راجیہ سبھا میں کانگریس نے گاندھی خاندان کی ایس پی جی سیکورٹی بحال کا مطالبہ کیا

Source: S.O. News Service | Published on 20th November 2019, 8:51 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،20/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) راجیہ سبھا میں بدھ کو کانگریس نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی، پارٹی کے سابق صدر اور رہنما راہل گاندھی اور پارٹی کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی ایس پی جی سیکورٹی واپس لئے جانے کا معاملہ اٹھایا۔حالانکہ حکمران بی جے پی نے کہا کہ یہ فیصلہ وزارت داخلہ کا ہے اور اس میں کوئی سیاست نہیں ہے۔پارٹی کے سینئر لیڈر آنند شرما نے وقفہ صفر میں یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ رہنماؤں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطرات کو دیکھتے ہوئے چاروں رہنماؤں کی ایس پی جی سیکورٹی بحال کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور احساس سے اٹھ کر کام کرنا چاہئے۔بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے کہا کہ ایسے فیصلے وزارت داخلہ کی ایک خصوصی کمیٹی خطرات کا خدشہ پر غور کرتے ہوئے کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو لٹے سے خطرہ تھا لیکن اب لٹے ختم ہو گیا ہے۔سوامی نے کہا کہ اس کے علاوہ جن کی حفاظت کی بات کی جا رہی ہے، انہوں نے خود ہی راجیو گاندھی کے قاتلوں کی سزا کم کئے جانے کی اپیل کی اور جیل میں جا کر ملاقات کی۔حالانکہ چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے سوامی کو ٹوکتے ہوئے راجیو گاندھی کے قاتلوں سے متعلق معاملے کو اس موضوع میں نہ اٹھانے کو کہا۔بی جے پی کے ایگزیکٹو چیئرمین جے پی نڈا نے کہا کہ اس فیصلے میں کوئی سیاست نہیں ہے اور ان کی سیکورٹی واپس نہیں لی گئی ہے۔نڈا نے کہا کہ وزارت داخلہ میں ایک طے شدہ عمل اور پروٹوکول ہے اور اسی کے تحت فیصلہ کیا جاتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

شیوسینا کا طنز:کانپور انکاؤنٹر نے’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘یوپی حکومت کو بے نقاب کردیا 

شیوسینا نے کہا کہ کانپور انکاؤنٹر نے ’انکاؤنٹر اسپیشلسٹ‘اترپردیش حکومت کو بے نقاب کردیا ہے اور اس واقعے نے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ریاست میں غنڈہ گردی ختم کرنے کے دعوے پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔