مینگلور میں شہریت قانون کی مخالفت میں احتجاج؛ اسپتال کے باہربھی لاٹھی چارج، اسپتال کے اندر توڑپھوڑ کی وڈیو وائرل؛موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 20th December 2019, 1:38 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | ملکی خبریں | انٹریو |

مینگلور 19 ڈسمبر (ایس او نیوز)  شہریت قانون کی مخالفت میں جمعرات کو مینگلور میں منعقدہ احتجاج کے دوران پتھراو، لاٹھی چارج اور پولس فائرنگ کے بعد دو لوگوں کی موت واقع ہوگئی تھی جبکہ دو کی حالت پولس کی گولی لگنے سے نازک بتائی گئی تھی، بتایا جارہا تھا کہ واقعے کے بعد احتجاجیوں کا ایک بڑا ہجوم پولس پر حملہ آور ہوا تھا، مگر رات تک ملی اطلاع کے مطابق پولس نے حالات پر قابو پالیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے پہلے پانچ پولس تھانہ حدود میں کرفیو نافذ کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر رات تک پورے شہر میں کرفیو نافذ کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

خبر ملی ہے کہ پولس کی گولی لگنے سے پانچ لوگ شدید زخمی ہوگئے تھے، جن کو شہر کے ہائی لینڈ اسپتال لے جانے تک دو کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دیگر دو کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ دو لوگوں کی موت کی اطلاع پھیلتے ہی میت دیکھنے اور زخمیوں کی عیادت کرنے عوام کا ایک ہجوم ہائی لینڈ اسپتال جمع ہوگیا، مگر پولس نے یہاں پہنچ کر بھی ہجوم پر لاٹھیاں برسانی شروع کردی، اس تعلق سے ایک وڈیو کلپ بھی سوشیل میڈیا پر وائر ل ہوگئی ہے جس میں بتایا جارہا ہے کہ یہ کلپ ہائی لینڈ اسپتال کے اندر کی ہے، کلپ میں دیکھا جارہا ہے کہ پولس اسپتال کے اندر پہنچ کر دروازوں پربے رحمی کے ساتھ لات مارنے کے ساتھ ساتھ ڈنڈے برسا رہی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کی جانب سے پولس پر الزام لگایا گیا ہے کہ جب شدید زخمی  لوگوں کو  ہائی لینڈ اسپتال لایا گیا تو پولس اسپتال کے اندر گھس گئی اور توڑپھوڑ شروع کردیا۔ اسپتال کے ڈاکٹر حسن مبارک نے بتایا کہ پولس نے اسپتال کے اندر پہنچ کر عوام پر لاٹھیاں برسانی شروع کردی۔ ڈاکٹر مبارک کے مطابق پولس کا ایک گروپ شام قریب 6:40  کو اسپتال کے اندر داخل ہوا اوراسپتال لانے والے مریضوں کے ساتھ آنے والوں کی پیٹائی شروع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں کافی توڑ پھوڑ مچائی گئی ہے جس کی پوری ریکارڈنگ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس موقع پر آئی سی یو میں دیگر دوسرے مریض بھی ایڈمٹ تھے اور پولس کی توڑ پھوڑ سے مریضوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

پورے شہر میں کرفیو:  آج جمعرات دوپہر قریب ڈیڑھ بجے امتناعی احکامات 144 نافذ ہونے کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ جب ڈی سی دفتر کے باہر جمع ہوکر شہریت قانون کی مخالفت میں احتجاج کررہے تھے اور اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے تھے تو اس دوران مبینہ طور پر  بتایا جارہا ہے کہ احتجاجیوں میں سے کسی نے پولس  پر پتھراو کیا، جس کے بعد پولس نے پُرہجوم احتجاجیوں پر لاٹھیاں برسانی شروع کردیں۔ اس موقع پر احتجاجی جب  پولس کے ڈنڈوں سے بچنے کی کوشش میں بھاگنے لگے تو افراتفری مچ گئی، اس دوران احتجاجی تشدد پر اُتر آئے اور انہوں نے پولس پر پتھراو شروع کردیا۔  بتایا جارہا ہے کہ پولس نے پتھراو کے جواب میں پہلے ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی، مگر جب ہجوم پر کوئی اثر نہیں پڑا تو پولس نے ہجوم  پر فائرنگ شروع کردی۔ بتایا گیا ہے کہ پولس کی ایک گولی ایک احتجاجی کی انکھ میں جالگی، جبکہ دوسرے کے پیٹ پر گولی لگی، ان دونوں کو جب اسپتال لے جایا گیا تو دونوں نے سپتال میں دم توڑ دیا، بتایا گیا ہے کہ مزید تین لوگوں کو بھی گولیاں لگی ہیں جن میں دو کی حالت ہنوز نازک بنی ہوئی ہے ان میں دو کو ہائی لینڈ اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جبکہ تیسرے شخص کے تعلق سے معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کس اسپتال میں ایڈمٹ ہے۔

مرنے والوں کی شناخت مینگلور کے کندک کے رہائشی عبدالجلیل (48) اور کُدرولی کے  رہائشی   نوشین (28) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔زخمیوں میں مینگلور کے سابق مئیر مسٹر کے اشرف بھی شامل ہیں جن کے سر  کو بھی  گولی لگنے کی خبر ہے۔ اسی طرح جلیل، نظام، آصف اور نذیر کو بھی مختلف اسپتالوں میں شدید زخمی حالت میں داخل کیا گیا ہے۔

احتجاجی پولس پر حملہ آور ہوئے تھے:  اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے  مینگلور سٹی پولس کمشنر ڈاکٹر پی ایس ہرشا نے جمعرات کی شام کو بتایا کہ احتجاجیوں نے پولس پر حملہ کردیا تھا جس کی وجہ سے پولس نے پہلے لاٹھی چارج  کی پھر بعد میں فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجیوں نے پولس اسٹیشن پر بھی حملہ کردیا تھا اور وہ پولس کو جان سے مارنے کے درپے تھے، احتجاجیوں کے تیور کو دیکھتے ہوئے ہمیں اُن کے خلاف فائرنگ کرنی  پڑی۔ ڈاکٹر پی ایس ہرشا نے بتایا کہ  احتجاجیوں کے حملے میں کئی پولس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جبکہ دو ڈی وائی ایس پی کو  شدید زخمی حالت میں آئی سی یو  میں داخل کیا گیا ہے۔  ڈاکٹر ہرشا نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ پولس کے ساتھ تعاون کریں اور امن و امان بحال کرنے میں ہرممکن ساتھ دیں۔ ڈاکٹر ہرشا کے مطابق جملہ 15 پولس اہلکاروں کو چوٹیں آئی ہیں جس میں آٹھ کی حالت نازک ہے۔ڈاکٹر ہرشا نے بتایا  " جب احتجاج تشدد میں تبدیل ہوگیا تو ہمیں شہر میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو برقرار رکھنا تھا اور ہجوم کو منتشر کرنا تھا جس کے لئے ہمیں اپنی طاقت کا استعمال کرنا پڑا"

موبائل،انٹرنیٹ سروس سسپنڈ:  مینگلور میں احتجاج کے دوران ہوئی گڑبڑی اور پولس فائرنگ میں دو لوگوں کی موت ہونے کے بعد کرناٹکا ایڈیشنل چیف سکریٹری رجنیش گویل نے جمعرات شام کو انٹرنیٹ سمیت موبائل سروس اگلے 48 گھنٹوں کیلئے سسپنڈ کردیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائرکٹر جنرل اینڈ انسپکٹر جنرل آف پولس کی درخواست پر  مینگلور کے ساتھ ساتھ پورے ضلع جنوبی کینرا میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔

مینگلور میں 22 ڈسمبر تک کرفیو:  مینگلور میں حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے  پورے شہر میں  22 ڈسمبر رات بارہ بجے تک کرفیو نافذ کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف پانچ پولس تھانہ حدود میں کرفیو نافذ کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، مگررات کا اندھیرا پھیلنے تک  پورے شہر میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ کرفیو کے اعلان کے ساتھ ہی کل جمعہ کو  جمعہ کی نماز کو لے کر مسلمان فکرمند ہوگئے ہیں۔

مینگلور میں حالات پر مکمل طور پر قابو پالیا گیا ہے مگر حالات  نہایت کشیدہ بنے ہوئے ہیں،  حالات پر گہری نظر رکھنے  پولس کے اعلیٰ حکام شہر پہنچ چکے ہیں  اور پولس کی زائد فورس پورے  شہر میں تعینات کی گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں کورونا وائرس کےبڑھتے مشتبہ مریضوں کے پیش نظراندرونی محلوں اور گلیوں پر نظر رکھنے پولس نے کیا ڈرون کیمروں کا استعمال

بھٹکل میں کورونا وائرس کے مریضوں کی  تعداد میں ہورہے مسلسل  اضافہ کو دیکھتے ہوئے  شہر میں جاری لاک ڈاون میں مزید سختی برتی جارہی ہےاور اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ عوام اپنے گھروں میں ہی بند رہیں  یہاں تک کہ شہر کے اندرونی محلوں اور گلی کوچوں میں جہاں پولس پہنچنے سے قاصر ...

 کوروناوائرس وباء:بھٹکل میں تیا ر ہورہے ہیں طبی عملے کے لئے ’حفاظتی کٹس؛ لاک ڈاون کے دوران بھی جاری ہے کام

پورے ملک میں کورونا وائرس وباء پھیلنے کی وجہ سے لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، جس کے وجہ سے بہت سارے کارخانے اور کمپنیاں بندکردی گئی ہیں اور اس سے مزدوروں کو معاشی مشکلات کاشکار ہونا پڑرہا ہے۔لیکن بھٹکل میں ایک کارخانہ ایسا ہے جہاں لاک ڈاؤن کے دوران بھی مسلسل کام چل رہا ہے۔

بھٹکل میں پایا گیا کورونا پوزیٹیو کا ایک اور مریض؛چھوٹے بھائی کے بعدآج بڑے بھائی کی بھی رپورٹ آئی پوزیٹو؛ کئی لوگوں کو کیا گیا انجمن کورنٹائن سینٹر منتقل

چھوٹے بھائی کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو موصول ہونے کے بعد آج اسی کے بڑے  بھائی کی رپورٹ بھی پوزیٹیو موصول ہوئی جس کے ساتھ ہی بھٹکل یا اُترکنڑا میں کورونا سے متاثرہ لوگوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہوگئی ہے۔

کورونا معاملات کو لے کر بھٹکل لاک ڈاون کی صورتحال کا جائزہ لینے کاروار ایس پی کا بھٹکل دورہ؛ تعلقہ اسپتال پہنچ کر بھی لیا جائزہ؛ کل کریں گے مشتبہ مریضوں کو انجمن ہوسٹل میں منتقل

بھٹکل میں کورونا متاثرین کی سنگین صورتحال کے بعد لاک ڈاون کا جائزہ لینے اور حفاظتی انتطامات  کے تعلق سے جانکاری حاصل کرنے ضلع اُترکنڑا کے ایس پی شیوپرکاش دیوراج نے آج پیر کو بھٹکل کا دورہ کیا ، پولس کو ضروری ہدایات دینے اور اخباری نمائندوں سے بھی بات چیت کرنے اور یہاں کے ...

نظام الدین کے اجتماع میں شریک حضرات جانچ کروالیں: اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم کی اپیل

ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم نے اپنے ایک اخباری بیان میں تبلیغی مرکز نظام الدین کے اجتماع میں مارچ کے دوران شرکت کرنے الوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ضلع یا تعلقہ میں محکمہ صحت سے رابطہ کر کے اپنی جانچ کروالیں۔

کرناٹک سے درجنوں افراد نے مرکز نظام الدین کے اجتماع میں شرکت کی؛ کورونا سے ایک کی موت، باقی کی نشاندہی کر کے کورانٹائن، 13/ افراد میں وائرس نہ ہونے کی تصدیق

دہلی کے مرکز نظام الدین میں 10/ مارچ کو ہوئے اجتماع میں شریک افراد میں سے 24 کے کورونا وائرس کا شکار ہوجانے اور ان میں سے6/افراد کی موت کی خبروں کے بعد اس مرکز کے اجتماع میں شرکت کے بعد اپنے اپنے مقامات پر لوٹنے والے افراد کی نشاندہی کر کے انہیں کورانٹائن کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

بھٹکل: کوروناوائرس کی روک تھام اور لاک ڈاون میں مزید سختی برتنے اب اُڑائے جائیں گے ڈرون کیمرے؛ گلی کوچوں میں آوارہ گردی کرنے والے ہوشیار

صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھٹکل کو لے کر تشویش پائی جارہی ہے کیونکہ  اتنے چھوٹے سے علاقہ میں  کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی تعداد  بڑھتی جارہی ہے۔چونکہ یہاں کے اکثر لوگ بیرون ممالک میں رہتے ہیں، اس لئے یہ وائرس دوسرے ملکوں سے یہاں آرہی ہے۔  ہمیں دہلی سے فون بھی ...

پنجاب: چندی گڑھ میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھ کر ہوئے 56، چار افراد کی موت

 پنجاب اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ چندی گڑھ میں کورونا وائرس کا قہر روز افزوں بڑھتا جا رہا ہے جہاں اس وبا سے متاثرین کی تعداد 56 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 41 پنجاب اور 15 چندی گڑھ کے ہیں۔ وہیں اس وبا سے اب تک اس علاقے میں چار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

راہل گاندھی نے امیٹھی کے لئے بھیجی امداد، مزدور بحران پر کپل سبل کا حکومت پر حملہ

کورونا وائرس کے بڑھتے اثر کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ 21 دن کے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں سے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو کہا گیا ہے، لیکن اس دوران یومیہ مزدوروں کو متعدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سونیا گاندھی نے لکھا پی ایم مودی کو خط ’منریگا کے تحت 21 دن کی اجرت پیشگی ادا کریں‘

 کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ 21 دن کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہی علاقوں میں مزدوروں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہو گیا ہے، لہذا ان کارکنوں کو منریگا کے تحت ملنے والی 21 دن کی اجرت پیشگی ادا کی جائے۔

کرناٹک سے درجنوں افراد نے مرکز نظام الدین کے اجتماع میں شرکت کی؛ کورونا سے ایک کی موت، باقی کی نشاندہی کر کے کورانٹائن، 13/ افراد میں وائرس نہ ہونے کی تصدیق

دہلی کے مرکز نظام الدین میں 10/ مارچ کو ہوئے اجتماع میں شریک افراد میں سے 24 کے کورونا وائرس کا شکار ہوجانے اور ان میں سے6/افراد کی موت کی خبروں کے بعد اس مرکز کے اجتماع میں شرکت کے بعد اپنے اپنے مقامات پر لوٹنے والے افراد کی نشاندہی کر کے انہیں کورانٹائن کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے دیاجنتادل اورکانگریس کے مشترکہ امیدوار اسنوٹیکر کے الزامات کا جواب (کنڑاروزنامہ کراولی منجاؤمیں شائع شدہ انٹرویو کا ترجمہ )

ضلع شمالی کینرا کی پارلیمانی سیٹ پر موجودہ رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کا مقابلہ براہ راست جنتادل ایس اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار آنند اسنوٹیکر کے ساتھ ہے۔

دبئی کے معروف ڈاکٹر اسماعیل قاضیا سے ایک ملاقات جن کے تینوں بیٹے بھی ڈاکٹر ہیں

طبی میدان یعنی میڈیکل سے وابستگی کو بہت ہی معتبر اور مقدس سمجھا جاتاہے ، گرچہ جدید دورمیں مادیت کی وجہ سے اس میں کچھ کمی ضرور آئی ہے مگر آج بھی ایسے بے شمار طبیب ہیں جو عوام کی بھلائی کی خاطر ڈاکٹری پیشہ سے وابستہ رہتے ہوئے مخلصانہ خدمات انجام دے رہےہیں۔ مسلمانوں نے طب کے میدان ...

غلط فہمیوں کے ازالہ کے ذریعہ ہم آہنگی کا قیام ممکن: کامن سیول کوڈ کی تجویز مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ؛ جسٹس سچر کا انٹرویو

دس سال قبل ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی صورتحال سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے مسلمانوں کی صورتحال کو دلت اور پسماندہ طبقات سے بدتر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کی فلاح وبہبود کیلئے مفید مشورے پیش کرنے والے 92سالہ جسٹس راجیندرا سچرنے ڈنکے کی چوٹ پر ...