھی ٹھیک نہیں ہے۔ پی ایم سی بینک نے ایک ہی شخص کو اپنے مجموعی قرص کا 73 فیصد دے دیا جو بینکنگ کے ضابطوں کے خلاف ہے۔ دیگر بینکوں میں بھی ایسی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے بینکوں کو 275 لاکھ کروڑ روپے کا قرض بٹہ کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی