بھٹکل چوتنی ندی کنارے بسنے والوں کی زندگی پرمنڈلاتا سیلاب کا خطرہ۔ پانچ دہائیوں کے بعد بھی نہیں ملا چھٹکارا

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 14th August 2019, 4:07 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 14/اگست (ایس اونیوز) امسال برسنے والی تیز بارش نے  پورے ساحلی کنارے اور شمالی کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے جس طرح  تباہی مچائی ہے، ویسی طغیانی تو بھٹکل کی مشہور شرابی ندی میں دیکھنے کو نہیں ملی، مگر موڈ بھٹکل سے شروع ہونے والی اس ندی کے راستے میں چوتنی تک کنارے کنارے بسنے والوں کی زندگی پر ہر بار کی طرح امسال بھی سیلاب کاخطرہ منڈلارہا ہے۔

جب بھی برسات کا موسم  آتا ہے تو شرابی ندی کے کنارے اور خاص کر موڈ بھٹکل اور چوتنی کے کنارے پر رہنے والوں کی راتوں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں کہ کب نہ جانے آدھی رات کو ندی کا سیلاب ان کے گھر بار کو بہا لے جائے۔ماضی میں یہاں کے باشندوں کو کئی باربڑے ہی خوفناک حالات سے گزرنا پڑا ہے۔ موڈبھٹکل سے شروع ہونے کے بعد یہ ندی چوتنی،شاذلی مسجد،غوثیہ مسجد مشما مسجد، خلیفہ مسجد، ڈارنٹا، ڈونگر پلّی ا ور بیلنی کے علاقے سے گزرنے بعدکے پاس سمندر میں مل جاتی ہے۔ اس سے پہلے موڈبھٹکل کے پاس، چوتنی، ڈارنٹا اور بیلنی کے علاقے میں اس ندی کے سیلاب نے بہت تباہی مچائی تھی۔

خوف و دہشت کا موسم: اس علاقے میں قدیم زمانے سے رہائش اختیار کیے ہوئے قلی مزدوری اور کھیتی باڑی کرنے والے لوگوں کے لئے ہر سال برسات کا زمانہ خوف و دہشت کا عالم لے کر آتا ہے۔ بارش جب تیز ہوجاتی ہے تو رات کے وقت گھروں میں چین کی نیندسونا تو دورکی بات دن میں بھی پکانے، کھانے اور بے فکر ہوکر بیٹھنے سے دل گھبراتا ہے۔ کبھی برسات کا پانی کمزور اور خستہ چھتوں سے ٹپکتا ہے تو کبھی ندی میں سیلاب سے کناروں سے اوپر گھروں کی دہلیزاورکبھی کبھار اندر کمروں تک پہنچنے والا پانی خوف زدہ کردیتا ہے۔ پھرجب بارش میں کمی ہوتی ہے تو گھرکے اندرسے کیچڑ نکالنے اور کمروں کو صاف کرنے کا سلسلہ چل پڑتا ہے۔ پانی گھروں کے اندر ہی نہیں بلکہ لوگوں کے کنوؤں اورکھیتوں کے اندر بھی گھس جاتا ہے۔  

مقامی افراد محفوظ گھروں سے محروم: جب موسم کے تیور بگڑجاتے ہیں تو سیلاب کے خوف سے اپنے گھروں میں رہنے کے بجائے ذرا اونچائی پر موجود پاس پڑوس کے گھروں یا پھر اپنے رشتے داروں کے یہاں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ تیز برسات شروع ہونے پر تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے بھی یہاں بسنے والوں کو بطور احتیاط بلندی والے مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے کی ہدایت جاری کی جاتی ہے۔

1972میں جب اس ندی میں زبردست سیلاب آیا تھا تو چوتنی اور موڈبھٹکل کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت سرکاری افسران اور سیاسی لیڈروں نے انہیں محفوظ اور پکے گھر بناکر دینے کا وعدہ کیاتھا۔ لیکن پانچ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی اس علاقے لوگوں کے لئے محفوظ گھر ایک ایسا خواب بن کر رہ گیا ہے جس کی تعبیر آج تک نہیں ملی۔

بیرونی افراد نے بستیاں آباد کیں:حالانکہ بیرونی شہروں اور دیہاتوں سے بھٹکل میں آکر بسنے والوں نے شہر کے اطراف میں محکمہ ریوینیو، محکمہ جنگلات اور نہ جانے کن کن محکمہ جات کی زمین قبضہ کرکے مکانات اور بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرڈالیں۔ نہ جانے کتنی ایکڑ زمین بیرون شہر سے آکر بسنے والوں نے اپنی ملکیت بنالی ہے۔ مگرجیسا کہ چوتنی کے رہنے والے عبدالرزاق نامی ایک شخص کا کہنا ہے:”ہم اسی شہر میں پیدا ہونے کے باوجود چھوٹی موٹی ایک بہتر جگہ اوراچھے مکان کی تعمیر کا بس خواب ہی دیکھتے رہ گئے۔ہمیں چالیس پچاس سال قبل گھر تعمیر کرکے دینے کا وعدہ کرکے جانے والے افسران نے پھر کبھی پلٹ کر ہماری خبر نہیں لی ہے۔ جب بھی ندی میں سیلابی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو کھانے پینے کی فکر چھوڑکر بس چوکس اور جاگتے رہناہی ہماری قسمت بن گئی ہے۔“

یہ ایک مستقل خطرہ ہے:آج موسم کا رنگ جس طرح بدل رہا ہے۔ اور غیر متوقع طور پر زبردست بارش ہونے لگی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم یونہی بھیانک روپ اختیار کرتے رہیں گے اور قدرتی آفات کا سلسلہ مزید تیز ہوجائے گا۔ ایسے میں موڈبھٹکل اور چوتنی کے پاس شرابی ندی کے کنارے بسنے والے لوگوں کے لئے حالات اور بھی خراب ہوسکتے ہیں۔ اس لئے عوامی منتخب نمائندوں اور متعلقہ سرکاری محکمہ جات کے افسران کو سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اور یہاں کے غریب اور کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے ان باشندوں کو راحت پہنچانے کے اقدامات کرنے ہونگے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

بھٹکل میں بارش کی وجہ سے 50ایکڑ سے زائد زرعی زمین برباد : دھان کی فصل پانی میں بہہ گئی

تعلقہ میں  سیلاب کے کم ہونے کے بعد بارش سےہونے والے نقصانات ظاہر ہونےلگے ہیں۔ موسلا دھار بارش اور طوفانی ہواؤں سے گرنے والے گھروں کی مرمت و درستی ایک طرف تو  کیچڑ میں تبدیل ہوئی زرعی زمین اور فصل کی بربادی دوسری دکھ بھری کہانی سنارہی ہیں۔

این آر سی کے تعلق سے غلط بیانی اور عوام کو خوف زدہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے! ..... محمد برہان الدین قاسمی

 سوشل میڈیا پر کچھ لوگ این آر سی کے حوالے سے تبصرہ کررہے ہیں۔ اسی طرح کی ایک دس منٹ چوتیس سیکنڈ کا صوتی کلپ وہاٹس ایپ پر گردش کررہاہے جو السلام علیکم کے بعد "کیسے ہیں آپ لوگ..." سے شروع ہوتا ہے اور "مجھے لگا کہ اپنی بات شیئر کر دوں" پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں کہاگیاہے کہ این آر سی کے ...

بھٹکل میں ختم نہیں ہورہا ہے آدھار کارڈ کا مسئلہ۔ عوام کی دشواریوں کی کسی کو بھی فکر نہیں 

نیا آدھار کارڈ بنانے یا پہلے سے موجود کارڈ میں کوئی ترمیم یا اپڈیٹ کرنے کے لئے بھٹکل کے عوام کو جس قسم کی پریشانی لاحق ہے اس کو کئی مرتبہ میڈیا میں پیش کیاگیا۔ منتخب عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کے علم میں بات لائی گئی، مگر تاحال اس کا کوئی بھی حل نہیں نکلا ہے۔ اور عوام ...

ضلع شمالی کینرا میں کس کو ملے گی وزارت؟ اسپیکر نے رد کردی ہے ہیبار کی رکنیت۔کیا ایڈی یورپاکے دل میں نہیں ہے کاگیری کی اہمیت ؟

ایڈی یورپا کی قیادت میں بی جے پی نے ریاستی اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ جیت لیاہے اوراب اگلا مرحلہ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم کا ہے۔ جس کے بارے میں خود بی جے پی خیمے ہلچل اور جوڑ توڑکی کوششیں یقینی ہیں۔