چین اگلے سال روبوٹک گاڑی مریخ  کی سطح پر اتارے گا

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 17th November 2019, 6:08 PM | عالمی خبریں | سائنس و ٹیکنالوجی |

 بیجنگ 17نومبر (آئی این ایس انڈیا) چین اگلے سال مریخ پر اپنی راکٹ گاڑی اتارنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے جمعرات کو مریخ میں بھیجی جانے والی روبوٹک گاڑی کو ناہموار سطح پر اتارنے کا مشکل تجربہ کامیابی سے مکمل کر لیا۔یہ تجربہ شمالی صوبے ہبائی میں کیا گیا۔

چین کے ’نیشنل سپیس ایڈمنسٹریشن‘ کے سربراہ ژانگ کی جیان نے ٹیسٹ سے قبل غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا کو اس بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔جمعرات کے ٹیسٹ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ یہ گاڑی رکاوٹوں سے بچنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ناہموار زمین پر چل سکتی ہے۔بیجنگ کے شمال مشرق میں واقع ٹیسٹ کے مقام ہویلائی اس طرح کی چٹانیں اور زمین کی ناہموار سطح موجود ہے جو مریخ کے اس علاقے سے مشابہت رکھتی ہے جہاں روبوٹک گاڑی اتارنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔چین کے خلائی ادارے نے مریخ پر روبوٹک گاڑی پہنچانے کے لیے ایک طاقت ور راکٹ ’لانگ مارچ -5‘ تیار کیا ہے۔مریخ کے خلائی مشن کے سربراہ ڑانگ رونگ گیاؤ نے میڈیا کو بتایا کہ چاند پر راکٹ پہنچنے میں سات مہینے لگیں گے جب کہ مریخ کے مطلوبہ مقام پر روبوٹک گاڑی اتارنے کا عمل محض سات منٹ میں مکمل ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مریخ کی سطح پر گاڑی اتارنے کا مرحلہ سب سے مشکل ہوگا جو ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔چین اپنے مریخ مشن پر 2016 سے کام کر رہا ہے۔اس سال کے شروع میں چین نے چاند کے ایک دور افتادہ مقام پر اپنی روبوٹک گاڑی ’چانگے فور‘ کامیابی سے اتاری تھی، جو وہاں چٹانوں کے نمونے اکھٹے کرنے اور دوسرے تجربات میں مصروف ہے۔چین نے چاند پر اپنا پہلا خلائی مشن 2013 میں اتارا تھا۔چین اپنے خلائی تحقیق کے پروگرام کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے۔ وہ 2022 تک اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چین 2030 تک امریکہ اور روس کے مقابلے میں خلائی قوت کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے۔خلائی تحقیق میں چین کی پیش رفت 2003 میں اس وقت منظرعام پر آئی تھی جب اس نے اپنا خلاباز زمین کے مدار میں بھیج پر امریکہ اور روس کے بعد خود کو اس شعبے میں دنیا کے تیسرے اہم ملک کے طور پر منوا لیا تھا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں کوروناوائرس سے 29 اموات،1071 متاثر، کورونا پوری دنیا میں 34,512 جانیں تلف،723,962 متاثرین

پوری دنیا کے زیادہ تر (اب تک 185) ممالک میں کرونا وائرس (کووڈ-19) کی وبا تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اس کے متاثرین سے پوری دنیا میں اب تک34,512لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ تقریباً723,962لوگ اس سے متاثر ہیں -

اٹلی: کورونا پازیٹو مریضوں کا علاج کر رہے 51 ڈاکٹروں کی موت

کورونا وائرس نے اٹلی میں اپنا قہر سب سے زیادہ برپا کر رکھا ہے۔ مہلوکین کی تعداد اٹلی میں چین سے بہت زیادہ ہو چکی ہے اور متاثرین کی تعداد بھی یہاں اتنی زیادہ ہے کہ ڈاکٹروں کو علاج کرنے میں کافی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ریلوے اسٹیشنوں پر مفت وائی فائی سروس بند کرے گا گوگل

کمپنی گوگل دنیا بھر میں ریلوے اسٹیشنوں میں مفت وائی فائی سروس بند کرنے جا رہی ہے۔گوگل نے کہا ہے کہ وہ 2020 تک اپنے سرخیوں میں چھائے پروگرام ’اسٹیشن‘ کو بند کرنے جا رہا ہے۔اس میں ہندوستان بھی شامل ہے،اگرچہ ہندوستان کے تقریبا 5600 ریلوے سٹیشنوں پر ریلوے سواریوں کو مفت وائی فائی ...

سات موبائل ایپس میں ملا خطرناک وائرس، لسٹ میں الارم، کیلکولیٹراور فلش لائٹ جیسے ایپ بھی شامل

گوگل پلے اسٹور پر فرضی ایپس کی خبریں ہر دوسرے دن آرہی ہیں۔ اب اس پر موجود 7 اینڈرائڈ ایپس میں خطرناک وائرث پایا گیا ہے۔ وانڈیرا نام کی سکیورٹی کمپنی کے محققین نے پلے اسٹور پر سات ایسی ایپس کو ڈسکور کیا ہے جو یوزر کے فون کو کنٹرول کرتی تھیں۔ یہ ساتوں ایپ 3 الگ۔الگ ڈیولپر نے ضرور ...

رقم خرچ کرکے چاند کی سیرکرنا اب ہوگیا ممکن؛ جاپان کا ارب پتی چاند کے چکر لگانے والا پہلا بزنس مین ہوگا

اب پیسہ دے کر کوئی بھی شخص چاند کا چکر لگا سکتا ہے، جی ہاں!  بی بی سی کی ایک رپورٹ پر بھروسہ کریں تو   42 سالہ جاپانی   "یوساکا مائیزاوا " اب پہلا شخص ہوگا جو اپنی رقم خرچ کرکے  چاند کی سیر کرے گا۔

گوگل رازداری سے دیکھ رہا ہے آپ کا مستقبل؛ گوگل صرف آپ کا لوکیشن ہی نہیں آپ کے ڈیٹا سےآپ کے مستقبل کا بھی اندازہ لگاتا ہے

ان دنوں، یورپ کے  ایک ملک میں اجتماعی  عصمت دری کی وارداتیں بڑھ گئی تھیں. حکومت فکر مند تھی. حکومت نے ایسے لوگوں کی جانکاری  Google سے مانگی  جو لگاتار اجتماعی  عصمت دری سے متعلق مواد تلاش کررہے تھے. دراصل، حکومت اس طرح ایسے لوگوں کی پہچان  کرنے کی کوشش کر رہی تھی. ایسا اصل ...