توہین آمیز فیس بک پوسٹ اور اس پر تشدد دونوں قابل مذمت

Source: S.O. News Service | Published on 13th August 2020, 8:49 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍اگست (ایس او نیوز) شان رسالتﷺ میں گستاخی کرتے ہوئے کئے گئے ایک فیس بک پوسٹ اور اس کے نتیجے میں شہر بنگلورو میں گزشتہ روز پیش آنے والے پر تشدد واقعات کی مذمت کے لئے چہار شنبہ کی صبح ممتاز علمائے کرام وقائدین کی زوم کانفرنس کے ذریعے ایک میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں شان رسالتﷺ میں گستاخی کرتے ہوئے فیس بک پر شائع کئے گئے پوسٹ کے لئے ذمہ دار نوین نامی کارکن کے خلاف کاروائی کرنے میں پولیس کی طرف سے کی گئی تاخیر کی مذمت کی گئی اور محسوس کیا گیا کہ پولیس کی طرف سے کاروائی کرنے میں تاخیر کے سبب اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔

ان پرتشدد واقعات کو روکنے کےلئے پولیس کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں تین لوگوں کی موت واقع ہوگئی اس پر بھی میٹینگ میں افسوس کا اظہار کیا گیا۔ تمام شرکائ نے کہا کہ اس معاملہ کو لے کر قانون ہاتھ میں لینے اور توڑ پھوڑ یا آتش زنی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ بلکہ تحمل کے ساتھ اس کے خلاف جمہوری طریقے سے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کاروائی کے لئے زور دیا جا سکتا تھا۔ اس میٹینگ میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ ان تمام واقعات کی غیرجانبدارانہ طریقے سے جانچ کروائے اور گستاخ رسول ﷺ سمیت اس تشدد کے لئے ذمہ دار تمام عناصر کی نشاندھی کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی کی جائے۔ جن لوگوں نے تشدد برپا کیا، عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا وہ یقینا سزا کے مستحق ہیں۔

جذبات چاہے جو بھی ہو لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ جذبات اور قانون الگ الگ ہیں۔ جذبات کی رو میں بہہ کر قانون ہاتھ میں لینا اور معصوموں کو نقصان پہنچانے کی مذہب اسلام میں بھی اجازت نہیں ہے۔ اس موقع پر تمام شرکائ نے عوام بالخصوص مسلمانوں سے اپیل کی کہ ان نازک حالات میں تحمل سے کام لیں اور جذباتی نہ ہوں بلکہ کسی حلقہ سے اشتعال انگیزی کی صورت میں قانون کا سہارا لیں۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ جذبات اگر قابو میں نہ رکھے گئے تو اس کا نقصان پوری امت کو جھیلنا پڑ سکتا ہے۔

اس میٹنگ میں شریک ہونے والوں میں مولانا صغیر احمد خان صاحب امیر شریعت کرناٹک، ڈاکٹر رحمنٰ خان صاحب سابق مرکزی وزیر، ناصر حسین صاحب رکن پارلیمان، مفتی محمد اسلم رشادی رکن شوریٰ مرکز سلطان شاہ، بنگلور، مفتی افتخار احمد قاسمی ، صدر جمیعتہ علمائ کرناٹک، مولانا مقصود عمران رشادی امام و خطیب جامع مسجد بنگلور سٹی، مولانا شبیر احمد ندعی مدرسہ اصلاح البنات ، بنگلور، مولانا زین العابدین رشادی و مظاہری دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور، مولانا ذوالفقار نوری، امام جامعہ حضرت بلال، بنگلور، مولانا اعجاز ندوی، امام و خطیب مسجد اہل حدیث، چارمینار، بنگلور، ڈاکٹر محمد سعد بلگامی، امیر جماعت اسلامی کرناٹک، این اے حارث رکن اسمبلی، جناب آغا سلطان صاحب ماعت شیعہ، مولانا عبد الرحیم رشیدی، صدر جمیعہتہ العلمائ کرناٹک، ایس آر مہروز خان سماجی کارکن شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس اور جے ڈی ایس لینڈریفارم ترمیمی ایکٹ کی سخت مخالف، کسانوں کے حقوق اورزمین کی حفاظت کیلئے جدوجہدکریں گے:سدارامیا

کسانوں کے حقوق کے ساتھ ان کی زمینوں سے بھی بے دخل کرنے پرآمادہ ریاستی حکومت کے لینڈریفارم ایکٹ کے ترمیمی مسودہ کے خلاف اسمبلی سیشن میں نہایت سختی کے ساتھ آوازاٹھائیں گے۔