کانگریس نے چین کی دراندازی کو لے کر پھر مودی حکومت پر کیا حملہ

Source: S.O. News Service | Published on 12th October 2021, 11:20 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے کہا ہے کہ چین ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوچکا ہے اور کور کمانڈر سطح کی میٹنگ میں واپس لوٹنے سے انکار کر دیا ہے، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بحران کے حل کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے ملک کے باشندوں کو مطلع کرنا چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے منگل کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین لداخ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم، اروناچل میں ہندوستانی سرحد میں دراندازی کر رہا ہے۔ ملک کے فوجی دستے جس سرحد پر گشت کرتے تھے، وہاں اب ایسا نہیں ہو رہا ہے اور چین کے ساتھ کور کمانڈر سطح کی میٹنگ کے 13 ویں دور میں ہندوستان کے کمانڈروں نے چین کی نیت کو مسترد کر دیا، جس کے بعد مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

پون کھیڑا نے کہا کہ حکومت ہند نے چین کے ساتھ اب تک جتنے بھی معاہدے کیے ہیں وہ غیر مساوی ہیں۔ چین اور دنیا سمجھ چکی ہے کہ ہندوستان کے پاس ایک ایسا وزیر اعظم ہے جن کو ملکی سرحدوں کی حفاظت سے زیادہ اپنی مصنوعی شبیہ کو بچائے رکھنے کی فکر ہے۔ وزیراعظم اور ان کے وزراء کو، بالخصوص خارجہ پالیسی پر معقول بات کرنی چاہیے۔

کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ چین کور کمانڈر سطح کے مذاکرات کے 13 ویں دور میں سرحد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوا ہے اور اس نے ڈپسانگ گراؤنڈ اور ہاٹ اسپرنگ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی فوج نے اپنی بہادری سے جو کچھ بھی حاصل کیا تھا، مودی حکومت نے اسے گنوا دیا ہے۔ سال 2020 تک، سرحد پر جہاں ہم گشت کرتے تھے، اب وہاں ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ فوجی طاقت کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی قوت ارادی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ چین نے کہہ دیا ہے کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس سے پہلے، کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی نریندر مودی کو اس معاملے پر نشانہ بنایا تھا اور ان سے پوچھا تھا کہ "مسٹر 56" لال آنکھیں کیوں نہیں دکھاتے؟ " انہوں نے اس ٹوئٹ کے ساتھ ایک اخبار کا نسخہ بھی پوسٹ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چین مذاکرات کے 13 ویں دور کے بعد سرحدی علاقے سے واپس لوٹنے کو تیار نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس نے پیگاسس کیس پرعدالت کے فیصلے کاخیرمقدم کیا

کانگریس نے بدھ کو سپریم کورٹ کے مبینہ پیگاسس جاسوسی کیس کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ’ستیہ میو جیتے۔‘‘پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والانے ٹویٹ کیاہے کہ بزدل فاشسٹوں کی آخری پناہ گاہ مبینہ قوم پرستی ہے۔

بی جے پی رکن اسمبلی کرشنا کلیانی بھی ترنمول کانگریس میں شامل

 بنگال بی جے پی کو دھکچے لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب رائے گنج سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی کرشنا کلیانی جنہوں نے یکم اکتوبر کو بی جے پی چھوڑ دی تھی نے قیاس آرائیوں کے مطابق آج پارٹی کے سکریٹری جنرل پارتھو چٹرجی کی موجودگی میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوگئے۔

ہندوتوا وادی مظاہرین کے ہاتھوں تریپورہ کی 16 مساجد میں توڑ پھوڑ، 3 مساجد نذر آتش

شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں حالات دن بدن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہوئے تشدد کی مذمت میں کئی دنوں سے ریاست بھر میں مظاہرے اور ریلیاں جاری تھیں، لیکن یہ ریلیاں شدت اختیار کر گئیں اور ریاست کے مسلمانوں کے خلاف متشدد ہوگئیں۔

وزیراعلی ملازمتیں فراہم کریں یا مستعفی ہوجائیں: وائی ایس شرمیلا

 وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا نے کہا ہے کہ ہر گھر کو ایک ملازمت یا نہیں تو بے روزگاری کا الاونس فراہم کرنے ولے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کے وعدہ پر یقین کرتے ہوئے عوام نے ان کو اقتدار حوالے کیا، تاہم موجودہ صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ ریاست میں بے روزگاری میں ...

پیگاسس معاملہ پر مرکز کو سپریم کورٹ سے جھٹکا! تفتیشی کمیٹی کا قیام

پیگاسس معاملہ میں سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا کہ پیگاسس معاملہ کی جانچ ہوگی، عدالت نے جانچ کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملہ میں مرکز کا رخ واضح نہیں اور رازداری کی خلاف ورزی کی تحقیقات ہونی چاہئے۔