انتخابی نتائج کے بعد ریاستی حکومت ایک دن بھی نہیں چلے گی: یڈیورپا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th May 2019, 1:30 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،18/مئی(ایس او نیوز)  سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی ہے کہ لوک سبھاانتخابات کے نتائج کے بعد ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت ایک دن کے لئے بھی نہیں چلے گی۔ اخبار ی نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مخلوط حکومت میں انتشار اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اب اسے دور کرنا دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں کے بس میں نہیں ہے۔ اپنے سیاسی تجربے کی بنیاد پر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت ختم ہوجائے گی۔ضمنی انتخابات میں دونوں حلقوں سے بی جے پی کی کامیابی کا یقین ظاہر کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ انتخابی نتائج کے فوراً بعد خودسدرامیا مخلوط حکومت کو گرادیں گے۔ سدرامیا، کمار سوامی، ملیکارجن کھرگے، ریونا ان تمام لیڈروں میں اختلافات عروج پر ہیں، ہوسکتا ہے کہ وقتی طور پر ان لوگوں نے سیاسی فائدے کے لئے اتحاد کرلیا ہو، لیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کہ بنیادی سطح پر کارکنوں کو مجتمع نہیں کرپائے یہی وجہ تھی کہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اور جے ڈی ایس کے کارکنوں کو دونوں پارٹیوں میں اتحاد کے باوجود سڑکوں پر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے دیکھا جارہا ہے۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں لنگایت فرقے نے کانگریس کو مسترد کردیا ہے۔ یڈیورپانے یہ بات دہرائی کہ آنجہانی راجیو گاندھی نے آنجہانی ویندرا پاٹل کو ریاست کے اقتدار سے بے دخل کرکے کانگریس پارٹی کے خلاف لنگایت فرقے کے عتاب کو دعوت دی تھی، اب یہ طبقہ کبھی کانگریس کا ساتھ نہیں دے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔