بارشوں کے دوران بجلی کی مسلسل کٹوتی،کے پی ٹی سی ایل ذمہ دار؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2019, 11:11 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،13؍جون(ایس او نیوز) پچھلے کچھ ہفتوں سے شہر میں بارشوں کے ساتھ ہی بجلی کی سربراہی میں رکاوٹوں اور مسلسل کٹوتی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، خاص طور پر دیونا ہلی، کورمنگلا، چامراج پیٹ، سٹی مارکیٹ، مروگیش پالیہ، ناگرا بھاوی اور بیگور کے مکین روزانہ دو سے تین گھنٹوں کی بجلی کی سربراہی میں رکاوٹ کی وجہ سے پریشان ہوتے رہے ہیں -لیکن بیسکام کے افسران کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ جو بجلی کی کٹوتی ہورہی ہے اس کی وجہ بارشوں کے نتیجہ میں کئی مقامات پر درختوں اور بجلی کے کھمبوں کا گرجانا ہے اس کے علاوہ ٹرنک کیبل بھی خراب ہو گئے ہیں اور فیڈر بھی مناسب نہیں رہے ہیں - انہوں نے بجلی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے لئے کرناٹک پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ٹی سی ایل) کے کاموں اور ٹرانسفارمروں میں اوور لوڈنگ کو ذمہ دار قرار دیا-جب بھی شہر کے کسی علاقہ میں بارش ہوتی ہے تو بیسکام ہیلپ لائن کو فون کالس کی بھر مار ہو جاتی ہے-جہاں کچھ لوگوں کو اپنی شکایتیں درج کراکے ڈاکٹ نمبر حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی وہیں اکثر لوگوں کی شکایت یہ رہی کہ بیسکام کی مذکورہ ہیلپ لائن (1912) زیادہ تر پہنچ سے باہر ہی رہتی ہے اس کے علاوہ جو واٹس ایپ نمبر فراہم کیا گیا ہے اس سے بھی کوئی مدد حاصل نہیں ہورہی تھی-مرکزی کاروباری ضلع کے علاقے جیسے رھینس اسٹریٹ، لیویلی روڈ، اور ڈی سوزا روڈ وغیرہ کے مکین بھی پچھلے ایک ہفتہ کے دوران تقریباً ہر دن ہی غیر معلنہ بجلی کی کٹوتی سے دو چار ہو رہے ہیں -کولج کے طالب علم پراتولیا سنگھ کا کہنا ہے کہ ہر دوسرے دن، روزانہ دو دو گھنٹوں تک انہیں پاور کٹ سے دوچار ہونا ہی پڑتا ہے -بیسکام کے ایک افسرنے بتایا کہ بعض علاقوں میں نئے ڈسٹریبیوشن آٹومیشن سسٹم (ڈی اے ایس) کی وجہ سے بجلی کی کٹوتی ہو رہی ہے-انہوں نے بتایا کہ ”سال کے ان دنوں میں عام طور پربجلی کے استعمال میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے، جب زیادہ پاور استعمال کیا جاتا ہے تو ایک سے دوسرے ٹرانسفارمر کی طرف منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک سو پچاس فیڈر پائے جاتے ہوں،خاص طور پر مضافاتی علاقوں میں بجلی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسٹیشنوں کی تعداد جتنی تھی اتنی ہی ہے“-

ایک نظر اس پر بھی

کیرالہ کے وائناڈمیں ٹیچراور انتظامیہ کی غفلت کا دردناک انجام۔ کلاس روم میں سانپ کاٹنے سے بچی کی موت۔ طلبہ کا احتجاج۔ ٹیچراور ڈاکٹر معطل

کیرالہ کے سیاحتی مقام وائناڈ میں واقع سرکاری سرواجناہائر سیکنڈری اسکول کے ٹیچر اورانتظامیہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے پانچویں جماعت میں پڑھنے والی معصوم طالبہ کی جان چلے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

انکولہ اور گوکرن میں پوجا کے لئے پہنچے کانگریس دگج لیڈر ڈی کے شیوکمارنے کہا’ضمنی انتخابات پارٹی کے لئے نہیں بلکہ  رائے دہندگان کے وقار کا سوال ہے‘

ریاست میں ہورہے ضمنی انتخابات رائے دہندگان کے لئے ایک وقار بن گیا ہے ، ان انتخابات میں میری یا کانگریس کے وقار کاسوال نہیں ہے، ووٹروں کی خود اعتمادی کو دھکا لگاہے، اس کا وہی صحیح اور ٹھیک ٹھیک جواب دیں گے۔ کانگریس کے دگج لیڈر ڈی کے شیوکمار نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

سڑک حادثات میں کرناٹک چوتھے مقام پر

حالیہ برسوں میں سڑک حادثات بکثرت پیش آرہے ہیں - پیش آمدہ حادثات کے پیش نظر قومی سطح پر ایک سروے کے ذریعہ سڑک حادثات کی کثرت والی ریاستوں کی فہرست تیار کی گئی ہے-

بی جے پی میں نااہل ارکان اسمبلی کی شمولیت اور ضمنی انتخابات کو لے کر مسائل کے انبار: پرانے لیڈران اور کارکنان کے ساتھ مفاہمت اور ہم آہنگی کا فقدان

ریاست کرناٹک کے 15حلقوں میں ضمنی انتخابات ہورہے ہیں جن میں 13حلقوں سے نااہل قرار دئیے گئے ارکان اسمبلی انتخابی میدان میں ہیں، کئی حلقوں میں نااہل ارکان اسمبلی کے حمایتیوں اور مقلدوں کا زور ہونے کی وجہ سے بی جےپی کے اصل کارکنان کو اپنی شناخت بچائے رکھنے کی فکر ستا رہی ہے۔ خبر ملی ...

پتور دوہرے قتل معاملے کو جنوبی کینرا پولیس نے 24گھنٹوں میں حل کردیا۔ ملزم کریم خان گرفتار

پتور میں آدھی رات کو جو وحشتناک دوہرا قتل ہواتھا اور ایک بزرگ خاتون سنگین طور پر زخمی ہوگئی تھیں، اس معاملے کو جنوبی کینرا پولیس نے بڑی سرعت دکھاتے ہوئے 24گھنٹوں کے اندر حل کردیا اور ملزم کریم خان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

یلاپور ضمنی انتخاب: ضلع میں بدلتی ہوئی کانگریس کی پوزیشن۔ اتی کرم داروں کے قائداور جنتادل ایس کے لیڈر رویندرانائک تھام سکتے ہیں کانگریس کا ہاتھ

کانگریس پارٹی سے بغاوت اور مخلوط حکومت کو گرانے کا سبب بننے والے شیو رام ہیبار کے لئے بی جے پی نے اپنا ٹکٹ تو دے دیا ہے، لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات سے لگ رہا ہے کہ سابق ضلع انچارج وزیر اور ہلیال کے رکن اسمبلی آر وی دیشپانڈے کی طرف سے شیورام ہیبار کی جیت دشوار کرنے کا پورا انتظام ...