منی رتنا کے دفتر کے باہر دھماکے کی جانچ جاری 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 21st May 2019, 11:07 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 21مئی (ایس او نیوز) کل شہر کے ویالی کاول علاقے میں راجہ راجیشوری نگر کے رکن اسمبلی منی رتنا کی رہائش گاہ کے قریب ہوئے پراسرار کیمیکل دھماکے اور اس میں منی رتنا کے ایک ملازم کی موت کا معاملہ پولیس کے لئے ایک معمہ بناہوا ہے۔ پولیس اب بھی اس سوال کا جواب دھونڈ نہیں پائی ہے کہ آخر رکن اسمبلی نے اپنے دفتر کے قریب دھماکہ خیز کیمیکل کیوں رکھا تھا اور کل اس دھماکے میں ہلاک وینکٹیش یہ کیمیکل کہاں لے جانا چاہتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن اسمبلی کے گھر میں گزشتہ سال اس کیمیکل کے 30کیان لائے گئے تھے، حیدرآباد سے لایا گیا کیمیکل فلم کے سیٹ وغیرہ تیار کرنے میں استعمال کئے گئے، باقی ایک کیان رہ گیا تھا۔ بتایا جاتاہے کہ اس کیمیکل کا استعمال پی او پی سے تیار ہونے والے فلم سیٹوں میں کیا جاتا ہے۔ کل رکن اسمبلی کے دفتر کے قریب رکھا گیا کیان وینکٹیش کہیں لے جانا چاہتا تھا کہ اس میں اچانک دھماکہ ہوگیا اور وینکٹیش کے چھیتڑے اڑ گئے۔ پولیس اس معاملے کی مزید جانچ کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو کی خواتین اب بھی ”گلابی سارتھی“ سے واقف نہیں ہیں

بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے اسی سال جون کے مہینہ میں خواتین کے تحفظ کے پیش نظر اور ان پر کی جانے والے کسی طرح کے ظلم یا ہراسانی سے متعلق شکایت درج کرانے اور فوری اس کے ازالہ کے لئے 25 خصوصی سواریاں جاری کی تھی جنہیں ”گلابی سارتھی“ کا نام دیا گیا،

بی ایم ٹی سی کے رعایتی بس پاس کے اجراء کی کارروائی اب بھی جاری مگر کارپوریشن نے اب تک 38,000 درخواستیں مسترد کی ہے

بنگلور میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) نے طلباء کی طرف سے رعایتی بس پاس حاصل کرنے کے لئے داخل کردہ کل 38,224 درخواستوں کو اب تک رد کر دیا ہے اور اس کے لئے یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے تعلیمی اداروں کی طرف سے ان طلباء کی تفصیلات مناسب انداز میں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔