شہریت ترمیمی قانون: ’شاہین باغ مظاہرہ‘ کے پیچھے کی کہانی، جس سے آپ نا آشنا ہیں!

Source: S.O. News Service | Published on 24th January 2020, 9:10 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری مظاہرے میں بہت سے لوگ ایسے لوگ ہیں جو اس مظاہرہ کو کامیاب کرنے میں اپنا تعاون پیش کر رہے ہیں، یہاں کچھ لوگ اسٹیج پر نظر آتے ہیں اور کچھ لوگ نہیں آتے لیکن جو نظر نہیں آتے ان کا کردار کسی سے کم نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک اسعد غازی ہیں جو گزشتہ 16 دسمبر سے سخت سردی اور بارش کے موسم میں بلاناغہ مظاہرین کے لئے چائے، سموسے، بسکٹ، پاپے لیکر پہنچ جاتے ہیں اور چار بجے سے چھ بجے تک مظاہرین کے جذبے کو گرم رکھتے ہیں۔

پیشے سے ’سول کنٹرکٹر‘ اسعد غازی چاہے بارش ہو رہی ہو، چاہے موسم کتنا بھی خراب کیوں نہ ہو، ہر موسم میں مظاہرین کو چائے پلانا نہیں بھولتے۔ جب یو این آئی اردو سروس نے ان سے پوچھا کہ آخر کس وجہ سے اور کس چیز نے آپ کو تحریک دی کہ آپ اپنا کام چھوڑ کر ہر روز مظاہرین کے لئے چائے بسکٹ لیکر آ جاتے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ سے اٹھنے والی تحریک نے پورے ملک کو بیدار کر دیا ہے۔ یہ تو ہماری چھوٹی کوشش ہے تاکہ مظاہرین سردی کے موسم میں ڈٹے رہیں اور بسکٹ، سموسے، کیک رس اور چائے تو ان کو تھوڑی سی تازگی دیتی ہے۔‘‘

اسعد غازی نے بتایا اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے یہ ان کی طرف سے ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ روزانہ کا کیا خرچ آجاتا ہے، تو انہوں نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن اصرار کرنے پر بتایا کہ روزانہ تقریباً دس ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسعد غازی بغیر کسی تشہیر کے روزانہ اتنا خرچ کرتے ہیں۔

اسعد غازی ’نوائے حق‘ رضاکار تنظیم چلاتے ہیں۔ اس کے 150 طلبہ کو انہوں نے گود لیا ہے جس کا سارا خرچ یہ تنظیم برداشت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سیکڑوں طلبہ ہیں جن کی فیس وہ خاموشی سے ادا کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تنظیم کے کام کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم مختلف موضوعات پر آر ٹی آئی کے تحت درخاست ڈالتی ہے۔

انہوں نے اس تنظیم کے خاص کارنامے بتاتے ہوئے کہا کہ ’’2012 میں برمی مہاجرین یہاں آئے تھے، انہیں بھگانے کی کوشش کی گئی تھی، تو تنظیم نے انہیں بسانے میں مدد کی تھی اور ہزاروں برمی مہاجرین کے پناہ گزین کارڈ بنوائے گئے تھے۔ تنظیم نے نہ صرف برمی مظاہرین کو کئی کیمپوں میں آباد کیا بلکہ ان لوگوں کے کھانے پینے کا بھی انتظام کیا تھا۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

دہلی: خفیہ بیورو کے افسر انکت شرما کا بہیمانہ قتل، لاش نالے سے برآمد

شمال مشرقی دہلی میں لوگ دہشت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس درمیان خفیہ بیورو (آئی بی) کے ساتھ کام کرنے والے ایک 26 سالہ نوجوان کی لاش شمال مشرقی دہلی واقع چاند باغ سے برآمد ہونے کے بعد لوگوں میں مزید خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کا ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ، اسمبلی میں ہنگامہ

  اترپردیش اسمبلی میں بدھ کو سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کے ساتھ ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو کارروائی کو ملتوی کرنی پڑی۔ جس کی وجہ سے وقفہ سوالات تقریباً 50 منٹوں تک متأثر رہا۔

دہلی کے موجودہ حالات پر ممتا بنرجی نے ’جہنم‘ کے عنوان سے لکھی نظم

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ’جہنم‘ کے عنوان سے ایک نظم اپنے فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تشدد کے واقعات میں اموات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہولی سے قبل خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے“۔

دہلی تشدد: مسجد پر لہرایا گیا بھگوا جھنڈا، پولیس نے 24 گھنٹے بعد بھی نہیں اتارا!

راجدھانی کے شمال مشرقی ضلع میں منگل کے روز شدید تشدد کے دوران اشوک نگر علاقے میں زبردست ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس دوران علاقے کی گلی نمبر 5 میں واقع ایک مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور اسے پوری طرح تباہ کر دیا۔ اتنا ہی نہیں کچھ شرپسند عناصر نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر وہاں بھگوا ...

سپریم کورٹ کے معاملہ کو ملتوی کرنے پر شاہین باغ کی مظاہرین کا رد عمل

 قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے روڈ کے معاملے میں سماعت کو 23 مارچ تک ملتوی کردینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے معاملہ کو ملتوی کر دیا ہے، اگرچہ تاخیر کرنا مناسب نہیں۔