بریلی: دلت سے شادی پر بیٹی کودھمکی، بی جے پی ممبر اسمبلی نے دی صفائی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 10:54 PM | ملکی خبریں |

بریلی، 11 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کے بریلی ضلع کے بتھری چین پور سے بی جے پی ممبر اسمبلی راجیش کمار مشرا نے اپنی بیٹی ساکشی کے دلت نوجوان سے شادی کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے الزامات کو سرے سے مسترد کر دیا ہے۔مشرا نے کہا کہ انہوں نے یا ان کے خاندان نے کوئی دھمکی نہیں دی ہے۔ممبر اسمبلی راجیش مشرا نے یہ بھی کہا کہ ان کی بیٹی بالغ ہے اور کوئی بھی فیصلہ لینے کو آزاد ہے۔ساکشی کے والد راجیش کمار مشرا نے ایک بیان جاری کر کہاکہ میری بیٹی بالغ ہے اور اسے اپنے فیصلے لینے کا حق ہے،میں نے کسی کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی نہیں دی ہے، نہ ہی میرے کسی آدمی نے دی ہے اور نہ ہی میرے خاندان کے کسی شخص نے دی ہے،میں اور میرا خاندان اپنے کام میں مصروف ہیں،میری طرف سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس دوران بریلی پولیس نے بھی کہا کہ اگر ساکشی ان سے سیکورٹی مانگتی ہیں تو انہیں مکمل تحفظ مہیا کرائی جائے گی۔ایس ایس پی بریلی نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ ہم نے سوشل میڈیا میں جوڑے کی طرف سے پوسٹ کیا گیا ویڈیو کو دیکھا ہے،اگر وہ تحفظ کے لئے کہیں گے تو ہم یقینی طور پر انہیں تحفظ مہیا کرائیں گے۔اس سے پہلے ساکشی نے اپنے والد پر دھمکانے اور پریشان کرنے کا الزام لگایا تھا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ساکشی نے نامعلوم مقام پر گاڑی میں بیٹھ کر یہ ویڈیو بنائی ہے۔ویڈیو میں ساکشی نے کہا کہ انہوں نے ایک دلت نوجوان اجتیش کمار سے محبت کی شادی کی ہے، تووالدراجیش مشرااوران کے حامی ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔یہی نہیں، وہ لوگ شوہر کے خاندان کو بھی دھمکا رہے ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زَبردست ہنگامہ

ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

مودی حکومت نے لوک سبھا میں ’آر ٹی آئی‘ ختم کرنے والا بل پیش کیا: کانگریس

  کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ’کم از کم گورنمنٹ اور زیادہ سے زیادہ گورننس‘ کی بات کرنے والی مرکزی حکومت لوگوں کے اطلاعات کے حق کے تحت حاصل حقوق کو چھین رہی ہے اور اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔