کیا انٹرنیٹ اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو ’آزادی اظہار رائے“کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے؟ انصاف کی فراہمی میں تاخیرکا اصل سبب کیا ہے ؟ کیا کہتے ہیں چیف جسٹس بوبڑے ؟

Source: S.O. News Service | Published on 13th January 2020, 12:54 PM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلورو،13/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) عدلیہ کے سامنے کئی چیلنجس ہیں جس میں انٹرنیٹ اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال جیسے نئے تصورات کو آئین کی ”آزادی اظہار رائے“کا حصہ سمجھے جانے والے معاملات بھی شال ہیں، ان خیالات کا اظہار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شرداروندبوبڑے نے کیا۔

بروزہفتہ کرناٹک اسٹیٹ جوڈیشل آفیسرزکی جانب سے جی کے وی کے کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ریاستی سطح کی 19/ ویں عدلیہ آفیسرز کی دوروزہ کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ کشمیر میں انٹرنیٹ پر عائد پابندی سے متعلق عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہم نے (سپریم کورٹ) یہ فیصلہ سنایا کہ انٹرنیٹ کا استعمال آزادی اظہار رائے کاحصہ ہے۔اس قسم کے بہت سارے مسائل عدلیہ کے سامنے چیلنجس بنے ہوئے ہیں،مثال کے طورپر لاؤڈاسپیکراستعمال کرتے ہوئے شادی ہالوں میں اونچی آواز میں میوزک سننا، مندروں اورمساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنا،انہوں نے کہا کہ  سپریم کورٹ کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال آیا آزادی اظہار رائے کاحصہ مانا جائے یا نہیں؟ چیف جسٹس بوبڑے نے عدلیہ کی خصوصیت بتاتے ہوئے کہا کہ مقننہ اورانتظامیہ کو جوخصوصیات حاصل نہیں وہ خصوصیت اوراختیار عدلیہ اور جج صاحبان کو حاصل ہے، مقننہ اگرقانون بناتا ہے تو انتظامیہ اس پرعمل درآمد کے رہنما خطوط ترتیب دیتا ہے،لیکن جج صاحبان موقع ومناسبت کے اعتبار سے قانون کے دائرہ کار میں فیصلہ سناکر انصاف فراہمی کاکام کرتے ہیں۔

دستورمیں الفاظ کی شکل میں موجود آئینی اصولوں کو حقیقی شکل میں ڈھالنے کی ذمہ داری جج صاحبان کی ہوتی ہے۔جج صاحبان کوچاہئے کہ وہ اپنی اس منفردخصوصیات اوراختیارکا احساس کریں۔ بوبڑے نے مزید کہا کہ یہ یاد رکھناچاہئے کہ مناسب معلومات،ہنرمندی اورتجربہ کی کمی وقلت بھی انصاف کی فراہمی میں تاخیرکا باعث بن سکتی ہے۔

ریاستی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اے ایس اوکھا نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاستی عدلیہ  نے انتہائی نیک نیتی سے اپنی خدمات انجام دی ہیں اورابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے،تاہم ہمیں یہ نہیں بھولناچاہئے کہ تنخواہ یا وظیفہ کی شکل میں جورقم ہم ججس کومل رہی ہے وہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے،اس لئے ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔اب آئندہ ماتحت عدالتیں، نچلی عدالتوں کے بجائے ٹرائل اورسیول کورٹ کے طورپر پہچان بنائیں گی۔

اجلاس میں موجود وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے کہا کہ عدلیہ کے انفراسٹرکچرکی ترقی کوترجیحی طورپرفوقیت دی جائے گی،عدلیہ کے افسروں کے مختلف مطالبات کی تکمیل کے سلسلہ میں غورکیاجارہا ہے،انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے ریاستی لیگل سرویس اتھارٹی کی مالی امداد ناقابل فراموش ہے۔

پروگرام میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان موہن شانتاگوڈا، جسٹس عبدالنذیر، اے ایس بوپنا، کرناٹک جوڈیشل افسروں کی تنظیم کے صدرملیکارجن گوڈا،جنرل سکریٹری اے سوم شیکھرو دیگر معززین شریک رہے۔

ایک نظر اس پر بھی

کمٹہ میں ریوینیو منسٹر آر اشوک کے ہاتھوں رکھاگیا مِنی ودھان سودھا کا سنگ بنیاد۔ طلبہ کودیا حکومت کی طرف سے لیپ ٹاپ کا تحفہ

محکمہ ریوینیو کے وزیر آر اشوک کے ہاتھوں کمٹہ میں مِنی ودھان سودھا کا سنگ بنیا درکھا گیا۔اس کے علاوہ قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی باز آبادکاری کے ایک مرکز کا بھی افتتاح کیا۔ اس تعلق سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا سیلاب زدگان کے لئے مکانات کی تعمیر کے مقصدسے فی ...

وقف بورڈ چیر مین کے انتخاب سے عین قبل ریاستی بی جے پی حکومت کی شرارت، راتوں رات ضلع وقف کمیٹیاں برخاست اور نئی کمیٹیوں کی تشکیل

ریاست کی بی جے پی حکومت کی طرف سے وقف بورڈ کو کھوکھلا کرنے اور اس کے امور میں بے جا مداخلت کرتے ہوئے راتوں رات 25ضلعی وقف کمیٹیوں کو برطرف کرنے اور ان کی جگہ نئی کمیٹیاں تشکیل دیتے ہوئے حکم نامہ جاری کرنے کا تنازع سامنے آیا ہے۔

منگلوروایئرپورٹ بم معاملہ: کمارا سوامی اور بی جے پی کے درمیان جاری ہے زبانی بمباری  

ایک طرف منگلورو ایئر پورٹ پر دھماکہ خیز مادہ (آئی ای ڈی) رکھنے والا ملزم آدتیہ راؤنے بنگلورو میں پولیس کے سامنے خودسپردگی کی ہے اور اپنا جرم قبول کرلیا ہے۔ جس کے بعد اسے گرفتار کرکے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔دوسری طرف اس معاملے پر سابق وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ کمارا سوامی اور بی جے پی ...

شہریت قانون کے خلاف احتجاج کاردعمل، بنگلورو میں بچوں سمیت48افراد پر ایف آئی آر درج

بنگلورو شہر میں پیر کے روز گنگونڈنا ہلی میں شہر یت قانون کے خلاف احتجاج کو پولس کی طرف سے اجازت دینے اور بعد میں اسے منسوخ کردینے کے بعد بھی جلسہ کے اہتمام پر طیش میں آکر چندرا لے آؤٹ پولس نے 48افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے جن میں چند بچے بھی ہیں۔

کیرالہ میں آر ایس ایس کارکن گرفتار، پوچھ تاچھ میں ہوئے حیرت انگیز انکشافات

کیرالہ کے کنور میں آر ایس ایس دفتر کے پاس واقع پولس پوسٹ پر بم پھینکے جانے کے الزام میں پولس نے آر ایس ایس کارکن کو گرفتار کیا ہے۔ تمل ناڈو کے کوئمبٹور سے آر ایس ایس کا یہ ورکر بدھ کے روز گرفتار ہوا جس کے بعد اس سے سختی کے ساتھ پوچھ تاچھ کی گئی۔

اندرا جے سنگھ کے بیان پر کنگنا کا نازیبا تبصرہ؛ ایسی خواتین کی کوکھ سے عصمت دری کرنے والے پیدا ہوتے ہیں

نربھیا عصمت دری معاملہ مستقل خبروں میں بنا ہوا ہے اور اب مجرموں کو پھانسی دینے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ نربھیا کے والدین ذرائع ابلاغ کے لئے سیلیبریٹی سے کم نہیں ہیں اور اسی وجہ سے حال ہی میں دہلی اسمبلی انتخابات میں یہ بات بہت تیزی کے ساتھ پھیلی کہ نربھیا کی والدہ اسمبلی چناؤ ...

راجستھان: کوٹہ میں بھی خواتین نے بنایا ’شاہین باغ‘، احتجاج کا سلسلہ 9 دنوں سے جاری

دہلی کے شاہین باغ سے تحریک لیکر ملک کے مختلف طول و عرض میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خواتین کے مظاہروں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ ت تکنیکی تعلیمی اداروں کے لیے مشہور راجستھان کے شہر کوٹہ میں بھی خواتین نے ایک ’شاہین باغ‘ قائم کر لیا ہے اور گذشتہ 9 روز سے ...

میری بیٹیوں پر مقدمہ درج ہوا تو امت شاہ پر کیوں نہیں؟ منور رانا

شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہرے میں شامل ہونے کی پاداش میں اپنی بیٹیوں کے خلاف مقدمہ درج لکھے جانے کے بعد اردو کے نامور شاعر منور رانا نے امت شاہ کی لکھنؤ ریلی پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جلسہ عام سے خطاب کر کے انتظامیہ کی طرف سے ...

ملک گیر احتجاج: ’شاہین باغ کی دبنگ دادیوں کو گمراہ کر کے ایل جی کے پاس لے جایا گیا‘

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ مظاہرین انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دبنگ دادیوں کو گمراہ کر کے لیفٹننٹ گورنر سے ملاقات کرائی گئی تھی اور جو لوگ انہیں وہاں لے کر گئے تھے وہ شاہین باغ خواتین مظاہرین کی ...