خشک سالی سے نٹپنے میں لاپروائی ناقابل برداشت،اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو کمار سوامی کی تنبیہ

Source: S.O. News Service | Published on 16th May 2019, 2:01 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16/مئی(ایس او نیوز) ریاست میں لوک سبھا انتخابات کا عمل پورا ہوچکا ہے۔ اسی لئے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں راحت کاری میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے۔ یہ تنبیہ آج وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور ضلع پنچایتوں کے چیف ایگزی کیٹیو افسروں کو دی۔ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تمام اضلاع میں خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کمار سوامی نے کہاکہ ریاست کا بیشتر حصہ خشک سالی، پینے کے پانی کی قلت مویشیوں کے لئے چارے کی قلت سے بدحال ہے۔ ریاست میں انتخابات کے دونوں مرحلے پورے ہوچکے ہیں، بلاوجہ انتخابی ضابطہئ اخلاق کے بہانے کسی بھی مقام پر خشک سالی سے نپٹنے کے لئے راحت کاری کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے۔آئندہ اگر ان کے علم میں یہ بات آئی کہ کسی ضلع میں ڈپٹی کمشنر یا ضلعی انتظامیہ سے جڑے کسی افسر کی طرف سے راحت رسانی میں رکاوٹ کھڑی کی گئی ہے تو اس کے لئے ضلعی انتظامیہ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ لاپرواہ افسروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کندگول اور چنچولی اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے پیش نظر کلبرگی اور ہبلی دھارواڑ کے ڈپٹی کمشنروں کو اس میٹنگ سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ باقی تمام ڈپٹی کمشنروں سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے خشک سالی سے نپٹنے کے لئے راحت کاری کو آگے بڑھانے کے مقصد سے الیکشن کمیشن سے اجازت طلب کر لی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی واضح کیا ہے کہ متاثرین کی مدد میں اس کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کسی بھی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے اب انتخابی ضابطہئ اخلاق کا بہانہ بناکر راحت کاری روکنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے، اگر ہوئی تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کمارسوامی نے کہاکہ ضابطہئ اخلاق جب تک نافذ رہا راحت کاری کے کاموں کا جائزہ لینے کا موقع بھی انہیں مل نہیں پایا۔ اب جبکہ جائزے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے آنے والے دنوں میں تمام اضلاع کے پیش رفت پر ان کی گہری نظر رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں درکار کاموں کی تفصیل کے ساتھ جب الیکشن کمیشن سے رجوع کیا گیا تو لوگوں کی مشکلوں کا احساس کرتے ہوئے کمیشن نے حکومت کے لئے راحت کاری کی راہ آسان کردی۔ پچھلے کئی ماہ سے ریاست کے بیشتر اضلاع سنگین خشک سالی کی لپیٹ میں آچکے ہیں، مانسون کی مسلسل ناکامی سے فصلوں کو بھاری نقصان ہوا ہے تو دوسری طرف مویشیوں کے لئے چارہ بھی نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے مویشیوں کو چارہ مہیا کرانے کے لئے تمام انتظامات کئے گئے ہیں۔اضلاع میں اس کاذخیرہ بھی کیا گیاہے۔ اب سرکاری افسروں پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس کی تقسیم یقینی بنائیں۔ اس میں کوئی بھی کوتاہی قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔ تمام اضلاع میں پینے کے پانی کی قلت سے نپٹنے کے لئے ٹینکروں کا انتظام کیا گیا ہے۔ پانی کی فراہمی کے لئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کے پاس دستیاب فنڈز استعمال کرکے آب رسانی کے کاموں کو جنگی پیمانے پر انجام دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مویشیوں کی دیکھ بھال کے لئے چارے کی فراہمی کے ساتھ جہاں بھی ضرورت ہو وہاں گؤ شالہ قائم کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر کارروائی کریں۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں مویشیوں کے لئے جو چارہ ذخیرہ کیا گیا ہے کسی بھی حال میں اسے بیرون ریاست لے جانے نہ دیا جائے۔ اگر چارہ ریاست سے باہر لے جانے کی کوشش کی گئی تو لے جانے والوں پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے۔ دیہی روزگار ضمانت اسکیم کے تحت زراعت نہ ہونے کے سبب بے روزگار ہوجانے والوں کو روزگار مہیا کرانے کے لئے بھی انتظامات پر کمار سوامی نے زور دیااور کہاکہ روزگار ضمانت اسکیم کے تحت فنڈز فراہم کرنے میں مرکز کی تاخیر کے باوجود ریاستی حکومت کی طرف سے مناسب فنڈز مہیا کرائے گئے ہیں۔ 1200کروڑ روپیوں کی رقم اس اسکیم کے تحت جمع کرادی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اب بھی دو ہزار کروڑ روپیوں سے زیادہ کی رقم کرناٹک کو باقی ہے۔اس موقع پر کمار سوامی نے تمام ڈپٹی کمشنروں سے خشک سالی سے نپٹنے کے لئے اب تک کی گئی کارروائی کی تفصیل حاصل کی۔ میٹنگ میں وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے، وزیر دیہی ترقیات کرشنا بائرے گوڈا، چیف سکریٹری وجئے بھاسکر، مختلف سرکاری محکموں کے پرنسپل سکریٹری اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو میں موسلادھار بارش سے ٹرافک جام موٹر گاڑیوں پر 25سے زائد درخت گرنے سے شدید نقصان

ہفتہ کی رات تیز ہواؤں کے ساتھ ہوئی موسلادھار بارش سے 25سے زائد درخت کئی گاڑیوں پر گرنے سے کافی نقصان پہنچاہے- ہفتہ کی شام 5بجے شروع ہوئی بارش 6:30بجے شہر کے اہم علاقوں میں کافی تیز ہواؤں کے ساتھ جاری رہی-

بنگلورو سنٹرل حلقہ: بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو گاندھی نگر میں اکثریت

کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راؤ کے اپنے حلقہ گاندھی نگر میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہونے کی بجائے یہاں بی جے پی کو اکثریت ملی ہے- اس حلقہ میں بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو 24,723 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی ہے-

خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کانگریس کے حق میں اتنے مایوس کن ہوں گے:دنیش گنڈو راؤ

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی شکست کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں۔ میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ہم ریاست میں صرف ایک سیٹ پرکامیابی حاصل کریں گے۔