کنڈلور جاتے وقت شرپسندوں کی طرف سے بھٹکل قاضی کی کار روکنے اور ہراساں کرنے کا معاملہ؛ کیا میڈیا میں غلط خبرچھپی ہے ؟

Source: S.O. News Service | Published on 13th January 2020, 2:03 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 13/جنوری (ایس او نیوز) جمعہ کے دن عصر کے وقت کنڈلور مدرسہ ضیاء العلوم کے پروگرام میں شرکت کے لئے جاتے وقت شرپسندوں کی جانب سے بھٹکل جماعت المسلمین کے قاضی جناب ملامحمد اقبال ندوی صاحب کی کار کو روکنے اور ہراساں کرنے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس معاملے کے تعلق سے سنیچر کی شام کو بیندور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی گئی ہے۔

 کار کے ڈرائیور محمد سنان کوبٹے کی طرف سے بیندور پولیس اسٹیشن میں چند اجنبی شرپسندوں کے خلاف درج کی گئی شکایت کے مطابق جب وہ بھٹکل کے قاضی ملا محمداقبال ندوی صاحب کواپنی سوِیفٹ کار میں کنڈلور لے جارہا تھا تونیشنل ہائی وے 66 پر شیرور کے پاس سے ایک ویگن آرکار میں سوار کچھ لوگوں نے  بار بار ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔

پھر جب قاضی صاحب کی کار بیندور سے آگے بیجور کے مقام پر پہنچی تو دیکھا کہ اسی کار میں سوار شرپسند سڑک روک کر کھڑے ہوگئے ہیں اور زبردستی کار ڈرائیور کو باہر نکلنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ وہاں پر کار میں سوار پانچ اجنبی افراد نے جئے شری رام اور پاکستان چلے جاؤ جیسے نعرے لگائے۔ قاضی صاحب جس کار میں موجود تھے اس پر لات مارتے ہوئے کار کو نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

اطلاعات کے مطابق نیشنل ہائی وے پر قاضی صاحب کی کار کوروکنے کے بعد ان لوگوں نے کار کے اندر موجود لوگوں کو باہر نکالنے اور ان سے جھگڑا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو شرپسند تھے وہ اس بات پر زیادہ برہم تھے کہ قاضی صاحب کی کار میں موجود لوگ اور اس کا ڈرائیور اردو اور ہندی میں کیوں بات کررہے ہیں۔ وہ اس بات کی ضد کررہے تھے کہ ان کے ساتھ کنڑا زبان میں بات چیت کی جائے۔ اس دوران کار پر لاتیں بھی ماری گئیں جس سے کار کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قاضی صاحب نے سمجھا بجھا کر معاملہ کو رفع دفع کردیا جس کے بعد قاضی صاحب کنڈلور میں منعقدہ پروگرام میں شریک ہونے کے لئے اپنا سفر جاری رکھا۔

قاضی صاحب کے ساتھ پیش آئے واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھٹکل کے عوام میں  تشویش کی لہر دوڑ گئی اور عوام میں واقعے کو لے کر سخت ناراضگی دیکھی گئی۔ خبر ملتے ہی جماعت السلمین بھٹکل کے ذمہ داران سمیت قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داران بھی قاضی صاحب سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی جانکاری حاصل کی ساتھ ساتھ بیندور پولس انسپکٹر کو بھی فون کے ذریعے جانکاری دیتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

کار ڈرائیور کی دی گئی شکایت پر بیندور پولیس نے کیس درج کرلیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔

بعض میڈیا کی غلط بیانی: بھٹکل قاضی صاحب کی کار کو زبردستی روک کر اُنہیں ہراساں کرنے کے تعلق سے بعض میڈیا میں خبرچھپی ہے کہ قاضی صاحب کی کار جب شیرور کے قریب پہنچی تھی تو ان کی کارایک ویگن آرکارکو سائیڈ سے چھوکر نکل گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ ویگن آر کار والوں نے ان کی کار کو پہلے رُکنے کا اشارہ کیا، مگر ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی، بعد میں ویگن آرکار والوں نے بیجور میں قاضی صاحب کی کار کو زبردستی روکا تھا اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

مگراس تعلق سے سینان کوبٹے کو پوچھے جانے پرانہوں نے اس تعلق سے تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا، اُدھر بیندور پولس انسپکٹر نے ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہیں کسی کار کو چھونے کے تعلق سے کوئی جانکاری نہیں ملی ہے اور نہ ہی کسی نے اپنی گاڑی کو چھوکر نکلنے جیسی کوئی شکایت درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویسے تو قاضی صاحب کی کار کو قریب آدھا گھنٹہ روک کر ہراساں کئے جانے کے تعلق سے ڈرائیور سینان نے بتایا ہے مگر تعجب اس بات پر ہے کہ اُس نے کار کا نمبر بھی نوٹ نہیں کیا، جس کی وجہ سے متعلقہ کار کا ابھی تک پتہ نہیں چل پایا ہے۔ انسپکٹر نے بتایا کہ واقعے کے تعلق سے چھان بین جاری ہے۔

ہائی وے پر حفاظتی بندوبست سخت کرنے کا مطالبہ:  بھٹکل کے قاضی کی کار کو روک کر اُنہیں ہراساں کئے جانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد شہر کے کئی ایک ذمہ داران سمیت مقامی عوام  نے زور دیا ہے کہ متعلقہ کار کا پتہ لگاتے ہوئے قاضی صاحب کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے، ساتھ ساتھ  نیشنل ہائی وے پرسخت حفاظتی بندوبست کیا جائے،ان کا کہنا ہے کہ روزانہ ہزاروں اور لاکھوں سواریاں ہائی وے پر سے گذرتی ہیں، ایسے میں یہاں حفاظتی بندوبست ٹھیک طرح سے نہ ہونے سے اس طرح کے مزید واقعات پیش آنے کے امکانات ہیں، ذمہ داران سمیت عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی وے پر پولس کی پٹرولنگ بڑھائی جائے اور شرپسند عناصروں پر قابو پانا یقینی بنایا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

کیرالہ میں پیش آیا چٹان کھسکنے کا خطرناک حادثہ۔ 15ہلاک اور60سے زائدافراد ہوگئے لاپتہ۔ ملبے میں دب گئیں 30جیپ گاڑیاں 

کیرالہ کے مشہور تفریحی مقام ’مونار‘ سے قریب ’ایڈوکی‘ میں چٹان کھسکنے کا ایک خطرناک حادثہ پیش آیا جس میں تاحال 15افراد ہلاک ہونے اور 60سے زیادہ لوگ لاپتہ ہونے کے علاوہ 30جیپ گاڑیاں چٹان کے ملبے میں دب کر رہ جانے کی خبر ہے۔