قومی تعلیمی پالیسی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو خود مختار بنایا: پروفیسر شری دھر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th June 2019, 12:30 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو24؍جون (ایس او نیوز؍نیوز) ڈرافٹ کمیٹی برائے نیشنل ایجوکیشن پالیسی کے سابق رکن پروفیسر ایم کے شری دھر نے کہا کہ پہلی مرتبہ ڈرافٹ نیشنل ایجوکیشن پالیسی نے تین سال کی عمر سے بچوں کی تعلیم کو فروغ دینے کی راہ ہموار کی-بنگلور یونیورسٹی کی جانب سے سنٹر فار ایجوکیشنل اینڈ سوشیل اسٹیڈیز کے تعاون سے بنگلور یونیورسٹی سے ملحق اساتذہ اور کالجوں کے پرنسپلوں کے لئے ڈرافٹ نیشنل ایجوکیشن پالیسی پر منعقد سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسرشری دھر نے اس خیال کا اظہارکیا- انہوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی نے سبجکٹ کی بنیاد پر اساتذہ کو آزادی فراہم کی ہے- انہوں نے کہا کہ ڈرافٹ ایجوکیشن پالیسی ایک بصارتی دستاویز ہے جس کا مقصد تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کود مختار بنانا اور 2030 تک ڈگری ایوارڈ کرنے کے لائق بنانا ہے- انہوں نے بتایا کہ پالیسی نے تعلیمی نظام میں سدھار لانے میں اور تعلیمی اداروں کو تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی خود مختار بنانے میں اہم رول اداکیا ہے- انہوں نے مشورہ دیا کہ وظیفہ یاب پروفرس کواعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہائر ایجوکیشن کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا جائے- رامیا پبلک پالیسی سنٹر کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹرچیتن سنگیا نے ڈرافٹ نیشنل ایجوکیشن پالیسی کی تیاری پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ ڈافٹنگ کمیٹی کی نمائندگی ہندوستان بھر سے کی گئی ہے اور 28 مختلف پالیسی دستاویزات کا جائزہ لے کر پالیسی تیارکی گئی ہے- صدارتی تقریر کرتے ہوئے بنگلور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر وینوگوپال کے آر نے قومی تعلیمی پالیسی کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اپنانے پر زور دیا- انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی کمی ہے اس لئے ان اداروں کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ اسکل ڈیولپمنٹ پرتوجہ دیں - سنٹر فار ایجوکیشنل اینڈ سوشیل اسٹیڈیز کے ڈائڑکٹر پروفیسر مانسا ناگ بھوشن نے کہا کہ یہ ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی تعلیمی پالیسی ہے جس کامقصد اقدار پر مبنی تعلیم کو فروغ دینا ہے- بنگلور یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر بی کے روی نے کہا کہ ڈرافٹ نیشنل ایجوکیشن پالیسی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو خود مختار بنایا ہے اور سماج کے خصوصی طبقات کو شامل کرتے ہوئے تعلیمی معیار کو اعلیٰ بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے- اس موقع پر پروفیسر شرت اننت مورتی نے بھی خطاب کیا- سمپوزیم میں بنگلور یونیورسٹی کے رجسٹرار (ایویالیوئیشن) پروفیسر سی شیوراجو بھی حاضر رہے- پروگرام کی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر واھنی نے استقبال کیا اور شکریہ ڈاکٹر راجیشوری نے ادا کیا-

ایک نظر اس پر بھی

جماعت اسلامی ہند بیدر کی جانب سے پروگرام ''مکی حالات اور موجودہ حالات۔ تقابل اور لائحہ عمل'' کا انعقاد

تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی دور میں دو اہم چیزیں نمایاں طور پر پر دیکھنے کو ملتی ہیں، پہلی چیز دعوت اور دوسری چیز صبرواستقلال ہے، جو ایک دوسرے سے مربوط ہے۔ مکی دور میں جس وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا اس سے قبل ...

بھدراوتی کے موضع کلیہال کے سرکاری پرائمری اسکول میں 71ویں جشن یومِ جمہوریہ ہند کا انعقاد

کرناٹک کے ضلع شیموگہ کے تعلقہ بھدراوتی کے موضع کلیہال کے سرکاری پرائمری اسکول میں 71ویں جشن یومِ جمہوریہ ہند کا انعقاد عمل میں آیا۔اسکول ہذا کے ایس ڈی ایم سی کے صدر جناب محمد فاروق  جامع مسجد کلیہال  کے معروف عالمِ دین مولانا صاحب‘ایس ڈی ایم سی کے نائب صدر اراکین  کے علاوہ ...

بیدر میں 71ویں جشن یومِ جمہوریہ کے موقع پر پولس گراونڈ میں ضلع انچارج منسٹر پربھو چوہان  کے ہاتھوں پرچم کشائی ؛ آٹونگر سمیت کئی علاقوں میں بھی منعقد کی گئی تقریب

آج پولیس پریڈگراؤنڈ پر بیدر ضلع کا مرکزی جشن یومِ جمہوریہ ہند پروگرام کا انعقادعمل میں آیا۔بیدر ضلع انچارج منسٹر مسٹر پربھو چوہان  نے پرچم کشائی کی رسم انجام دینے کے بعد پولیس جوانوں سے سلامی لی۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی  آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ...