لاک ڈاؤن کی بجائے دفعہ 144 نافذ کی جائے : سی ایم ابراہیم| کورونا سے شہید ہونے والے مسلمانوں کی تدفین کیلئے علاحدہ جگہ دی جائے : ضمیر احمد خان 

Source: S.O. News Service | Published on 20th April 2021, 2:17 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 20؍اپریل  (ایس او نیوز) کورونا سے شہید ہونے والے مسلم طبقے کے افراد کی تدفین کے لئے علاحدہ جگہ دی جائے ۔رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے  ودھان سودھا میں ہوئی بنگلورو کے اراکین اسمبلی،اراکین پارلیمان کی میٹنگ میں یہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک رکن اسمبلی کے لئے 25 کووڈ بیڈ اسپتالوں میں ریزرو کئے جائیں، اس طرح حلقے کے عوام کو آسانی سے اسپتالوں میں بیڈ دلا سکتے ہیں۔

اس مشورے کی شیواجی نگر کے رکن اسمبلی رضوان ارشد نے بھی حمایت کی اور کہا کہ اراکین اسمبلی کے نام پر بیڈریزروکرنا اچھا مشورہ ہے۔اس سے غریب مریضوں کو سہولت ہوگی ۔

اس میٹنگ میں رکن  لیجس لیٹیو   کونسل سی ایم ابراہیم نے کہا کہ جس لیڈروں کی میٹنگ میں سماجی فاصلہ برقرارنہیں رکھا جار ہا ہے۔ جب ہم ہی اس ضابطے کی پابندی نہیں کریں گے،تو عوام کو کیا مشورہ دیں گے۔لاک ڈاؤن نافذ کئے جانے کی تجویز  سی  ایم ابراہیم نے شدید مخالفت کی ، انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن لگانے سے عوام مرجائیں گے،عوام کو گھروں میں بند کرنے سے مسائل پیدا ہوں گے، باہر آنے سے ان کی صحت ٹھیک رہتی ہے۔ لاک ڈاؤن کے بجائے دفعہ 144 نافذ کی جائے ۔کورونا سے شہید ہونے والے افراد سے وائرس نہیں پھیلتا، یہ بات ماہرین نے بھی کہی ہے۔کورونامہلوکین کی تدفین کے لئے علاحدہ جگہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔اب کورونا وائرس کے آثار ر ہنے والے تمام افراد کو اسپتال آنے کی ضرورت نہیں، اگر حالت بے حد بگڑ جائے تو ہی اسپتال آنا چاہئے ۔

سی ایم  ابراہیم نے مزید کہا کہ حکومت اپنی غلطیوں پر پردہ نہ ڈالیں، حکومت تمام  پارٹیوں کی اراکین کی صلاح لے۔اگر حکومت کو کوئی پریشانی ہوتو ظاہر کی جائے تو اس وقت سب مل کر حل نکال سکتے ہیں۔ چند ہی دنوں میں کووڈ معاملات ایک لاکھ تک پہنچ سکتے ہیں حکومت کو کور ونا روک تھام کے لئے موزوں کارروائی کرنی چاہئے۔ 24 گھنٹے ریاست بھر میں دفعہ 144 نافذ کی جائے ۔بنگلورو شہر میں اچانک لاک ڈاؤن نافذ کرنے سے تمام کو پریشانی ہوگی ، ہو ٹل  اور تمام کاروبار بند کرنا پڑے گا۔اس طرح  24 گھنٹے کام کرنے والوں کو پریشانی ہوگی ،شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں بھی ضابطوں کی  تعمیل  کی جائے ۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: شمالی کینرا میں کووڈ وباء کا بدلتا منظر نامہ : سب سے آخری پوزیشن والا ضلع پہنچ گیا سب سے آگے ؛ کون ہے ذمہ دار ؟

کورونا کی دوسری لہر جب ساری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی تو ضلع شمالی کینرا پوزیٹیو معاملات میں گزشتہ لہر کے دوران سب سے آخری پوزیشن پر تھا۔ لیکن پچھلے دو تین دنوں سے بڑھتے ہوئے پوزیٹیو اورایکٹیو معاملات کی وجہ سے اب یہ ضلع ریاست میں سب سے  اوپری درجہ میں پہنچ گیا ہے۔ بس ...

کورونا کرفیو کی وجہ سے لاری ڈرائیوروں کو سفرکے دوران کھانے پینے اور لاری کی مرمت کا مسئلہ درپیش:ڈرائیور، کلینر اور گیاریج والوں کی زندگی پنکچر

کورونا وائرس پر لگام لگانے کے لئے حکومتوں کی طرف سے  نافذ کئے گئے سخت کرفیو کی وجہ سے ہوٹل ، ڈھابے ،گیاریج ، پنکچر کی دکانیں وغیرہ بند ہیں ، جس کے نتیجے میں  ضروری اشیاء سپلائی کرنےوالی لاریوں کے ڈرائیوروں کو سفر کے دوران میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔

بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹکا میں 'ٹاوکٹے' طوفان کا اثر؛ طوفانی ہواوں کے ساتھ جاری ہے بارش؛ کئی مکانوں کی چھتیں اُڑ گئیں، بھٹکل میں ایک کی موت

'ٹاوکٹے' طوفان جس کے تعلق سے محکمہ موسمیات نے پیشگی  اطلاع دی تھی کہ    یہ طوفان  سنیچر کو کرناٹکا اور مہاراشٹرا کے ساحلوں سے ٹکرارہا ہے،   اس اعلان کے عین مطابق  آج سنیچر صبح سے  بھٹکل سمیت اُترکنڑا اور پڑوسی اضلاع اُڈپی اور دکشن کنڑا میں طوفانی ہواوں کےساتھ بارش جاری ہے جس ...

لوگ کورونا سے مرے جارہے ہیں اور ریاستی حکومت کو لگی ہے ذات پات کے اعداد و شمار کی فکر

پورے ملک کی طرح ریاست میں بھی کورونا کا قہر جاری ہے ۔ عوام آکسیجن، اسپتال میں بستر اور دوائیوں کی کمی سے تڑپ رہے ہیں۔ لیکن ریاستی حکومت کو الیکشن اور ذات پات کی تفصیلات کی فکر لاحق ہوگئی ہے تاکہ آئندہ انتخاب کے لئے تیاریاں مکمل کی جائیں۔

کورونا پر قابو پانے میں ایڈی یورپا مکمل طورپر ناکام: ایم بی پاٹل

ریاست میں کورونا وباء سے نمٹنے میں ایڈی یورپا کی بی جے پی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔سابق ریاستی وزیر و مقامی بی ایل ڈی ای میڈیکل کالج کے سربراہ ایم بی پاٹل نے آج یہاں ایک اخباری کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات بتائی۔

کرناٹک میں 120ٹن لکویڈ آکسیجن کی آمد

ریاست کرناٹک میں میڈیکل آکسیجن کی قلت ہنوز جاری ہے۔ حکومت آکسیجن منگوانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ ریاست کی راجدھانی بنگلورو میں پہلی آکسیجن ایکسپریس کی آمد ہوئی۔