کویمبتور میں دس سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ: موت کی سزا کا سامنا کرنے والے مجرم کی نظر ثانی کی اپیل سپریم کورٹ نے کی مسترد

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 7th November 2019, 8:32 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،07/نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی ا) 2010 میں تمل ناڈو کے کوئمبتور میں   ایک دس سالہ بچی کی عصمت دری پھر اس کے قتل  میں مجرم پائے گئے  منوہرن کی  موت کی سزا کی نظر ثانی اپیل کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا  اور ایسی گھناونی حرکت کرنے والوں کو  سخت پیغام دیا کہ   ایسوں کی سزا موت ہی ہونی چاہئے۔

مجرم منوہرن کو 2010 میں کویمبتور میں ایک نابالغ لڑکی کی اجتماعی عصمت دری اور اس کے بعد اس کواور اس کے بھائی کو قتل کرنے کے معاملے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔جسٹس آر ایف نریمن کی قیادت والی تین رکنی بنچ نے ایک کے مقابلے دو کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مجرم منوہرن کی موت کی سزا کو برقرار رکھنے والے فیصلے کا جائزہ لینے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔جسٹس نریمن اور جسٹس سوری کانت نے نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی جبکہ جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ صرف سزا کے معاملے پر ان کا خیال مختلف ہے۔بنچ نے کہاکہ اکثریت کے فیصلے کے پیش نظر نظرثانی پٹیشن پوری طرح سے خارج کی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ  29/اکتوبر 2010 کو منوہرن اور اس کے ایک ساتھی موہن کرشنا نے  اسکول جانے والی ایک دس سالہ  بچی اور اس کےسات سالہ  بھائی کوا یک مندر کے قریب   پکڑ لیا تھا  اوربچی   کا دونوں مجرموں نے مل کر  ریپ کرکے  دونوں بچوں کو زہر دے دیا تھا، مگر جب دونوں بچوں کی موت واقع نہیں ہوئی تو دونوں کے ہاتھ پیر باندھ کو  ان کو قریبی نہر  میں پھینک دیا تھا،   جس  میں ڈوب کر دونوں بچوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ  منوہرن کے ساتھی موہن کرشنا  کی پہلے ہی پولس انکاونٹر میں موت ہوچکی ہے۔

واقعے   کی گھمبیرتا کو دیکھتے ہوئے   سپریم کورٹ نے  نچلی عدالت  اور مدراس ہائی کورٹ کے مجرم کو سنائے گئے موت کے  فیصلے کو برقرار رکھا اور اُس کی نظر ثانی کی اپیل کو بھی مسترد کردیا۔

ایک نظر اس پر بھی

سبریمالہ مندر معاملہ 7 رکنی بنچ کے حوالے، جج نے کہا ’کیس کا اثر مندر ہی نہیں مسجد پر بھی پڑے گا‘

سپریم کورٹ نے آج ایک انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے سبریمالہ مندر میں سبھی عمر کی خواتین کے داخل ہونے سے متعلق نظر ثانی عرضی کو 7 رکنی بنچ کے حوالے کر دیا ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے فی الحال اس مندر میں خواتین کے داخلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔

پی ایم مودی، سونیا گاندھی، راہل گاندھی سمیت کئی اہم لیڈروں نے جواہر لال نہرو کو کیا یاد

آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا آج یوم پیدائش ہے۔ اس موقع پر کانگریس صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی، سابق نائب صدر حامد انصاری وگیرہ نے شانتی وَن جا کر انھیں عقیدت کا پھول پیش کیا۔

مہاراشٹرا معاملے پر امت شاہ نے توڑی چپی؛ کہا مودی اور میں نے ہمیشہ یہی کہا کہ فڑنویس ہی وزیر اعلیٰ بنیں گے

ایک طرف شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اور پارٹی کے دیگر لیڈران بار بار بی جے پی پر دھوکہ بازی کا الزام لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پہلے ڈھائی ڈھائی سال کے وزیر اعلیٰ بنانے پر بات ہوئی تھی جس سے اب بی جے پی پیچھے ہٹ رہی ہے، دوسری طرف بی جے پی لیڈران ایسے کسی معاہدے سے انکار کر رہے ...

کرناٹکا اسمبلی کے سابق باغی اراکین کی نااہلیت برقرار۔ لیکن انتخاب لڑ نے پر نہیں ہوگی پابندی۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ

سابقہ اسمبلی میں جن 17 کانگریس اور جے ڈی ایس اراکین نے بغاوت کی تھی، انہیں سپریم کورٹ سے تھوڑی سے راحت ملی ہے جس کا اثر ریاستی بی جے پی حکومت پر بھی پڑنے والا ہے۔