شہریت ترمیمی بل کے خلاف بنگلورو میں کرناٹکامسلم متحدہ محاذ کے زیر اہتمام ملّی و سماجی تنظیموں کا زبردست احتجاجی مظاہرہ

Source: S.O. News Service | Published on 11th December 2019, 1:43 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو11/دسمبر (ایس او نیوز)سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے والے مرکزی حکومت کے شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کے خلاف بنگلورو میں کرناٹکا متحدہ محاذ کے زیر اہتمام دوپہر 12بجے ٹاؤن ہال کے پاس ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ 

اس احتجاجی مظاہرے میں کومو سوہاردا ویدیکے، سوودانا اولویگاگی کرناٹکا چاپٹر، جمعیت علمائے ہند کرناٹکا، جماعت اسلامی ہند کرناٹکا، لجنتہ العلماء کرناٹکا، سُنّی جمعیت علماء کرناٹکا، سُنّی علماء بورڈ کرناٹکا، جمعیت اہلحدیث کرناٹکا،اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کرناٹکا،ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کرناٹکا،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، پاپولر فرنٹ آف انڈیا، سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا،فریٹرنٹی یوتھ موومنٹ کرناٹکا چاپٹر، جماعت مہدویہ کرناٹکا،صدائے اتحاد کرناٹکا، انجمن امامیہ کرناٹکا،مساجد کاونسل کرناٹکا، آل انڈیا پیوپلس فرنٹ،انجمن امامیہ کرناٹکا،، ایف ڈی سی اے، مومنٹ فار جسٹس، فیڈریشن آف مساجد کاونسل، جمعیت القریش بیف مرچنٹس ایسو سی ایشن کرناٹکا،انجمن خدام المسلمین، انجمن اصلاح معاشرہ کرناٹکا،، الایمان ایجوکیشن اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ بنگلورو، ملبار مسلم ایسو سی ایشن بنگلوروبیاریس ایسو سی ایشن، الماس ایجوکیشن ٹرسٹ بنگلورو وغیرہ کے ذمہ داران اور اراکین نے شرکت کی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ کمشنر کو ایک میمورنڈم دیاگیاجس میں شہریت ترمیمی بل 2019کے ذریعے شہریوں کے استحصال کی مذمت کی گئی۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ یہ بل لوک سبھا میں پاس ہوچکاہے اور جلدہی راجیہ سبھا میں پاس ہوکر قانون بننے جارہا ہے۔لیکن ملک اور سماج پراس بل کے بڑے دور رس اور سنگین اثرات مرتب ہونے والے ہیں جو ہمارے منتخب عوامی قائدین کے تصور سے بھی پرے ہیں۔ملک کی پارلیمانی جمہوریت کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بل ہے، سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے والا ہے۔اس کے برے اور منفی اثرات کے بارے میں زندگی کے تما شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اسکالرس، نمائندہ شخصیات اور جانکاروں کی طرف سے بحث و مباحثے اورسخت ترین مخالفت کے باوجوداس بل کو نہ روک سکنے والے راستے پر ڈال دیا گیا ہے،جس کی وجہ سے شہریوں کو حاصل تمام تر دستوری حقوق اور مراعات کے برخلاف سے اس کا قانون بن جانا یقینی ہوگیا ہے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت جہاں پاکستان کا قیام اسلامی مملکت کے طور پر عمل میں آیا وہیں پر ہندوستان میں ڈاکٹر امبیڈکر اور جواہر لال نہرو جیسے باشعور اور دور اندیش لیڈروں نے اس ملک کو ہندوازم کی مذہبی بنیاد پر تشکیل دینے سے یکسر انکار کردیا تھا۔لہٰذا ملک کی سیاست سے مذہب کو الگ رکھتے ہوئے تمام مذاہب کو یکساں درجہ دیا گیا۔مگر یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ موجودہ منتخب حکومت کے تحت ملک کے اس بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جارہا ہے۔ دستور رنگ و نسل اور مذہب اور طبقات کی بنیاد پر شہریوں میں امتیاز کرنے کو ممنوع قرار دیتا ہے، اس کے باوجود آج شہریت ترمیمی بل پیش کردیاگیا ہے جس کے ذریعے پاکستان، افغانستان اوربنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، جین، بدھسٹ، پارسی اور عیسائیوں کو اس ملک کی شہریت دی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں ان ممالک سے بڑی تعداد میں غیر قانونی طورپرہجرت کرنے والوں کا تانتا لگ جائے گا۔خاص کرکے ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستیں بہت زیادہ متاثر ہونگی اور اسی اندیشے کی وجہ سے بجا طور پر وہاں کی مقامی آبادی کھل کر اس بل کی مخالفت پر اتر آئی ہے۔

میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی بل میں دیگر مذاہب کے ساتھ مسلمانو ں کو نہ جوڑنا اور شہریت حاصل کرنے کے حق سے انہیں باہر رکھنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان پر جبر وستم کا بازار گرم کرنے کے مقصد سے ہی لایا گیا ہے۔تاکہ انہیں ملک سے باہر بھگایا جائے اور کسی بھی ملک کی شہریت نہ رکھنے والوں (اسٹیٹ لیس)کے زمرے میں انہیں ڈال دیا جائے۔

میمورنڈم میں مزید واضح کیاگیا ہے یہ سی اے بی تین اہم نکات کے تحت ایک امتیازی سلوک کرنے والا قانون ہے۔ (الف) اس میں صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے مہاجرین کو شامل کیاگیا ہے جبکہ میانمار، سری لنکا، نیپال جیسے پڑوسی ممالک کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ (ب) اس قانون کا اطلاق صرف ان مہاجرین پر ہوگا جو 31دسمبر 2014س پہلے اس ملک میں داخل ہوئے ہیں۔ (ج) اس میں مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی تمام ہندوستانی مذاہب کو شامل رکھا گیا ہے۔اور ملک کی حساس مذہبی و ثقافتی صورت حال کے پیش نظر یہ تیسرا پہلو ہی سب سے زیادہ سنگین ہے۔

اس بل میں بہت ہی دلکش پہلو یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش مسلم ممالک ہونے کی وجہ سے وہاں پرغیر مسلموں پر مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم ہوتا ہے، اس لئے وہاں سے ہجرت کرکے آنے والے غیرمسلموں کو پناہ دی جائے گی۔اسی پناہ دینے اور انسانی حقوق کی دہائی کے لبادے میں اس بل کے ذریعے یہاں پر مذہبی بنیادو پرظلم وستم شروع کیا جائے گا، جس کو شکست دینے کی بات اس بل کے مقاصد میں کہی جارہی ہے۔

آخر میں میمورنڈم میں یہ کہا گیا ہے کہ چونکہ اکثریت رکھنے والی پارٹی اپنے انتخابی منشور کا ایک اور وعدہ پورا کرنے جارہی ہے،اس سے پوری مسلم ملت جو کہ مذہبی اقلیت میں ہے، وہ انپے آپ کو خوف زدہ اور غیر محفوظ محسوس کررہی ہے۔جبکہ اسی خاص مذہبی اقلیت کے خلاف موجودہ حکومت ایک کھلا ہوا انتقامی جذبہ رکھتی ہے۔اور اپنی بدنیتی پر مبنی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے دن بدن تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

اس لئے درخواست کی گئی ہے کہ دستور نے سرکاری حاکم کے طور پر جو اختیارات دئے ہیں اس کا استعمال کرتے ہوئے مسلم قوم کی ہراسانی اور خوف زدگی کو اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے اور اس بل کو روکنے کی پوری کوشش کی جائے۔تاکہ مذہب، ذات اورطبقات کی تفریق کے بغیر عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کی جاسکے۔

ایک نظر اس پر بھی

مرکز اقتدار اور ودھان سودھا اور اراکین اسمبلی اپنا وقار کھونے لگے ہیں،اسمبلی کو جائے احتجاج کی بجائے مسائل پر سنجیدہ بحث کا مرکز بنانا ضروری: سدارامیا

سابق وزیراعلیٰ سدارامیا نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ریاستی اسمبلی اور مرکزی اقتدار ودھان سودھا سے ٹیکس کی شکل میں کروڑوں روپئے ادا کرنے والے عوام عام سہولتوں کی فراہمی اور اسمبلی میں ان کے مسائل کے حل کی امید کرتے ہیں -

بنگلورو: فاسٹ ٹیگ نہ رکھنے والی سواریوں سے دوگنا ٹول فیس وصول پرائیویٹ بس ڈرائیوراور ٹول اہلکاروں کے درمیان جھگڑا

ومی شاہراہوں کے ٹول پلازاسے گزرنے والی سواریوں کو فاسٹ ٹیگ لازمی کئے جانے پر صرف ابھی تین دن ہوئے ہیں،ٹول فیس ڈبل وصول کئے جانے کے معاملے میں ٹول اہلکاروں اورڈرائیورس کے درمیان ہردن جھگڑے ہورہے ہیں

بنگلورومیں چناسوامی اسٹیڈیم ڈے نائٹ کرکٹ میچ، ٹرافک نظام میں تبدیلی

بروز اتوار آج بنگلورمیں چناسوامی کرکٹ اسٹڈیم میں کھیلے جارہے ہند آسٹریلیا ڈے اینڈ نائٹ کرکٹ میچ کے پیش نظر کرکٹ اسٹڈیم کے اطراف پارکنگ نظام میں پولس نے چند تبدیلیاں کی ہیں اور میچ کے لئے آنے والوں کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے مختلف مقامات پر پارکنگ کی سہولت فراہم کی-

سی اے اے اور این آر سی کے خلاف چل رہی تحریک سے توجہ ہٹانے ایس ڈی پی آئی کو بدنام کیا جارہا ہے:عبدالحنان

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کرناٹک کے ریاستی جنرل سکریٹری عبدالحنان نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ سارے ملک میں CAA,NRCاور NPRکے خلاف جو کامیاب احتجاجی مظاہرے چل رہے ہیں اس سے فسطائی طاقتیں اور میڈیا خوفزدہ اور بوکھلائی ہوئی ہیں۔

ہبلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ کی سی اے اے حمایت ریلی : سی اے اے کے مخالفین دلت مخالف ہیں

شہریت ترمیمی قانون کے متعلق بیداری پیدا کرنے ہبلی پہنچے وزیر داخلہ امیت شاہ نے سی اے اے کے متعلق جانکاری دینے سے زیادہ  حزب  مخالف کانگریس، راہول گاندھی ، کیجریوال ، ممتابنرجی کی کڑی تنقید کرتےہوئے انہیں دلت مخالف قرار دیا۔ 

سی اے اے کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت: پی چدمبرم

  این پی آر کی موجودہ شکل کو ناقابل قبول بتاتے ہوئے سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس کو قبول نہیں کرے گی ۔انہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ ،این آر سی اور این پی آر کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہوکر اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔

دہلی: کانگریس کی 54 امیدواروں کی فہرست جاری

کانگریس نے دہلی کی 70 ارکان پر مشتمل اسمبلی کے انتخابات کےلئے 54 امیدواروں کی پہلی فہرست سنیچر کو جاری کی جس میں سینئر لیڈر کرشنا تیرتھ، راجیش لیلوتیا، ہارون یوسف، ڈاکٹر نریندر ناتھ اور اروند سنگھ لولی سمیت کئی اہم لیڈر شامل ہیں۔ کانگریس انتخابی کمیٹی کے سربراہ مکل واسنک نے ...

کیجریوال نے کروڑوں روپے لیکر ٹکٹ فروخت کیا: آدرش شاستری

سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کے پوتے اور دوارکا سے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن اسمبلی آدرش شاستری نے ہفتہ کے روز وزیر اعلی اروند کیجریوال پر 10 سے 20 کروڑ روپے لیکر دہلی اسمبلی انتخابات کے ٹکٹ فروخت کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

  اتر پردیش میں 10 آئی پی ایس افسران کے تبادلے

 اتر پردیش حکومت نے سنیچر کو انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) کے دس افسران کا تبادلہ کر دیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پی اے سی مرادآباد میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس سی دوبے کو اعظم گڑھ (رینج) کا ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس بنایا گیا ہے جبکہ اعظم گڑھ کے موجود ڈی آئی جی جے ...

نربھیا کیس: مجرم پون کا دفاع کرنے والے وکیل برے پھنسے، بار کونسل نے بھیجا نوٹس

نربھیا کیس میں قصواروں کے وکیل اے پی سنگھ کو دہلی کی بار کونسل نے نوٹس جاری کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، بار کونسل نے ان سے دو ہفتے کے اندر جواب بھی طلب کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں دہلی بار کونسل سے اے پی سنگھ کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا تھا۔ ساتھ ہی ان کے اوپر 25 ہزار ...

60 کروڑ آدھار نمبر پہلے ہی این پی آرسے جوڑے جا چکے ہیں

اس وقت اس بات کو لے کر تنازعہ چل رہا ہے کہ این پی آر کو آدھار کے ساتھ جوڑا جائے گا یا نہیں۔ کئی میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا گیا ہے کہ این پی آر کو آدھار نمبر کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ لیکن وزارت داخلہ کا یہ کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کو کوئی بھی دستاویز دینے کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔