محمد محسن کی معطلی کا معاملہ طول پکڑ گیا، الیکشن کمیشن کے سکریٹری کے خلاف بنگلور میں مجرمانہ شکایت درج

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 21st April 2019, 3:18 AM | ریاستی خبریں |

بنگلور :20 /اپریل ( ایس او نیوز) وزیراعظم مودی کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی کو لے کر اپنی فرض شناسی کا ثبوت پیش کرنے والے کرناٹک کیڈر کے آئی اے ایس افسر محمد محسن کی غیر ضروری معطلی نے خود الیکشن کمیشن کوگھیرے میں لے لیاہے ۔ محمد محسن پر ہوئی زیادتی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بنگلور جنادھیکار سنگھرش پریشد نے الیکشن کمیشن کے سکریٹری کے خلاف مجرمانہ شکایت درج کردی ہے ۔

محمد محسن کی معطلی کا جواز پیش کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے جون 2014ء کے جس حکمنامے کا حوالہ دیاتھا اس میں ایسی کوئی صراحت نہیں ہے کہ وزیراعظم سمیت ایس پی جی سیکورٹی حاصل کرنے والی کسی بھی اہم شخصیت کو الیکشن کمیشن کے افسر کی تلاشی سے استثنیٰ حاصل ہے ۔ بنگلور کی جنادھیکاپریشد نے محمد محسن کی معطلی کے خلاف یہ شکایت ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اور شہر کے پولیس کمشنر کو سونپی ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کے سکریٹری کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے ۔ پریشد نے کہاہے کہ کمیشن نے ایک دیانتدار افسر کے خلاف ایک ایسے سرکیولر کاحوالہ دیاہے جس کا وجود ہی نہیں ہے ، اگر وجود ہے تو اس میں ایسی ہدایت نہیں ہے کہ وزیراعظم کی کوئی بھی گاڑی ضرورت پڑنے پر تلاشی سے مستثنیٰ ہے ۔ پریشد کے عہدیداروں آدرش ایئر ، پرکاش بابو اور وی بی وشواناتھ نے ریاستی پولیس کے اعلیٰ حکام کو یہ شکایت پیش کی ہے۔ محمد محسن کے خلاف اس کارروائی کی مذمت کرنے والوں میں اے آئی سی سی کے خازن احمد پٹیل ، سابق وزیراعلیٰ سدرامیا ،دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال سمیت دیگر قومی سیاسی جماعتوں کے کئی رہنماشامل ہیں ۔ یہاں شکایت درج کرانے والوں نے سی آر پی کی دفعات ، 154اور تعزیرات ہند کی دفعہ 167کے تحت الیکشن کمیشن کے سکریٹری پر شکایت درج کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی اس جانبدارانہ کارروائی کے سبب دیگر سرکاری افسروں کو اپنا کام بے خوف ہوکر انجام دینے میں رکاوٹ حائل ہوگی۔ دیگر سرکاری افسر بھی اس رویے کے سبب خوفزدہ ہوجائیں گے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-