سی ایل پی اجلاس میں بیشتر اراکین اسمبلی شریک،آٹھ غیر حاضر اراکین میں سے چار کے خلاف کارروائی کی جائے گی: سدرامیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th February 2019, 11:47 AM | ریاستی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بنگلورو،9؍جنوری(ایس او نیوز) ریاست کی کانگریس جے ڈی ایس مخلوط حکومت کو گرانے کے لئے کانگریس اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت کی تمام کوششیں آج اس وقت رائیگاں گئیں جب سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا کی طرف سے بجٹ سے پہلے طلب کی گئی کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں بیشتر اراکین اسمبلی نے شریک ہوکر پارٹی سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا۔

چار برگشتہ اراکین کے علاوہ دیگر چار اراکین اسمبلی سدرامیا کی اجازت کے ساتھ اجلاس سے غیر حاضر رہے ، اور اجازت لے کر غیر حاضر رہنے والے اراکین کی غیر حاضری کو خاطر میں نہیں لایا گیا البتہ چار برگشتہ اراکین اسمبلی رمیش جارکی ہولی ، بی ناگیندرا ، مہیش کمٹلی،اور امیش جادھو کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کی کارروائی سدرامیا نے شروع کروادی تو دوسری طرف امیش جادھو کو کرناٹکا ویر ہاؤزنگ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا چیرمین منتخب کیاگیا تھا انہیں بھی اس عہدے سے ہٹاکر ایک اور رکن اسمبلی پرتاب گوڈا پاٹل کو مقرر کردیا۔

آج صبح ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں منعقد کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں بیشتر اراکین اسمبلی کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے سدرامیا نے بتایاکہ شیواجی نگر کے رکن اسمبلی روشن بیگ نے میٹنگ سے غیر حاضر رہنے کے لئے ان سے پیشگی اجازت حاصل کرلی ہے۔ اسی لئے ان پر وہپ لاگو نہیں ہوگی، اسی طرح جن دیگر اراکین اسمبلی نے اجازت لی ہے ان پر بھی وہپ لاگو نہیں کی جائے گی۔البتہ پچھلی دو میٹنگوں میں غیر حاضر چار اراکین اسمبلی پر نااہل قرار دینے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں بیشتر اراکین اسمبلی کی شرکت کے ساتھ ہی ریاست کی مخلوط حکومت کو گرانے کے لئے بی جے پی کی طرف سے جاری آپریشن کمل پر چوتھی مرتبہ پانی پھر گیا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

اے پی سی آر نے داخل کی انسداددہشت گردی قانون میں ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل

مرکزی حکومت نے انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے میں جو حالیہ ترمیم کی ہے اور کسی بھی فرد کو محض شبہات کی بنیاد پر دہشت گرد قرار دینے کے لئے تحقیقاتی ایجنسیوں کو جو کھلی چھوٹ دی ہے اسے چیلنج کرتے ہوئے ایسوسی ایشن فار  پروٹیکشن آف سوِل رائٹس (اے پی سی آر) نے سپریم کورٹ میں اپیل ...

ریاستی حکومت نے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کیا

ریاست کی سابقہ کانگریس جے ڈی ایس حکومت کے دور میں کی گئی مبینہ ٹیلی فون ٹیپنگ کی سی بی آئی جانچ کے ا حکامات صادر کرنے کے دودن بعد ہی آج ریاستی حکومت نے کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کیس کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

منگلورو میں کولشیکر کے قریب ریلوے پٹری پر زمین کھسک گئی؛ مینگلور سے گوا اورممبئی جانے والی ٹرین سروس متاثر؛ کئی ٹرینیں رد

تعلقہ کے کُولشیکر کے قریب پہاڑی  زمین کھسکنے  سے ریلوے ٹریک پر بہت ہی زیادہ مٹی اور کیچڑ کا ڈھیر لگ گیا  جس  کے نتیجے میں منگلورو اور اس روٹ پر آگے کی طرف جانے اور منگلورو کی طرف سے گوا اور ممبئی کی طرف چلنے والی ٹرین سروس متاثر ہوگئی۔  واردات جمعہ کو پیش آئی ہے۔

بھٹکل کا ایک ماہی گیر سمندر میں ڈوب کر ہوگیا فوت

چھوٹی سی کشتی پر سمندر میں ماہی گیری کے لئے جانے والا ایک شخص توازن کھو جانے کے بعد سمندر میں گر کر فوت ہوگیا ہے۔ مہلوک ماہی گیر کا نام دُرگپّا ماستی موگیر (65سال) بتایا جاتا ہے جو کہ بھٹکل میں بیلنی علاقے کا رہنے والا تھا۔

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

بھٹکل: ہیومن ویلفئیر ٹرسٹ مرڈیشور کی جانب سے معاشی طور پر کمزور خواتین میں تقسیم کی گئیں سلائی مشین

تعلقہ کے مرڈیشور میں ہومن ویلفیر ٹرسٹ کی جانب سے  غریب خاندانوں کو  خود روزگار پیدا کرکے اپنا  گھر چلانے کے مقصدسے  سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں۔ اس تعلق سے   ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا جس میں  مرڈیشور اور بھٹکل کے  کئی ایک ذمہ داران موجود تھے۔