حکومت میں شامل تمام پارٹیوں کا متفقہ فیصلہ، سی اے اے مہاراشٹرا میں نافذ نہیں ہوگا

Source: S.O. News Service | Published on 14th January 2020, 11:34 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14/جنوری(ایس او نیوز/ایجنسی) شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) 10 جنوری سے پورے ملک میں نافذ ہوچکا ہے جبکہ اس قانون کولے کر اب بھی پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں - ملک میں کئی غیر بی جے پی ریاستیں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ وہ اپنی ریاست میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو نافذ نہیں ہونے دیں گی- اب مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ریاست میں سی اے اے کو نافذ نہیں ہونے دے گی- مہاراشٹر حکومت میں وزیر اور ریاست میں کانگریس کے صدر بالا صاحب تھوراٹ نے کہاکہ سی اے اے پر ہمارا کردار واضح ہے، ہم سی اے اے کو مہاراشٹر میں نافذ نہیں کریں گے- انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ بیان جاری ہوگا- بالا صاحب تھوراٹ نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ آنے تک ہم انتظار کریں گے-وہیں مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے کہا کہ مرکزی حکومت قانون ضرور بنا سکتی ہے، لیکن اسے نافذ کرنے کی ذمہ داری پوری طرح ریاستی حکومت کے پاس ہوتی ہے- ناگپور میں ’وی دی سٹیزنس آف انڈیا‘ کے ذریعہ منعقدہ احتجاجی ریلی میں دیشمکھ نے کہا کہ مہاراشٹر میں ہماری حکومت ہے- مرکزی حکومت قانون ضرور بنا سکتی ہے، لیکن اسے نافذ کرنا یا نہ کرنا ریاستی حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے-کانگریس کے لیڈر اور مہاراشٹر کے وزیر توانائی نتن راؤت نے بھی ریلی میں شرکت کی- انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر سی اے اے کو نافذ نہیں کرے گا- راؤت نے کہاکہ حالانکہ وہ (مرکز) بھلے ہی کوشش کرلے، مہاراشٹر حکومت اس قانون (سی اے اے) کو ریاست میں نافذ نہیں ہونے دے گی- مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت میں شیو سینا، این سی پی اور کانگریس (تینوں جماعتیں) شامل ہیں - وزیرداخلہ دیشمکھ نے کہا کہ این سی پی سربراہ شرد پوار اور کانگریس صدر سونیا گاندھی جیسے لیڈروں نے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر جیسے تقسیم کرنے والے اقدامات کی پارلیمنٹ میں مخالفت کی تھی- انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لئے ایسے قانون لا رہی ہے-واضح رہے کہ اس سے قبل مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول حکومت،مدھیہ پردیش،راجستھان کی کانگریس سرکار،جھارکھنڈاو رکیرلا حکومتوں نے مودی کے سی اے اے کو اپنے یہاں نافذکرنے سے انکار کردیاتھا- نئی دہلی میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن میٹنگ سے شیو سینا نے دوری بنائی- شیو سینا نے کہا کہ انہیں کانگریس نے میٹنگ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا- وہیں این سی پی کے لیڈران اس میٹنگ میں شریک ہوئے-

ایک نظر اس پر بھی

جموں کے ایک وکیل اور کشمیر کی ایک خاتون کورونا سے ہلاک، لوگ دہشت زدہ

 جموں سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی ایک خاتون کی موت کے بعد کورونا ٹیسٹ مثبت آنے سے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے۔ ان ہلاکتوں کے بعد لوگوں میں ایک دہشت کا ماحول بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔